نئی دہلی:ایران کے سپریم کمانڈر کے نمائندے ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے نیوز ایجنسی اے این آئی سے گفتگو میں گلف ممالک پر ایرانی حملوں کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ ایران کے پاس اب خاموش رہنے کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔ یہ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ بقا کی ایسی جنگ بن چکی ہے جہاں سرحدوں کی لکیریں دھندلا گئی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے ایران کی حالیہ فوجی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی دشمنی اپنے پڑوسیوں سے نہیں بلکہ اُس غیر ملکی مہمان سے ہے جس نے پڑوسیوں کے گھر میں ڈیرہ جما رکھا ہے ۔ڈاکٹر الٰہی نے کہا کہ “امریکہ ہم سے ہزاروں کلومیٹر دور ہے۔ وہ اس خطے کا حصہ نہیں لیکن ہمارے پڑوسیوں کی زمین استعمال کر کے ہم پر حملہ کر رہا ہے۔”
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نشانہ پڑوسی ممالک نہیں بلکہ وہاں دہائیوں سے موجود امریکی اڈے ہیں ایران کا مؤقف ہے کہ یو اے ای، قطر اور سعودی عرب میں قائم فوجی اڈے اب ان ممالک کی خودمختاری میں نہیں بلکہ مکمل طور پر امریکی اڈے بن چکے ہیں۔ انہی اڈوں سے اسرائیل اور امریکہ نے خامنہ ای پر مہلک حملہ کیا تھا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران ان اڈوں پر حملہ نہیں کرے گا تو امریکہ مسلسل وہاں سے ایران کو نشانہ بناتا رہے گا۔ اس لیے اپنی حفاظت کے لیے ان ٹھکانوں کو تباہ کرنا ایران کی مجبوری ہےڈاکٹر الٰہی نے یاد دلایا کہ گزشتہ 100 برسوں میں ایران نے کبھی کسی پڑوسی پر حملہ نہیں کیا اور وہ آج بھی سرحدوں کا احترام کرتا ہے، لیکن امریکی مداخلت نے جنگ کو اس کے دروازے تک پہنچا دیا ہے۔ ایران کی یہ حکمت عملی جارحانہ دفاع پر مبنی ہے۔ ڈاکٹر الٰہی کے بیان سے واضح ہے کہ آنے والے دنوں میں خلیجی ممالک جنگ کا میدان بن سکتے ہیں۔ اگر سعودی عرب اور یو اے ای نے امریکہ سے فاصلہ اختیار نہ کیا تو خلیج فارس کی تیل تجارت اور علاقائی امن مکمل طور پر تباہی کا شکار ہو سکتے ہیں
بہرحال ڈاکٹر الٰہی کے بیان سے واضح ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے پڑوسیوں کو سخت پیغام دے رہا ہے کہ غیر جانبدار رہنے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اگر وہ اپنی زمین پر امریکی افواج کو جگہ دیں گے تو ایران انہیں جنگ کا حصہ تصور کرے گا۔ یہ سعودی عرب اور یو اے ای پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے تاکہ وہ امریکہ کو اپنے فضائی حدود یا اڈے استعمال کرنے سے روکیں۔







