تبصرہ:طارق ایوبی
حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے یہی تو کہا تھا کہ غزہ کی ریت کا ذرہ ذرہ چھان لو مگر تم اپنے قیدی نہیں پا سکتے ، اسکے لیے تمہیں مذاکرات کی میز پہ آنا ہی ہو گا ۔
قیدیوں کے تبادلہ کے لیے مزاحمت روز اول سے تیار تھی لیکن اسکے لیے وہ جنگ بندی کی شرط لگاتی تھی، صہیونی اسکے لیے تیار نہ تھے ، وہ بزور طاقت قیدیوں کو رہا کرانا چاہتے تھے، سو شہر کا شہر تباہ کر دیا مگر بالاخر تحریک کی خدا نے لاج رکھی اور غاصب کو رسوا کیا، جنگ بندی ہوئی ، صہیونی فوج کا انخلا طے پایا اور 72 گھنٹوں میں قیدیوں کے تبادلہ کی بات طے پائی ساتھ انسانی امداد پہنچنے کی راہ بھی ہموار ہوئی ، پھر بھی کہتے ہو ظالمو کہ مزاحمت کو کیا ملا ، آنکھ کھول کے دیکھو 8 اکتوبر 23 سے جو بات کہی جا رہی تھی وہی منوائی گئی ۔
تم ٹرمپ کے خطہ کو لے کے بغلیں بجا رہے تھے ، سمجھ رہے تھے کہ مزاحمت مجبور ہو گئی ہے اب کوئی چارہ نہیں، مزاحمت نے اپنی سیاسی بصیرت سے جواب دیا اور مغرور دشمن کو مذاکرات کی میز تک لے آئے ، اب مذاکرات میں ابتدائی اتفاق ہو گیا ، لیکن اصل دو نکات پر مزید گفتگو ہو گی ، غزہ پر حکومت کون کرے گا یہ تو بظاہر طے ہو جائے گا ، لیکن مزاحمت ہتھیار رکھ دے اس پر کوئی مصالحت ممکن نہیں، اور اس پر مصالحت نہ ہو تو کسی کے حکومت کرنے سے مزاحمت پر کوئی فرق بھی نہیں پڑتا ۔آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا ، یقین ہے کہ سرخرو وہی ہوں گے جو عزت کے ساتھ جینے کا عزم رکھتے ہیں اور جو دشمن کو گھٹنوں پر لانے کا ہنر رکھتے ہیں۔








