نئی دہلی : (ایجنسی)
ہیٹ اسپیچ روکنے کے لیے اس کی دیگر ممالک میں پالیسی ، امریکہ میں کئے جارہے اقدامات اور بھارت میں کئے جارہے اخراجات کاموازانہ بھی پوچھا گیا ہے ۔ یہ سوال اس لحاظ سے اہم ہے کہ بھارت میں 40 کروڑ ایف بی یوزر ہونے کے باوجود کمپنی ہیٹ اسپیچ روکنے کے بارے میں 87 فیصد خرچ امریکہ میں کرتی ہے ۔
بھاسکر کو موصول معلومات کے مطابق کیرالہ سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور کی سربراہی والی پارلیمانی کمیٹی بھی معاملے کو نوٹس میں لے گی ۔ وہسل بلوور فرانسس ہوگن کے انکشاف کےبعد پارلیمانی کمیٹی فیس بک کے نمائندوں کو گواہی کے لیے طلب کرنے سے لے کر ہوگن کو اپنا موقف خود رکھنے یا اپنی رپورٹ بھیجنے کے لیے بھی کہہ سکتی ہے ۔ سرکار اور پارلیمانی کمیٹی پر سول سوسائٹی کا بھی دباؤ بڑ رہا ہے ۔
انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن (آئی ایف ایف) نے آئی ٹی کمیٹی کے چیئرمین تھرور اور اس کے دیگر ارکان کو ایک خط لکھ کر مانگ کی ہے کہ فیس بک امتیازی سلوک کے انکشاف کرنے والے فرانسس ہوگن اور صوفیہ ژانگ کو بھی فیس بک کی اندرونی سچائی جاننے کے لیے بلایا جانا چاہئے۔ ہوگن کے حوالہ سے آئی ایف ایف نے کہا ہے کہ بھارت کو ہیٹ اسپیچ کے معاملے میں ہائی رسک ممالک میں شمار کرنے کے باوجود فیس بک اس مارکیٹ کی حفاظت پر کوئی توجہ نہیں ہے۔
خط کے مطابق بھارت میں فیس بک پر ہر گھنٹے میں 10 سے 15 لاکھ کے درمیان غلط معلومات کے تاثرات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔ کمیٹی سے مانگ کی گئی ہے کہ وہ بھارت میں فیس بک کے صدر نائب صدر اجیت موہن کو بھی طلب کرے تاکہ غیرجانبدارانہ جانچ ہو سکے۔ آ ئی ایف ایف نے دلیل دی ہے کہ وہسل بلوور ہوگن اور ژانگ کی گواہیاں امریکہ اور برطانیہ کی پارلیما نی کمیٹی کے سامنے ہوچکی ہیں ۔ ہیٹ اسپیچ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کے ناطے بھارت کو بھی یہ قدم اٹھانا چاہئے۔








