برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی عربی سروس کے مطابق غزہ میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ عزالدین الحداد نے امریکی امن منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق عزالدین الحداد نے عندیہ دیا ہے کہ حماس جنگ جاری رکھے گی کیونکہ ان کے مطابق یہ منصوبہ دراصل حماس کو ختم کرنے کے لیے تیار کیا گیا
رواں ہفتے کے آغاز میں ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ قطر میں موجود حماس کی اعلیٰ قیادت اس 20 نکاتی منصوبے کے کچھ پہلوؤں پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ اس منصوبے میں حماس کو غیر مسلح کرنا اور غزہ کی آئندہ حکمرانی سے دستبردار ہونے کی شرط شامل ہے۔تاہم، امن منصوبے کو قبول یا مسترد کرنے میں حماس کے عسکری ونگ کا اثر و رسوخ زیادہ ہے، کیونکہ اس کے پاس غزہ میں موجود باقی 48 یرغمالیوں کا کنٹرول ہے، جن میں سے صرف 20 کے بارے میں خیال ہے کہ وہ اب تک زندہ ہیں۔اس معاہدے میں بڑی رکاوٹ یہ شرط ہے کہ جنگ بندی کے 72 گھنٹوں کے اندر تمام یرغمالیوں کو رہا کیا جائے، جو کہ حماس کی مذاکراتی طاقت کو ختم کر دے گا۔
غزہ میں موجود حماس کے سینیئر رہنما یہ بھی نہیں سمجھتے، خصوصاً پچھلے ماہ دوحہ میں حماس کی سیاسی قیادت کے ارکان کو قتل کرنے کی کوششوں کے بعد، کہ اسرائیل امریکی ضمانتوں کے باوجود اس معاہدے پر عمل کرے گا۔
اس منصوبے کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیا کہ یہ معاہدہ اسرائیلی فوج کو غزہ کے کچھ حصوں تک رسائی جاری رکھنے کی اجازت دے گا، اور ان کی حکومت ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی ’پروزور مخالفت‘ کرے گی، جو امریکی تجویز کے برخلاف ہے جس میں فلسطینیوں کے لیے خود ارادیت اور ریاست کے قیام کی قابلِ اعتبار راہ کی بات کی گئی ہے۔حماس نے واضح کیا ہے کہ جب تک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی، وہ ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہیں ہو گی۔بی بی سی عربی نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ صہیب ٹرمپ کے مجوزہ امن معاہدے سے ناراض ہیں۔ اپنی ٹیم کے ساتھ ملاقات میں صہیب نے کہا کہ وہ اس تجویز کو قبول نہیں کریں گے۔ صہیب کا کہنا ہے کہ جنگ رکے یا نہ رکے، امریکا اور اسرائیل حماس کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی 20 نکاتی تجویز کے مطابق حماس کو جنگ ختم ہوتے ہی اپنے ہتھیار حوالے کرنا ہوں گے۔ نئے فلسطین میں حماس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔صہیب کے مطابق اگر حماس کو ختم کرنا ہے تو لڑائی کے ذریعے ختم ہو ہتھیار کیوں ڈالے تاہم مصر اور قطر حماس کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے قطر نے امریکا سے بھی رابطہ کیا ہے۔
کون ہیں عزالدین الحداد
عزالدین الحداد حماس کے آخری سینئیر بڑے فوجی کمانڈر ہیں۔ فی الحال، حداد حماس کے حوالے سے تمام اہم فیصلے کرتے ہیں۔ یحییٰ سنوار کے قتل کے بعد حداد نے حماس کی کمان سنبھالی۔ حداد کو حماس میں ابو صہیب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
صہیب حماس کے بانی رکن ہیں۔ انہوں نے 1987 میں حماس میں شمولیت اختیار کی اور تب سے وہ اسرائیل کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ابو صہیب کو مارنے کے لیے درجنوں آپریشن کیے گئے لیکن سب ناکام رہے۔ صہیب فلسطینی تنازع میں اپنا پورا خاندان کھو چکے ہیں۔اکتوبر 2023 میں جب حماس اور حزب اللہ نے اسرائیل پر مشترکہ حملہ کیا تو ابوصہیب کو غزہ ڈویژن کی کمان سونپی گئی۔ انہوں نے پورے آپریشن کی نگرانی کی۔ابو صہیب کو زیر زمین آپریشنز چلانے کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔ وہ غزہ سے ترکی اور قطر کا زیر زمین سفر کرتے ہیں۔









