نئی دہلی (آر کے بیورو )سرکردہ ہندوستانی مسلم تنظیموں، مذہبی اسکالرز اور سول سوسائٹی گروپس نے پریس کلب آف انڈیا میں ایک پریس کانفرنس کی اور ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں غزہ میں گہرے ہوتے انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔انہوں نے حکومت ہند پر زور دیا کہ وہ جاری اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے مزید پرعزم اور اخلاقی طور پر دلیرانہ کردار ادا کرے۔ اسی دوران یہ بات نوٹ کی گئی کہ پریس کانفرنس میں مولانا ارشد مدنی نام کے اعلان کے باوجود نہیں آسکے وہ تال کٹورہ اسٹیڈیم میں وقف کانفرنس میں بھی نہیں آپائے تھے جبکہ ان کے نام کا اعلان ہوا تھا
میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے سرکردہ اسپیکروں نے غزہ کی صورتحال کو "بے مثال انسانی آفت” قرار دیا اور خبردار کیا کہ بھیانک قحط دستک دے رہا ہے جو تباہی کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ بھوک سے مر رہا ہے۔ بروقت کارروائی میں ناکامی ایک تاریخی جرم ہو گا۔
انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ انسانی امداد بند ہونے اور غزہ کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہونے سے 20 لاکھ سے زائد باشندے بڑے پیمانے پر غذائی قلت، طبی نظام کے خاتمے اور ضروری خدمات کی مکمل کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ 90 فیصد سے زیادہ ہسپتال اور صحت کی دیکھ بھال کے مراکز بمباری سے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔ پورے محلوں کا صفایا کر دیا گیا ہے۔خ تباہی سے دوچار ہیں ۔
ایندھن کی کمی کی وجہ سے نومولود بچے انکیوبیٹرز میں مر رہے ہیں۔ ڈاکٹر بے ہوشی کے بغیر سرجری کر رہے ہیں۔ ہر بنیادی انسانی نظام – صحت، تعلیم، غذائیت، صفائی – منہدم ہو چکا ہے۔ یہ اپنا دفاع نہیں بلکہ لوگوں کی منظم تباہی ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ میں بھارت کے اس حالیہ موقف کو سراہا جس میں اس کے مستقل نمائندے نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور انسانی ہنگامی صورتحال پر زور دیا۔
ہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے ملک کے حالیہ بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں جس میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ ایک مثبت قدم ہے۔”
انہوں نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ تشویش کا اظہار کرنے سے آگے بڑھ کر عالمی اخلاقی قیادت کا کردار ادا کرے۔ "ہندوستان کو شہریوں پر اندھا دھند بمباری، ہسپتالوں اور اسکولوں کو نشانہ بنانے، اور پوری آبادی کو اجتماعی سزا دینے کی مذمت کرنی چاہیے۔ الفاظ اہم ہیں، لیکن عمل اس سے بھی زیادہ اہم ہیں۔ بھارت کے پاس اس نسل کشی کی مذمت کرنے اور جنگی مجرموں کو جوابدہ ٹھہرانے میں عالمی برادری کی قیادت کرنے کی تاریخی ساکھ اور سفارتی صلاحیت دونوں ہے۔”
انہوں نے انسانی ہمدردی کی راہداریوں کو فوری طور پر کھولنے اور بھارت سے جارحیت ختم ہونے تک اسرائیل کے ساتھ تمام فوجی اور اسٹریٹجک تعاون معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔ "ہندوستان کے پاس مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کی قابل فخر میراث ہے۔ب ہمیں فیصلہ کن اقدام کرتے ہوئے اس میراث کا احترام کرنا چاہیے۔ جب نسل کشی کے واقعات ہماری آنکھوں کے سامنے آ رہے ہیں تو خاموشی اور غیر جانبداری متبادل نہیں ہیں۔
مقررین نے ہندوستانی عوام سے چوکس اور متحرک رہنے کی اپیل کی۔ "فلسطین صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے، یہ ایک انسانی المیہ ہے – عالمی انصاف اور انسانی وقار کا مسئلہ ہے۔ ہم طلباء، سول سوسائٹی، مذہبی رہنماؤں، ماہرین تعلیم اور تمام متعلقہ شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ احتجاج، آگاہی مہم، بین المذاہب مکالمے اور علمی مباحثوں کے ذریعے اپنی آواز بلند کریں۔ غزہ کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔”انہوں نے بعض علاقوں میں ایسے واقعات کی رپورٹوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا جہاں فلسطین کے ساتھ یکجہتی کو جرم مان کر دبایا جا رہا ہےانھوں نے کہا: "فلسطین کی حمایت انتہا پسندی نہیں ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون، بنیادی انسانی حقوق اور ہمارے آئین میں درج اقدار کا دفاع ہے۔ شہریوں کو بلا خوف و خطر اپنے ضمیر کی بات کرنے کے لیے آزاد ہونا چاہیے۔”
بیان میں مسلم اکثریتی ممالک کی قیادت سے سخت اپیل کی گئی: ’’ہم مسلم ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی تعلقات منقطع کریں اور اس بربریت کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے متحدہ محاذ تشکیل دیں۔‘‘۔
پریس کانفرنس سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی اعلیٰ قیادت، دونوں جمعیت علمائے ہند، جماعت اسلامی ہند، مرکزی جمعیت اہل حدیث، اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا اور دیگر ممتاز مسلم اسکالرز نے بھی خطاب کیا۔ ***عرصہ بعد مسلم تنظیمیں کسی ایشو پر ایک ساتھ نظر آئیں حالانکہ نام کے باوجود مولانا ارشد مدنی نہیں آیے انہوں نے اپنی نمائیدگی کے لیے صوبہ دہلی جمعیت کے جنرل سکریٹری مفتی عبد الرازق کو بھیجا _ بحیثیت مجموعی یہ اچھی اور سنجیدہ کوشش تھی ـ








