واشنگٹن : (ایجنسی)
امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران جمہوری اقدار پر ہورہے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات جمعرات کی رات ہوئی تھی ۔
ستیہ ہندی ڈاٹ کام کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ میں ہیں۔ وہ پہلے عالمی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے ، کئی میٹنگیں کریں گے اور امریکی صدر جوبائیڈن سے ملاقات کریں گے ۔
اس تسلسل میں وہ بھارتی وقت کے مطابق جمعرات کی رات کملا ہیرس سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران امریکی نائب صدر نے کہا کہ ’دنیا کی جمہوریت خطرے میں ہے ، یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے ملک میں جمہوری اصولوں اور اداروں کی حفاظت کریں ۔‘ انہوں نے مزید کہا ، ’میں اپنے ذاتی تجربات اور خاندانی تجربات کی بنیاد پر یہ جانتی ہوں کہ بھارت کے لوگ جمہوریت کے لیے کتنے پرعزم ہیں ۔ ‘
انہوں نے مزید کہا ، ’میں یہ بھی جانتی ہوں کہ اس کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے کہ ہم اپنی جمہوری اقدار اور اداروں کو بچانے کا تصور کریں اور پھر انہیں حقیقی معنوں میں حاصل کریں ۔‘
کملا ہیرس کا یہ بیان اہمیت کا حامل ہے کہ اس سے بھارتیہ وزیر اعظم اور حکمراں جماعت کے تئیں امریکہ کے رویہ میں تبدیلی کی عکاسی کرتاہے ۔
مغربی ممالک میں بی جے پی کو ایک ہندو قوم پرست جماعت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور یہ وسیع پیمانے پر سمجھا جاتا ہے کہ یہ پارٹی اور اس کی حکومت اقلیتی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی ہے اور اس کے لوگ انہیں نشانہ بناتے ہیں۔
یہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے رویے سے ہٹ کر ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نریندر مودی اور بی جے پی کے نزدیک تھا ، دونوں کے کام کاج کا طریقہ ایک تھا اور ٹرمپ کو بھی امریکی قوم پرستی کو آگے بڑھانے والا اور امریکہ فرسٹ کا نعرہ دینے والا سمجھا جاتا تھا ۔ حالانکہ امریکی نائب صدرنے کسی کا نام نہیں ،مگر مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ بی جے پی اور وزیر اعظم کا ذکر کررہی تھیں۔









