ایک نقطہ نظر: ڈاکٹر طارق ایوبی
نئی نسل کو مظاہر شرک سے بچانا اب ایک چیلنج ہےآپ نے رفتہ رفتہ سرینڈر کی ایک مثال دیکھی تھی ، علماء کے چہیتے وسیم صاحب کی ایٹیگرل یونیورسٹی کے کلینڈر پر رام مندر کی ایک تصویر چھپی تھی ، یہ وہ یونیورسٹی ہے جو ملت کے پیسوں سے علماء کی سرپرستی میں وجود میں آئی ، بلکہ اب بھی کچھ علماء اپنے مفادات کے لیے اب بھی وسیم صاحب کے آگے پیچھے لگے رہتے ہیں۔
یہ سرینڈر کی دوسری مثال ہے ، امام عیدگاہ لکھنؤ جناب خالد رشید فرنگی محلی مبتلائے مظہر شرک ہیں، سڑک تعمیر سے قبل بھومی پوجن کی رسم شرک بڑی شان سے ادا کر رہے ہیں، یہ اب بھی امامت کریں گے اور علماء کے بھی مقتدا رہیں گے ، کوئی ان کے خلاف حرف شکایت بھی زبان پہ نہ لائے گا ،ارباب فتوی بھی متحرک نہ ہوں گے، اس لیے کہ ملی تنظیموں میں ان کا خاطرخواہ رسوخ ہے ، حکومتوں میں ان کا رسوخ رہتا ہے ، کئی لوگوں کو بچایا ہے ، کچھ بیچارے ذہنی مریض ان کے ساتھ فوٹو کھنچانے کو دنیا کا سب سے بڑا اعزاز تصور کرتے ہیں، غمخوار ملت کہتے اور لکھتے نہیں تھکتے ہیں، یہ استقبال بھی لوگوں کا خوب کرتے ہیں، اسٹیج بھی خوب سجاتے ہیں، دعوتیں بھی خوب کرتے ہیں، بارہا علماء کو ان کی دعوتیں کھا کر پکوانوں کے تنوع اور ذائقہ کی خوب تعریفیں کرتے ہوئے سنا ہے ، ہر کام کے لیے عیدگاہ کی سرزمین استعمال ہوتی ہے ، لگ بھگ آدھی عیدگاہ پر تعمیرات ہیں، مجال ہے جو کوئی ملی جائیداد کی کمائی کا حساب پوچھ لے ۔ خیر اقتدار کے آگے سرینڈر کی مثالوں میں روز افزوں اضافہ ہے ، خدا ہم سب کے دین و ایمان کی حفاظت فرمائے، جب بڑے بڑے ملی رہنماؤں کا یہ حال ہے تو سوچنے کی بات ہے کہ نئی نسل کو مظاہر شرک سے کیسے محفوظ رکھا جائے ۔











