اردو
हिन्दी
مارچ 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

عمران پرتاپ گڑھی: مشاعروں کی تہذیب کو نیا زوال عطا کرنے والا’ راک اسٹار شاعر’

3 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
Imran Pratapgarhi Mushaira Culture
0
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

نقطہ نظر :ابوالہول ہوشیارپوری 
عمران پرتاپ گڑھی کا شمار مشاعروں کے معروف اور مقبول شعرا میں ہوتا ہے، ان کی شہرت وہاں وہاں ہے جہاں جہاں اردو بولی یا سمجھی جاتی ہے۔ لیکن شہرت و مقبولیت کے باوجود مشاعروں میں شرکت کرنے والے شعرا جن کی شاعری اردوادب کے زمرے میں آتی ہے عمران پرتاپ گڑھی ان کے ہم پلہ نہیں ہیں۔ دراصل ان کی شاعری اردو بولنے والے عوام کی شاعری ہے جوان کی شہرت کا سبب ہے۔ خوبصورت لب ولہجہ کے شاعر عمران پرتاپ گڑھی 6 اگست 1987ء کو اتر پردیش کے ضلع پرتاپ گڑھ میں پیدا ہوئے۔
آپ نے الہ آباد یونیورسٹی سے ہندی ادب میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 2008ء سے مشاعروں اور کویُ سمیلن میں حصہ لینا شروع کیا – اپنی احتجاجی شاعری، خاص طور پر نظمیں “مدرسے” “ہاں میں کشمیر ہوں” کے ذریعہ شہرت حاصل کی۔
اردو شاعری اور مشاعروں کی روایت صدیوں پر محیط ہے، جہاں ادب، آداب اور نرمی و گفتار کا رواج رہا ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں عمران پرتاپ گڑھی نے اس روایت کے برعکس سامعین کو ایسے بے ہنگم اور جارحانہ انداز سے متعارف کروایا ہے جو بہت سے شعروسخن سے تعلق رکھنے والے نیز اردو زبان وادب کی آبیاری کرنے والوں کے نزدیک مشاعروں کی تہذیبی روایات کے منافی ہے۔
اک عام خیال ہے کہ عمران پرتاپ گڑھی اپنی شاعری کو سیاست اور سماجی تنقید کا پلیٹ فارم بناتے ہیں؛ ان کی نظموں اور اشعار میں واضح طور پر ندرت خیال کے بجائے سیاسی مضامین ہوتے ہیں، مثلاً تشدد اور عدم مساوات۔ گرچہ یہ انداز عوامی بیداری کو جنم دیتا ہے، مگر مشاعرے کے روایتی حسن پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ بہت سے ادیبوں اور شعرا کے مطابق وہ محفل کواحتجاجی اجتماع میں تبدیل کر دیتے ہیں
منور رانا جیسے معتبر شاعر نے بھی عمران پرتاپ گڑھی پر مشاعرے کے آداب سے ناواقف ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا:
“عمران پرتاپ گڑھی مشاعرے کے آداب سے واقف نہیں۔ وہ محفل کو مشاعرہ کم، سیاسی جلسہ زیادہ بنا دیتے ہیں۔ مشاعرہ تہذیب کا گھر ہے، نعرے بازی کا نہیں۔”
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ عمران پرتاپ گڑھی کی مقبولیت نے مشاعروں کو تفریحی ایونٹ بنا دیا ہے؛ انہیں مشاعرہ میں “راک اسٹار شاعر” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ تجارتی و تفریحی رنگ مشاعروں کی معنویت اور وقار کو متاثر کرتا ہے۔ اسی حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ان کا اندازِ پیشکش محفل کے دیگر شعرا کے روایتی احترام کی عکاسی نہیں کرتا؛ وہ مہذب، روایتی تہذیب کے بجائے عوامی جلسے کا انداز اختیار کرتے ہیں جو مشاعرہ کی روح کو زخمی اور ادبی تقدس کو پامال کرتا ہے۔
بعض ناقدین ان کی شاعری کو ضرورت سے زیادہ جذباتی، اشتعال انگیز اور یک رُخی قرار دیتے ہیں۔ ان کے بعض مشاعروں کی ویڈیوز تنازعے کا سبب بھی بنتی ہیں، جنہیں لوگ سماجی تقسیم پیدا کرنے والا سمجھتے ہیں۔ جبکہ مشاعرہ ہمیشہ شعری مکالمہ کا متقاضی رہا ہے، مگر عمران پرتاپ گڑھی کی شاعری میں اکثر یہ پہلو کمزور نظر آتے ہیں۔
عمران پرتاپ گڑھی کی شاعری بنیادی طور پر عوامی شاعری ہے — یعنی وہ شاعری جو گہرائی، فنی پیچیدگی اور عروضی مہارت سے زیادہ ترنم، جذبات کی شدت اور نعرہ زن سامعین پر انحصار کرتی ہے۔ ان کے مداح بڑی حد تک ان کے ترنم کے اسیر ہیں، اور ناقدین کا کہنا ہے: “ان کا ترنم ہی ان کی شاعری ہے” — یعنی اگر ترنم ہٹا دیا جائے تو اشعار کا اثر نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے۔
دوسرےان کا کلام اردوادب کےفنی تقاضوں کو پورا نہیں کرتا اور بے ترتیبی سی دکھائی دیتی ہے لیکن شعری محاسن کے فقدان کے باوجود وہ عوام میں مقبول رہتے ہیں، کیونکہ ان کا ترنم، آواز اور جذبات کو برانگیختہ کرنے کی ادا سامعین کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، لیکن یہ رجحان مشاعرے کی اعلی اقدار کے منافی اور فنی اعتبار سے ذوق سماعت کو کمزور اور سطحی بنا دیتا ہے، کیونکہ سامعین بھی وہی کلام پسند کرنے لگتے ہیں جس میں فکری مشقت اور شاعری کم اور جذباتیت زیادہ ہو۔
معروف ناظمِ مشاعرہ انور جلال پوری نے کہا تھا:“عمران پرتاپ گڑھی کے ترنم میں کشش ضرور ہے، مگر شاعری میں فنی کمزوریاں بہت ہیں۔ وزن اور بحر کا خیال نہ رکھنے سے کلام مشاعرہ کی فنی روایت کمزور کرتا ہے۔ نعرہ تو ہر شخص لگا سکتا ہے، مگر شعر وہ ہے جو وقت کی آزمائش پر قائم رہے۔”
مزید برآں، ان کی شاعری کو سننے والا اسے یاد نہیں رکھ پاتا، یعنی وہ شاعری جو لمحۂ سماعت میں گونج پیدا کرتی ہے مگر دیرپا اثر چھوڑنے میں ناکام رہتی ہے۔ دوسرے ان کی محرومی یہ ہے کہ ان کے سرماۓ میں ایسے اشعار نہیں جو “سگنیچر لائن” بن کر زندہ رہ سکیں — نہ کوئی ایسا مصرعہ جو زبانِ عام پر آ جائے، نہ کوئی ایسا شعر جو کلام کی پہچان بن جائے۔ شاعر وہ ہوتا ہے جسے اس کا ایک شعر بھی امر کر دیتا ہے، مگر عمران پرتاپ گڑھی کا کلام اس بنیادی معیار سے پست محسوس ہوتا ہے۔

یہ تمام عناصر مل کر ان کی شاعری کو وقتی تاثر تک محدود کر دیتے ہیں اور فنی میراث کے لیے خالی چھوڑ دیتے ہیں۔ عمران پرتاپ گڑھی کی شہرت بہت حد تک سوشل میڈیا اور بڑے عوامی ہجوم پر قائم ہے؛ جس نے کلام کی گہرائی کو پس پشت ڈال کر فوری تاثر، سیاسی پیغام اور نعرہ باز شاعری کو زیادہ نمایاں کیا ہے۔ یہ رجحان روایتی غزل، کلاسیکی نظم اور ادبی باریکیوں کی اہمیت کم کر دیتا ہے۔
نتیجتاً مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران پرتاپ گڑھی نے مشاعروں کو نئی سمت ضرور دی ہے، مگر یہ سمت تہذیبی انحطاط کی طرف بڑھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ سیاسی شاعری، تجارتی انداز، عروضی خامیاں، ترنم پر انحصار، محفل کے آداب سے نا آشنائی، یاد نہ رہنے والی نظمیں اور سگنیچر شعر کی عدم موجودگی — یہ سب مل کر مشاعروں کی قدیم، باوقار روایت کو کمزور کرتے ہیں۔ اسی لیے بیشتر ناقدین سمجھتے ہیں کہ عمران پرتاپ گڑھی نے مشاعروں کی تہذیب کو نئی چمک نہیں بلکہ نیا زوال عطا کیا ہے، اور ان کے اثرات مشاعروں کی روایتی تہذیب کو فنا کے قریب لے جا رہے ہیں بشکریہ فیس بک پیج ‘پیاز کےچھلکے‘
(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Malaysia PM Conspiracy Statement
خبریں

یہودی لا بی کی میری حکومت گرانے کی سازش : ملیشیا کے پی ایم کا انکشاف، کہا ایران، غزہ کی آواز اُٹھانا جرم ہے؟

04 مارچ
Mojtaba Khamenei Supreme Leader News
خبریں

"مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب؟”

04 مارچ
Iran Survival War Statement
خبریں

یہ ایران کی بقا کی جنگ ہے، نشانہ گلف ممالک نہیں وہاں موجود امریکی اڈے ہیں: ڈاکٹر عبد المجید حکیم الہی

04 مارچ
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Malaysia PM Conspiracy Statement

یہودی لا بی کی میری حکومت گرانے کی سازش : ملیشیا کے پی ایم کا انکشاف، کہا ایران، غزہ کی آواز اُٹھانا جرم ہے؟

Mojtaba Khamenei Supreme Leader News

"مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب؟”

Iran Survival War Statement

یہ ایران کی بقا کی جنگ ہے، نشانہ گلف ممالک نہیں وہاں موجود امریکی اڈے ہیں: ڈاکٹر عبد المجید حکیم الہی

Iran Strategy Analysis News

ٹاپ لیڈرشپ ختم پھر بھی ہے دم ، ایران کی اسٹریٹجی سمجھنا ہے تو یہ اسٹوری ضرور پڑھیں

Malaysia PM Conspiracy Statement

یہودی لا بی کی میری حکومت گرانے کی سازش : ملیشیا کے پی ایم کا انکشاف، کہا ایران، غزہ کی آواز اُٹھانا جرم ہے؟

مارچ 4, 2026
Mojtaba Khamenei Supreme Leader News

"مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب؟”

مارچ 4, 2026
Iran Survival War Statement

یہ ایران کی بقا کی جنگ ہے، نشانہ گلف ممالک نہیں وہاں موجود امریکی اڈے ہیں: ڈاکٹر عبد المجید حکیم الہی

مارچ 4, 2026
Iran Strategy Analysis News

ٹاپ لیڈرشپ ختم پھر بھی ہے دم ، ایران کی اسٹریٹجی سمجھنا ہے تو یہ اسٹوری ضرور پڑھیں

مارچ 3, 2026

حالیہ خبریں

Malaysia PM Conspiracy Statement

یہودی لا بی کی میری حکومت گرانے کی سازش : ملیشیا کے پی ایم کا انکشاف، کہا ایران، غزہ کی آواز اُٹھانا جرم ہے؟

مارچ 4, 2026
Mojtaba Khamenei Supreme Leader News

"مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب؟”

مارچ 4, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN