رانچی:(ایجنسی)
جھارکھنڈ قانون ساز اسمبلی کا نظارہ گزشتہ چار پانچ دنوں سے بدلا بدلا نظر آرہا ہے ، اسمبلی کیمپس میں ایک طرف جہاں نماز – روم بنایا گیا ہے تو وہیں کیمپس بھی رام نامی گمچھا میں لپٹے ایم ایل اے کے ساتھ کیرتن کی دھن سے گونج رہاہے ۔
پیر کو جھارکھنڈ اسمبلی میں چل رہے مانسون سیشن کے دوران بی جے پی کے ایم ایل اے الگ ہی رنگ وروپ میں نظر آئے۔پارلیمنٹ کے باہر نکل کرمرکزی دروازے پر لیڈر حزب اختلاف بابو لال مرانڈی اور دیگر ایم ایل اے کیرتن کرتے نظر آئے۔ اس دوران یہاں ڈھول بجایا گیا ۔ رام نامی گمچھا تقسیم کیا گیا۔ کوڈرما کی ایم ایل اے نیرا یادو نے تمامممبران اسمبلی کو تلک لگایا، اس کے بعد تمام کیرتن کرنے بیٹھ گئے۔
اس دوران دیوگھر کے ایم ایل اے نارائن داس نے ناچنا شروع کردیا۔ ایم ایل اے امر باؤری نے کہا کہ ایسا تب تک چلتا رہے گا جب تک حکمراں جماعت کو اچھی سمجھ نہیں آجاتی۔
بتادیں کہ گزشتہ دنوں اسپیکر رابند ناتھ مہتو نے مسلم ایم ایل اے اور اسٹاف کے نماز پڑھنے کے لیے نماز روم الاٹ کیا ہے۔ جب سے یہ آرڈر پاس کیا گیا ہے ، ریاست کی راجدھانی گرمائی ہوئی ہے ۔ نماز سے شروع ہوکر جے شری رام کے نعرے تک پہنچی ہے۔
حکمراں جماعت کے ایم ایل اے ڈاکٹر عرفان انصافی سے میڈیا نے پوچھا کہ بی جے پی کے گمچھا سے کیو ںاعتراض ہے۔ جواب میں انہوں نے کہاکہ بی جے پی کے ساتھیوں کو ٹوپی بانٹیں گے ،میری ٹوپی سیکولر ٹوپی ہوگی۔ بی جے پی سوچ رہی ہے کہ جھارکھنڈ بھی ایودھیا ہو گیا۔ ان کا من بڑھ گیاہے میں مسلمان ہو کر مندر کا احترام کرتا ہوں تو بی جے پی لیڈروں کو مسجد کا احترام کرنا چاہئے۔
ایوان کی کارروائی جب ملتوی کردی گئی تو سی ایم ہیمنت سورین باہر آئے۔ میڈیا نے ان سے پوچھاکہ کیا نماز روم الاٹ کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے گا۔ کیوں نہ ان کوبھی پراتھنا روم دے دیا جائے۔ اس پر سورین بولے ’ من میں اگر آستھا ہو تو بھگوان سب جگہ ہیں، لیکن اگر من میں راکشس ہو تو سب جگہ دشمن ہی دشمن ہے۔‘








