
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری انسانی المیے کا تیز ترین حل حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے اور قیدیوں کی رہائی میں ہے۔جمعرات کو اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ "غزہ کے عوام کی اذیت کا خاتمہ حماس کے ہتھیار ڈالنے اور قیدیوں کی رہائی سے ہی ممکن ہے”۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف جمعرات کو اسرائیل پہنچے، جہاں ان کی کوشش ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے تعطل کا شکار مذاکرات کو نئی راہ دی جائے اور وہاں جاری انسانی بحران سے نمٹا جا سکے۔
وٹکوف نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے اور کینیڈا بھی ان مغربی ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے دوحہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے دونوں فریقین ایک دوسرے پر رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ بنیادی اختلافات میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ اسرائیلی فوج کہاں تک پیچھے ہٹے گی۔ذرائع کے مطابق اسرائیل نے بدھ کے روز حماس کی جانب سے امریکی تجویز پر دیے گئے تازہ ردعمل کا جواب ارسال کیا ہے، جس میں 60 روزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی شقیں شامل ہیں
آگ بجھانے کی کوششیں جاری
اس تمام تر صورتحال کے دوران تل ابیب اور یروشلم میں بڑے عوامی مظاہروں کی توقع کی جا رہی ہے جن میں حکومت سے جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو جن کی حکومت میں ایسے اتحادی شامل ہیں جو غزہ پر مکمل قبضے اور یہودی بستیوں کے دوبارہ قیام کے حامی ہیں، واضح کر چکے ہیں کہ جب تک حماس کا اقتدار ختم نہیں ہوتا اور وہ ہتھیار نہیں ڈالتی، جنگ ختم نہیں کی جائے گی۔
دوسری جانب، حماس نے ہتھیار ڈالنے کے تمام مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔قطر اور مصر، جو جنگ بندی مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں، نے منگل کے روز فرانس اور سعودی عرب کے اُس اعلان کی حمایت کی جس میں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے اقدامات کا خاکہ پیش کیا گیا تھا۔







