اگرتلہ؍ نئی دہلی : (ایجنسی)
آج دورے کے دوسرے دن بتاریخ 31 اکتوبر 2021 کو جمعیۃ علماء ہند کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے راجدھانی اگرتلہ سے 320 کلو میٹر دور راتاچھارا میں واقع ایک مسجد کا دورہ کیا۔ اس مسجد پر شرپسندوں نے پتھر بازی کی لیکن جانی مالی کوئی نقصان نہیں ہوا۔ اس گاؤں میں تقریباً 45 گھر مسلمانوں کے ہیں اور 100 غیر مسلم گھر ہیں ۔
سرکار نے تحفظات کے لیے پولیس اہل کار کو تعینات کردیا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہاس علاقے میں مسلم آبادی کافی زیادہ تھی لیکن 1961 میں ایک متعصب لیڈر نے بہت ظلم کیا جس کی وجہ سے اکثر مسلمان مشرقی پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔

بعدازاں وفد جامع مسجد حاجی گاؤں پال بازار راتا چھارا کمار گھاٹ پہنچا اور مسجد کا معائنہ کیا۔ یہاں 22 اکتوبر 2021 کو شرپسند عناصر نے مسجد پر حملہ کیا اور پنکھا، کھڑکی، دروازہ اور قرآن مجید وغیرہ جلا دیا اور مائیک اٹھا لے گئے۔ اس مسجد کے امام مولانا عبد الجلیل نے بتایا کہ تقریباً لاکھوں کا نقصان ہوا ہے۔
بعد ازاں وفد سایہ دار پارک راتاچھارا پہنچا اور مسجد اور گھروں کا معائنہ کیا۔ مسجد پر پتھراؤ کیا گیا لیکن کوئی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ البتہ ہزاروں کی بھیڑ نے دہشت انگیزی کی جس سے علاقے کے سبھی مسلمان گھروں کو چھوڑ کر بھاگ گئے جو اب رفتہ رفتہ واپس آرہے ہیں۔ مقامی افراد کے چہروں پر خوف و ہراس چھائے ہوئے تھے۔
اس کے فوراً بعد ایس ایچ او پانیساگر سے تھانہ میں ملاقات کے بعد وفد جامع مسجد چام ٹیلہ پانیساگر نارتھ تری پورہ پہنچا اور جامع مسجد کا معائنہ کیا۔ اس مسجد کی کھڑکیاں، دیوار کی جالیاں، پنکھے اور احاطہ کے درختوں کو اکھاڑ دیا گیا ہے۔ یہاں غیر مسلم آبادی کی اکثریت ہے جب کہ کل 12 گھروں میں مسلمان آباد ہیں۔
یہاں کے بعد وفد سب سے متاثرہ علاقہ روا بازار پانیساگر پہنچا، یہاں شرپسندوں نے تقریباً تین بجے شام ایک جلوس نکالا جس میں عینی شاہدین کے مطابق آٹھ دس ہزار شرپسند شامل تھے۔ اس جلوس نے اشتعال انگیز نعرے لگائے اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کی شان اقدس میں گستاخی کے نعرے لگائے اور ساتھ ہی راستے میں آنے والے روابازار میں لوٹ پاٹ اور آگ زنی کی۔ مقامی افراد سے ملی جان کاری کے مطابق مسلمانوں کی11 دکانوں کو جلا کر راکھ کردیا۔
یہاں مسلم اور غیر مسلم آبادی تقریباً برابر ہے، اس لیے مسلمانوں نے صبر و ضبط اور ہمت سے کام لیا اور بڑے نقصان ہونے سے بچالیا۔
بعد ازاں جمعیۃ علماء ہند کا وفد مسجد سی آر پی ایف پہنچا۔ یہ مسجد نشیبی جگہ میں واقع ہے۔ اس مسجد کو مکمل طور پر آگ لگا دی گئی ہے۔ قرآن پاک، چٹائیاں، پنکھے اور چھتوں کو نذر آتش کردیا گیا ہے۔ ساتھ ہی متصل امام کے کمرے کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے۔
معلومات کے لیے عرض کردوں کہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر ایک مرکزی وفد تریپورہ کے دورہ پر ہے۔ اس مرکزی وفد میں قائد وفد مولانا حکیم الدین قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند کے ہمراہ مولانا غیور احمد قاسمی آرگنائزر جمعیۃ علماء ہند اور مولانا محمد یٰسین جہازی آرگنائزر جمعیۃ علماء ہند کے علاوہ مقامی ذمہ داروں میں سے محمد اجیر میاں خازن جمعیۃ علماء تریپورہ ،عبد الخالق سکریٹری جمعیۃ علماء تریپورہ، مولانا انعام الدین قاسمی ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء تریپورہ، مولانا سیف اللہ نائب صدر جمعیۃ علماء تریپورہ ماسٹر مطہر علی ناظم مقامی جمعیۃ علماء راتا چھیرا اور ماسٹر شوکت علی صدر جمعیۃ علماء راتا چھارا شریک وفد رہے۔ بعض مقامات پر دہلی سے تشریف لائے سپریم کورٹ کے وکلا بھی شریک وفد رہے، جن میں ایڈووکیٹ امت شری واستو، احتشام ہاشمی، مکیش کمار اورانصار اندوری کے نام قابل ذکر ہیں۔








