نئی دہلی: (قاسم سید)
ہریانہ میں کل کسانوں پر ریاستی پولیس نے بے رحمانہ لاٹھی چارج کیا۔ ایک ڈیوٹی مجسٹریٹ یہ کہتے ہوئے سنائی دیے کہ اٹھا اٹھا کر مارو ،ادھر آنے والوں کے سر پھوڑدواور ایسا ہی ہوا ۔درجنوں کسانوں کے سر پھوڑ دیے گئے۔ انہیں لہو لہان ،خون بہتے ہوئے سروں کو دنیا نے دیکھا ۔بعض چینلوں نے سرسری تذکرہ کیا،بعض نے تفصیل سے دکھایا اور پرائم ٹائم میں بحث بھی کی۔پرنٹ میڈیا کو بھی شرم آئی اور پہلے صفحہ پر خبر دی، لیکن اگر کسی کی انسانیت ایسے دلدوز واقعہ پر بھی نہ جاگے تو صرف بے حس کہہ کر آگے نہیں بڑھ سکتے بلکہ یہ بے ضمیری اور غیر مشروط وفاداری کا معاملہ ہے ۔اسے صحافت تو نہیں کہا جاسکتا کہ اس دن کی سب سے بڑی خبر کو غائب کردیا جائے ۔آج کا قاری نہ بے وقوف ہے اور نہ ہی بے حس وہ اس زیروزبر کو بخوبی سمجھتا ہے ۔کارپوریٹ کے سینے میں بھی دل ہوتاہے، بھلے ہی سائز چھوٹا ہو۔اتنی برہنگی بھی اچھی نہیں کہ اس کی کوئی تاویل نہ کی جاسکے ۔
کسی زمانہ میں روزنامہ راشٹریہ سہارا ملک کا سب سے بڑا اور معتبر اخبار سمجھا جاتا تھا زوال کی اس انتہاء کے بارے میں سوچا نہیں گیا ہوگا۔
گستاخی معاف !بدقسمتی سے گودی میڈیا کی خوبیاں اردو اخبارات کے ایک طبقہ میں بدرجہ اتم موجود ہیں ،جب کوئی جائز ،واقعی، عوامی سروکار والی خبر غائب کردی جائے یا کسی کی شان میں خبر کو بریانی اور قورمہ بنادیا جائے ،دیسی گھی کا بگھار لگایا جائے۔ تو اسے جو چاہیں نام دیں مگر آزاد صحافت کے درجہ پر نہیں رکھا جاسکتا۔اگر ہم حالات کا دباؤ برداشت نہیں کرسکتے ، میڈیا کی توقیر نہیں کرسکتے اس کے تقاضوں کو نبھانے کی ہمت نہیں ہے ،مصلحتیں ڈراتی ہیں تو کیا ضروری ہے کہ میڈیا کی گردن پر سوار رہیں ،اس کا قیمہ بناتے رہیں ۔اردو صحافت کے ارباب دانش کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کم ازکم اردو میڈیا کی لاج بچی رہے۔کھلے دشمنوں سے ہی نہیں بغلی گھونسوں سے بھی خبردار رہنا چاہیے۔







