دیوبند کوتوالی کے انسپکٹر نریندر کمار شرما کا تمام مذاہب کے لوگوں کی میٹنگ
میں ہندو دہشت گردی کو بطور مثال استعمال کرنا مہنگا ثابت ہوا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایس ایس پی آشیش تیواری نے انہیں معطل کر دیا۔ تاہم، پولیس انسپکٹر کا کہنا ہے کہ ان کا کبھی کسی کو ناراض کرنے کا ارادہ نہیں تھا، لیکن ایک ادھوری ویڈیو وائرل ہوئی ہے۔
دراصل دہلی بم دھماکوں کے بعد طرح طرح کی افواہیں پھیل رہی تھیں۔ ان افواہوں سے ماحول کو خراب کرنے سے روکنے کے لیے انسپکٹر نریندر شرما نے پولیس اسٹیشن میں تمام مذاہب کے لوگوں کی میٹنگ بلائی۔ اس ملاقات میں انہوں نے باہمی ہم آہنگی کی وکالت کی اور کہا کہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔
ہندی دینک امراجالا نے بتایا کہ انہوں نے نکسلیوں کے ہندو ہونے کی مثال دی،وائرل ویڈیو کے مطابق انہوں نے کہا کہ کئی دہشت گرد بحریہ میں پکڑے گئے، کئی دہشت گرد فوج میں پکڑے گئے، اور پنجاب میں کئی ہندو دہشت گرد بھی پکڑے گئے۔ یہ تصور غلط ہے کہ صرف مسلمان ہی دہشت گرد ہیں۔ وہ کسی بھی مذہب کے ہو سکتے ہیں۔ اس دوران کسی نے اس واقعے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دی۔اس سے بحث اور ہنگامہ برپا ہو گیا۔ یہ ویڈیو لکھنؤ پہنچی، جس کے بعد ایس ایس پی آشیش تیواری نے جمعرات کو انسپکٹر نریندر شرما کو معطل کر دیا۔ تاہم، انسپکٹر کا کہنا ہے کہ ویڈیو کا صرف ایک حصہ وائرل کیا گیا تھا، جب کہ پوری ویڈیو کو سننے سے یہ واضح ہو جائے گا کہ اس کا مقصد کسی مذہب پر سوال اٹھانا نہیں تھا۔
دیوبند کے انسپکٹر نریندر شرما کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی حمایت میں مختلف پوسٹس آنے لگے۔ بجرنگ دل دیوبند کے سابق ریاستی کنوینر وکاس تیاگی نے ان کے کام کرنے کے انداز کی تعریف کی اور ویڈیو کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے والے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
بین الاقوامی بجرنگ دل کے ضلع صدر وکاس سینی نے کہا کہ کچھ شرارتی عناصر نے غلط طریقے سے ان کا ویڈیو وائرل کر دیا۔ جبکہ سچ یہ ہے کہ نریندر شرما ایک محنتی اور صاف ستھرے انسان ہیں۔ گئؤ رکھشا دل کے قومی صدر ہریش پنوار نے کہا کہ ویڈیو میں ردوبدل کی گئی ہے اور اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔








