ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا پیغام ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہوا جس میں اُنھوں نے آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے تسلسل پر زور دیا اور کہا کہ ’میناب کے سکول کے بچوں سمیت ہلاک ہونے والے تمام ایرانیوں کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔‘انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو فوری طور پر بند کر دینا چاہیے، بصورتِ دیگر انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ آبنائے ہرمز بند رہے گی، میرا عہدہ مجھ سے کئی چیزوں کا تقاضہ کر رہا ہے، ہمیں اپنے دشمن کو شکست دینی ہے۔
ایران کے سرکاری ٹیلی وژن سے مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا پیغام نشر کیا گیا جو انھوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے نئے رہبر اعلیٰ کی حیثیت سے دیا۔ یہ پیغام سرکاری ٹی وی کے ایک میزبان نے پڑھ کر سنایا۔
اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’انھیں مجلسِ خبرگان کے اپنے انتخاب کے فیصلے کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری ٹی وی کے ذریعے معلوم ہوا۔‘
امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے ایران کی جوابی کارروائیوں کے جاری رہنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ’دشمن کے خلاف ایسے دیگر محاذ کھولنے کے بارے میں مطالعہ کیا گیا ہے جہاں اسے کم تجربہ ہے اور وہ شدید کمزور ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر جنگی صورتحال برقرار رہی تو ملکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان محاذوں پر کارروائی کی جائے گی۔‘مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام کے ایک حصے میں یمن میں مزاحمتی محاذ، لبنان میں حزب اللہ اور عراق کی مزاحمتی افواج کا شکریہ ادا کیا۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ شہداء کے خون کے بدلے کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے، اللّٰہ تعالیٰ قوم کی رہنمائی کرنے میں میری مدد فرمائے، ہم پڑوسیوں سے دوستانہ روابط پر یقین رکھتے ہیں، ہم صرف فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور یہ ناگزیر طور پر جاری رکھیں گے۔







