واشنگٹن ڈی سی :
انڈین امریکن مسلم کونسل ( آئی اے ایم سی ) نے فیس بک سے کہا ہے کہ وہ بھارت میں ہیٹ اسپیچ کی متعدی بیماری کے خلاف فوری ایکشن لے ، جس نے ماضی میں تشدد کا ماحول بنایا۔ اس نےوارننگ دی ہے کہ اگر موجودہ صورت حال پر قابو نہیں پایا گیا تو اس کےبھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔
واضح ہو کہ وہسل بلوور فرانکس ہیگن جو فیس بک کےپروڈکٹ منیجر رہ چکے ہیں نے ہیٹ اسپیچ اورنفرت انگیز مواد کو روکنے میں کمپنی کی ناکامی کو طشت ازبام کیاہے۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں بتایاتھاکہ فیس بک اور اس سے متعلق دیگر سوشل میڈیاپلیٹ فارم جیسے وہاٹس ایپ، فیک نیوز ،جھوٹے پروپیگنڈے، نفرت انگیز مواد، لنچنگ ویڈیو ز سے بھرے پڑے ہیں اور ان کی روک تھام کا کوئی میکنزم نہیں ہے۔ ہندوستان فیس بک کا بہت بڑا مارکیٹ ہے ۔ 34 کروڑ صارفین ہیں ، اس مواد کا اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف ذہنوں پر اثر ڈالتا ہے ۔
وال اسٹریٹ جرنل کےمطابق گزشتہ عرصہ اس میں 300 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔ 2019 کےدوران جب پورے ملک میں احتجاجی لہر پھیلی ہوئی تھی ایسے مواد میں زبردست اضافہ دیکھنے کو ملا۔ دہلی فساد کے ایام میں بھی یہی دیکھا گیا ۔ افواہوں اور تشدد پر اکسانےکامواد بھرا پڑا تھا۔
آئی اے ایم ایس کے ایگزیکٹیو ایڈیٹررشید احمد نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت میں فیس بک کی ناکامی میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسلی صفائی میں اس کےخطرناک رول کو ظاہر کرتی ہے ۔ اس نے وارننگ دی ہے کہ اگر حالات کو یونہی چھوڑ دیا گیا تو ہیٹ اسپیچ کامسئلہ ایسے ہی قتل عام کےنتیجہ میں برآمد ہوسکتاہے۔








