نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی اقلیتی حیثیت پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے کہا کہ اے ایم یو ایکٹ میں 1981 کی ترمیم "آدھے ادھورے دل سے” کی گئی تھی اور یہ ادارہ 1951 سے پہلے کی پوزیشن کو بحال نہیں کرتا ہے۔ 1981 میں اے ایم یو ایکٹ میں کی گئی ترمیم نے مؤثر طریقے سے اسے اقلیتی ادارے کا درجہ دیا۔
جب کہ اے ایم یو ایکٹ، 1920 علی گڑھ میں ایک تدریسی اور رہائشی مسلم یونیورسٹی کے قیام کے لیے بنیادفراہم کرتا ہے، 1951 کی ترمیم یونیورسٹی میں مسلم طلبہ کے لیے لازمی مذہبی تعلیم کو ختم کرتی ہے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی قیادت میں سات ججوں کی آئینی بنچ نے آٹھ دن تک تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔
بنچ نے مرکز کی نمائندگی کرنے والے سینئر لاء افسران، اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی اور سالیسٹر جنرل تشار مہتا اور اپیل کنندگان کی نمائندگی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ راجیو دھون، کپل سبل اور دیگر کے زبانی دلائل پر سماعت مکمل کر لی۔
سی جے آئی چندرچوڑ کی قیادت والی سات ججوں کی بنچ میں جسٹس سنجیو کھنہ، سوریہ کانت، جے بی پارڈی والا، دیپانکر دتہ، منوج مشرا اور ایس سی شرما بھی شامل ہیں۔ آئینی بنچ 2006 میں الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے سے پیدا ہونے والے ایک ریفرنس کی سماعت کر رہی تھی، جس نے 1981 کی ترمیم کو ختم کر دیا تھا جس نے ادارے کو اقلیتی درجہ دیا تھا۔
سماعت کے دوران جسٹس چندر چوڑ نے زبانی طور پر کہا کہ کسی تعلیمی ادارے کو اقلیتی درجہ سے صرف اس لیے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ اسے مرکزی یا ریاستی حکومت کے بنائے ہوئے قانون کے ذریعے منظم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک ریگولیٹڈ ملک میں کچھ بھی پرفیکٹ نہیں ہے۔ محض اس لیے کہ انتظامیہ کا حق کسی قانون کے ذریعے منضبط ہوتا ہے، ادارے کے اقلیتی کردار کو متاثر نہیں کرتا۔
واضح ہوؤ آئینی بنچ 2006 میں الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے سے پیدا ہونے والے ایک ریفرنس کی سماعت کر رہی تھی، جس نے 1981 کی ترمیم کو ختم کر دیا تھا جس نے ادارے کو اقلیتی درجہ دیا تھا








