ممبئی:(ایجنسی)
معروف نغمہ نگار جاوید اختر اپنی بے باک رائے کیلئے مشہور ہیں ۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہو یا پرائیویٹ فنکشن ، وہ ہمیشہ سیدھے اور سخت انداز میں تبصرے کرتے ہیں ۔ وہیں گزشتہ کچھ دنوں سے افغانستان میں طالبان حکومت کی تشکیل کے بعد کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں ، جیسے طالبان کے وزیر ثقافت کی جانب سے کہا گیا کہ خواتین کو کھیل کود میں حصہ لینے نہیں دیا جائے گا ۔ وہیں طالبان کابینہ میں ایک بھی خاتون کو شامل نہیں کیا گیا ہے ۔ اس پر جاوید اختر نے اپنی رائے ظاہر کی ہے ۔
جاوید اختر نے عالمی رہنماؤں اور دیگر ممالک کے رویے پر ٹویٹ کرکے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ شرم کی بات ہے کہ مبینہ طور پر مہذب اور جمہوری ممالک طالبان کے ساتھ ہاتھ ملانے کیلئے تیار ہیں ۔
انہوں نے سبھی ممالک سے درخواست کی کہ وہ طالبان کو تسلیم نہ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ہر ایک لبرل شخص ، ہر ایک جمہوری ملک اور سبھی مہذب معاشرے کو طالبان کی طرف سے خواتین پر ہونے والے ظلم کے خلاف اس کو تسلیم کرنے سے انکار کردینا چاہئے۔ اس کی مذمت کی جانی چاہئے یا پھر انصاف ، انسانیت اور ضمیر جیسے الفاظ کو بھول جانا چاہئے ۔
ساتھ ہی ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے طالبان ترجمان کے بیان کی بھی تنقید کی ۔ انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے ترجمان نے دنیا سے کہا ہے کہ خواتین کا مقصد وزیر بننا نہیں ، گھر میں رہنا اور بچوں کو جنم دینا ہے ، لیکن مبینہ طور پر مہذب سماج طالبان کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لیے تیار ہے۔ یہ شرم کی بات ہے ۔
بتادیں کہ طالبان ترجمان نے یہ بھی کہا کہ خواتین کو وزیر بنانے کا مطلب ان کے گلے میں پھندا ڈالنا ہے جسے وہ سنبھال نہیں سکتیں ۔ ساتھ ہی خواتین کے مظاہرے کو لے کر ہاشمی نے کہا تھا کہ یہ کچھ خواتین ہیں اور یہ افغانستان کی سبھی خواتین کی نمائندگی نہیں کرتی ہیں ۔
اس سے قبل ایک اور چینل سے گفتگو کے دوران جاوید اختر نے کہا تھا کہ پوری دنیا کے دائیں بازو کے لوگ ایک جیسے ہی ہیں ۔ جس طرح طالبان ایک اسلامی ملک چاہتا ہے، اسی طرح لوگ ایک ہندو ملک چاہتے ہیں ۔ سبھی کی ایک ہی ذہنیت ہے ۔ جاوید اختر کو ان کے اس بیان کی وجہ سے کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔









