نئی دہلی:(ایجنسی)
دہلی کی ایک عدالت نے گزشتہ سال شہر کے شمال مشرقی علاقے میں ہونے والے فسادات سے متعلق ایک کیس میں ایک ملزم کو بری کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرقہ وارانہ تشدد کے مقدمات کو انتہائی حساسیت کے ساتھ سمجھا جانا چاہیے لیکن عملی حکمت کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسا نہیں کیا جانا چاہیے۔
ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو نے 22 سالہ جاوید کو ’آگ یا دھماکہ خیز مواد سے چوٹ پہنچانے‘ کے الزام سے بری کردیا اور کہا کہ شکایت کنندگان کے بیان سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ متعلقہ جرم ہواتھا۔
جج نے کہاکہ ’ یہ عدالت اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ فرقہ وارانہ فساد ات سے جڑے معاملے میں انتہائی حساسیت کے غور کیا جانا چاہئے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عملی حکمت کر ترک کردیاجائے۔ اس مرحلے میں بھی ریکارڈ میں دستیاب چیزوں کے حوالہ سے دماغ لگایا جاناچاہئے۔
چار افراد کے ذریعہ دائر شکایات کی بنیاد پر ملزم جاوید کو اپریل 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ شکایت کنندہ نے دعویٰ کیا تھا کہ 25 فروری 2020 کو فسادی بھیڑ نے ان کے گھر ، گودام اور دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی تھی۔
عدالت نے اس بات پر غور کیا کہ واقعہ کا کوئی چشم دید گواہ ،کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج یا تصویر نہیں ہے، اس نے اس حقیقت کا بھی نوٹس لیا کہ شکایت کنندگان نے بھیڑ کے ذریعہ آگ یا دھماکہ خیز مواد سے نقصان پہنچائے جانے کے بارے میں ایک بھی الفاظ نہیں کہا۔









