جب حماس نے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے پر محتاط اور سنجیدہ ردعمل جاری کیا تو اس سے غزہ میں لوگوں کو خاصی حیرت ہوئی۔
سینکڑوں فلسطینیوں نے سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی: ’کیا جنگ ختم ہو گئی ہے ؟ یہ خواب ہے یا حقیقت؟۔‘حماس کا بیان، جو مبینہ طور پر ثالثوں کی مدد سے تیار کیا گیا، اس میں براہِ راست انکار سے گریز کرتے ہوئے ٹرمپ کے منصوبے سے اتفاق کیا گیا ہے۔۔ جس نے گیند اسرائیل کے کورٹ میں واپس ڈال دی ہے۔
موجودہ ردعمل میں امید اور شبہات دونوں شامل ہیں۔ کچھ فلسطینیوں کو خوف ہے کہ حماس جال میں پھنس گئی ہے اور اسرائیل یرغمالیوں کی واپسی کے بعد دوبارہ جنگ شروع کر دے گا۔ جبکہ دیگر اسے دو سالہ تباہی کے خاتمے کا تاریخی موقع سمجھتے ہیں۔
غزہ میں رہنے والے ابراہیم فارس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’صبر کریں، جلدی خوش نہ ہوں۔ تفصیلات پر متعدد مذاکرات ہوں گے۔ شیطان ہمیشہ تفصیلات میں چھپا ہوتا ہے۔ خدا کرے کہ یہ آگے بڑھے، مگر لبنان کو دیکھیں، وہاں ابھی بھی بے گھر لوگ ہیں اور فضائی حملے جاری ہیں۔‘محمود داھر نے فیس بک پر لکھا کہ حماس کا ردعمل غیر معمولی تھا کیونکہ یہ براہِ راست تھا: ’اس بار فوراً ’لیکن‘ نہیں آیا۔ یرغمالیوں کی رہائی، جنگ کا خاتمہ اور فلسطینی اتھارٹی کو اختیارات منتقل کرنا سب ’ہاں‘ تھا۔ یہاں تک کہ حماس نے ٹرمپ کی تعریف بھی کی۔‘تاہم سب قائل نہیں ہیں۔ حماس کے طویل عرصے سے ناقد خلیل ابو شمّالہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ تحفظِ اقتدار کے لیے تھا: ’یہ حکمت یا عوام کو ترجیح دینے کا نام دے سکتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ حماس طاقت میں رہنا چاہتی ہے۔ مجھے شک ہے کہ حماس نے خود یہ بیان لکھا۔۔۔ یہ بہت ہوشیار ردِعمل تھا۔‘فی الحال غیر یقینی کی فضا غالب ہے۔ امید موجود ہے مگر شک بھی ہے۔۔۔ فلسطینی دیکھ رہے ہیں کہ کیا کاغذ پر لکھے گئے الفاظ واقعی جنگ ختم کرنے کے لیے کافی ہوں گے۔
اسی دوران اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے پہلے مرحلے یعنی یرغمالیوں کی واپسی کے لیے تیاری کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ غزہ پٹی میں فوجی اہلکاروں کی حفاظت سب سے بڑی ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے ’آئی ڈی ایف کے تمام وسائل کو جنوبی کمانڈ کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے‘ تاکہ اہلکاروں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے: ’آپریشنل حساسیت کے پیشِ نظر، تمام فوجیوں کو انتہائی چوکس اور ہوشیار رہنا ہو گا کیونکہ کسی بھی خطرے کو فوری طور پر ناکارہ بنانے کے لیے تیزی سے ردِعمل کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔‘








