دوٹوک:قاسم سید
یہ سوال اکثر کیاجاتا ہے کہ جنگ آزادی میں عظیم قربانیوں کی تاریخ رکھنے اور کانگریس کے شانہ بشانہ رہنے والی ملک کی قدیم ترین مذہبی جماعت جمعیت علمائے ہند کو ملک کی آزادی کی تاریخ میں جگہ کیوں نہیں ملی یا کیوں نہیں دی گئی؟،اس کے ساتھ تعصب کیوں برتا گیا؟ کیا یہ سہوا ہوا یا عمدا ، اس سوال کا جواب خود جمعیتہ کے پاس بھی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی تاویل ـ
یہ سوال اتنا مشکل بھی نہیں، دراصل جمعیت علمائے ہند کو تاریخ میں جگہ نہ ملنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس کی قربانیاں کم تھیں یا اس کا کردار معمولی تھا، بلکہ اس لیے کہ جو تاریخ آزادی کے بعد لکھی گئی، وہ جمعیت کے وجود کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تھی۔ آزادی کے بعد پیش آنے والے واقعات اور ان کے رخ کو دیکھ کر جمعیت پاؤں سمیٹنے اور قومی سیاست میں اپنے رول سے رضاکارانہ طور پر دستبردار ہوگئی اس نے مولانا آزاد کے سیاسی مشورے کو حرزجاں بنالیا جو عارضی حکومت عملی کے اعتبار سے تو ٹھیک تھا مگر اسے مستقل پالیسی کے طور پر ایمان و یقین کا حصہ بنالینا بعد کے دور کی صورتحال کے آئینہ میں خودکش ثابت ہوا ،اس کے ارکان نجی طور پر بھرپور عملی سیاست کرتے رہے لیکن اجتماعی پالیسی اس کے متضاد رہی
اس پس منظر کو سامنے رکھیں ،تاریخ محض واقعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک فکری فلٹر ہے اور اس فلٹر سے وہی گزر سکا جو ریاستی مزاج کے مطابق تھا۔ وہیں آزادی کے بعد جس قومی تاریخ کو مرتب کیا گیا، وہ کانگریسی اشرافیہ، نہرویت، اور ریاستی (اسٹیٹ )سیکولرازم کے گرد گھومتی تھی۔ زیادہ تر مورخ لیفٹسٹ تھے چنانچہ اس تاریخ میں مذہب کو نجی معاملہ قرار دیا گیا، علما کو سماجی دائرے تک محدود رکھا گیا، اور قومیت کو آئینی شہریت تک سمیٹ دیا گیا۔ بظاہر یہ وہی بات تھی جو جمعیت بھی کہہ رہی تھی کہ قوم مذہب سے نہیں بنتی، مگر اصل اختلاف نتیجے پر نہیں، ماخذ پر تھا۔ ریاست یہ بات اس وقت تک قبول کر سکتی تھی جب تک اسے کوئی انگریزی بولنے والا، جدید تعلیم یافتہ، غیر مذہبی اشرافیہ کہے۔ جب یہی بات ایک عمامہ پوش عالم، دینی روایت اور مذہبی اخلاق کے سہارے کہے تو وہ بات قابلِ قبول نہیں رہتی، بلکہ مشتبہ ہو جاتی ہے۔جمعیتہ نے بھی اصرار نہیں کیا اور نہ ہی لکھی جانے والی تاریخ پر کڑی نظر رکھی اور نہ ہی خود اس کا بیڑہ اٹھایا ـ
یہیں سے جمعیت اور ریاستی تاریخ کا راستہ الگ ہوا۔ مولانا حسین احمد مدنی جیسے علما کا نظریہ کہ علما مذہب کے ساتھ رہتے ہوئے بھی مشترک وطن اور قومیت کی بات کر سکتے ہیں،ریاستی بیانیے کے لیے ایک خطرہ تھا، کیونکہ یہ اس دعوے کو چیلنج کرتا تھا کہ جدید قومیت صرف مذہب سے لاتعلقی کے بعد ہی ممکن ہے۔ اس فکری اختلاف کو کھلے مباحثے کے بجائے خاموشی سے تاریخ سے خارج کر دیا گیا۔ نہرو کی فکری ساخت کے لحاظ سے آزاد بھارت میں جمعیت کا رول ختم ہوگیا تھا ،ایسا لگتا ہے کہ جمعیت کو کانگریس قیادت نے ایک ٹول کی استعمال کیا ،ازاد بھارت میں اسے اپنے برابر نہیں پیچھے کھڑے ہونے پر مجبور کیا ،وہ کیوں راضی ہوئی اس کی الگ کہانی ہے ،جو لوگ تقسیم ہند کے بعد کی صورتحال کو سمجھنے پر یقین نہیں رکھتے وہ جمعیت کے رویے کے حوالہ سے اس کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتے
یہ محض کوئی اتفاق نہیں کہ نہرو اور گاندھی نے تفصیل سے بہت کچھ لکھا، مگر جمعیت اور اس کی قیادت کا ذکر یا تو بہت ہی سرسری کیا یا مکمل نظرانداز کردیا ۔ یہ بھول نہیں تھی، یہ دانستہ انتخاب تھا۔ گاندھی جی مذہب کو اخلاقی سطح پر قبول کرتے تھے، مگر علما کی سیاسی قیادت کو مرکزیت دینے کے قائل نہ تھے۔ نہرو تو ویسے ہی مذہب کو ریاستی شعور سے باہر رکھنا چاہتے تھے۔ یوں جمعیت نہ گاندھی کے اخلاقی بیانیے میں پوری طرح فٹ ہوئی، نہ نہرو کے سیکولر فریم میں ،ـ نتیجتاً تاریخ میں اس کے لیے جگہ ہی نہیں بچی۔دراصل جو کچھ ہوا تھا وہ جمعیتہ کو دیے گیے بھروسے کے خلاف تھا ،ملک کی تقسیم کے فیصلے میں جمعیتہ کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی اور متحدہ بھارت کی اس کی کوششوں کے ساتھ کا نگریس قیادت نے دھوکہ بلکہ غداری کی ـ یہاں سے دونوں کے راستے الگ ہوگیے تھے مگر حالات کے دباؤ نے اسے کا نگریس کا دودھ شریک بھائی بنادیا،جس سے اس کی ساکھ مجروح ہوئی
ایک اور بد نیتی نے اپنا کام کیا۔ آزادی کے بعد ریاست کو ایک بظاہر سادہ مگر جارحیت پر مبنی بیانیہ درکار تھا: قوم متحد ہے، مسئلہ حل ہو چکا ہے، اور جو مسئلہ تھا وہ “دوسری طرف” چلا گیا۔ اس بیانیے کے لیے مسلمانوں کو تقسیم ہند کا ذمہ دار اور علیحدگی پسند ثابت کرنا سیاسی طور پر نہایت کارآمد تھا۔ ۔
اس الزام کی سب سے مضبوط تردید جمعیت کے پاس تھی، کیونکہ اس نے تقسیم کی زوردار مخالفت کی تھی اور مشترک قومیت کا مقدمہ لڑا تھا۔ مگر چونکہ یہ تردید مذہبی زبان میں تھی، اس لیے اسے تاریخ سے نکال دیا گیا تاکہ الزام پر مبنی بیانیہ آسانی سے چلتا رہے۔جو آج بھی اپنا رنگ دکھا رہا ہےـ
یہاں تک تو قصور دوسروں کا تھا، مگر اس کے بعد جو ہوا وہ جمعیت کی اپنی سپر اندازی تھی۔ تاریخ نے جب اسے نظرانداز کیا تو جمعیت نے مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے عافیت کو چن لیا۔ ریاست سے قربت، سرکار سے دوستی، اور مراعات کے سہارے بقا ـ یہ سب وقتی حکمتِ عملی تھی، مگر طویل مدت میں فکری خودکشی ثابت ہوئی۔ جمعیت نے اپنی تاریخ کو مستقبل کی سیاست کی بنیاد بنانے کے بجائے ماضی کا نوحہ بنا کر رکھ دیا ـاس نے بزرگوں کی تاریخ محض جلسوں جلوسوں میں بیان کرنے پر اکتفا کیا،علمی دنیا کو دوسروں کے حوالے کردیا ـ تاریخ مستقبل بنانے کے لیے سند کے طور پر استعمال ہوتی ہے، مزار کے کتبے کے طور پر نہیں۔جمعیت نے تاریخ کو سند بنانے کے بجائے اسے یادگار بنا دیا جو قومیں ماضی کو گاتی رہتی ہیں، وہ حال میں اپنی جگہ کھو دیتی ہیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ تاریخ لکھی گئی، مگر جمعیت کے بغیر،مسلمان ملزم ٹھہرائے گئے، ریاستی بیانیہ مضبوط ہوا، مگر سچائی کے بغیر
آج اگر جمعیت تاریخ میں غائب ہے تو یہ صرف دوسروں کی بد نیتی کا نتیجہ یہ نہیں، بلکہ اپنی خاموشی، مصلحت اور سپر اندازی کا بھی انجام ہے۔ تاریخ نے دروازہ بند کیا، مگر جمعیت نے دستک دینا چھوڑ دی۔
جمعیت دو حصوں میں منقسم ہونے کے باوجود آج بھی کیڈربیس،وسائل سے لیس ملک گیر سطح کی سب سے بڑی مسلم مذہبی تنظیم ہے ،بلاشبہ مختلف میدانوں میں اس کی خدمات قابل تحسین ہیں ، کوئی بھی اسے نظرانداز نہیں کرسکتا ـ بس قوت ارادہ اور حوصلے حالات کے دباؤ کا شکار لگتے ہیں ـ لیکن اس کے پاس اپنی تاریخ کو دہرانے کا سب سے زریں موقع ہے ـ کوئی اور یہ کام نہیں کرسکتا ـ •••










