نئی دہلی : (ایجنسی)
ہفتہ کو ہریانہ کے کرنال میں وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کی میٹنگ کی مخالفت کرنے پہنچے احتجاج کررہے کسانوں پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ اس میںکئی کسان سنگین طور سے زخمی ہوگئے اور کئی کے سر تک پھوٹ گئے۔ کرنال میں کسانوں پر ہوئے لاٹھی چارج کو لے کر کسان لیڈر راکیش ٹکیت مشتعل ہوگئے اور انہوں نے کہاکہ ملک میں سرکاری طالبانوں کا قبضہ ہوچکا ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ ملک میں سرکاری طالبان کے کمانڈر بھی موجود ہیں جنہوں نے سر پھوڑنے کے حکم دئے ہیں۔
کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں سرکاری طالبانوں کا قبضہ ہوچکاہے ۔ ملک میں سرکاری طالبانوں کے کمانڈر موجود ہے۔ ان کمانڈر کی شناخت کرنی ہوگی ۔ جنہوں نے سر پھوڑنے کا حکم دیا ۔ وہی کمانڈر ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ پولیس فورس کی طاقت کے سہارے وہ پورے ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ۔
اس کے علاوہ راکیش ٹکیت نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے کرنال میں لاٹھی چارج میں زخمی ہونے والے کسان کی تصویر شیئر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر پر بھی حملہ کیا۔ راکیش ٹکیت نے کہا کہ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کا رویہ جنرل ڈائر جیسا ہے۔جو ظلم وستم اور بربریت ہریانہ پولیس نے کسانوں پر کیا وہ برداشت نہیں ہو سکتا۔ کسان سب کا حساب کرے گا۔
بتادیں کہ مرکز کے زرعی قوانین کی مخالفت کرنے والے کسانوں نے ہریانہ میں بی جے پی اور جے جے پی کے لیڈروں کے سماجی بائیکاٹ کا اعلان کررکھا ہے ۔ سنیکت کسان مورچہ کی کال پر ہی ہفتہ کو کسان وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کی موجودگی میں ہونے والی بی جے پی کی میٹنگ کی مخالف کرنے جائے پروگرام کی طرف جارہے تھے ۔ اسی دوران کرنال میں تعینات بھاری پولیس بل نے کسانوں پر لاٹھی چارج کردیا۔ جس میں کئی کسانوں کو سنگین چوٹیں آئیں اور انہیں اسپتال میں بھرتی کرانا پڑا۔
قابل ذکر بات ہے ہے کہ کسانوں کی تحریک کو 9 ماہ سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ اتنے دنوں کے بعد بھی آج تک کوئی ٹھوس حل نہیں نکل پایا ہے ۔ جنوری مہینہ کے بعد سے ہی کسان تنظیموں اورمرکزی سرکار کےدرمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے ۔ مرکزی سرکار نے آخری میٹنگ میں تینوں قوانین کو ڈیڑھ سال تک ملتوی کرنے کی تجویز بھی دیا تھا لیکن کسان تنظیموںنے اسے منظور کر دیا تھا ۔ احتجاج کررہے کسان تینوں قوانین کی واپسی کو لے کر بضد ہیں ۔







