آل آسام اسٹوڈنٹس یونین، (آسو)جس نے ریاست میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو نکالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک پرتشدد تحریک کی قیادت کی، محمود مدنی کو مبینہ طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجرین اور بنیاد پرستوں کو تحفظ فراہم کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
آسو کے ایڈوائزر سموجول کے بھٹاچاریہ نے کہا۔ "مدنی کو ملک دشمن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ حکومت کو غیر قانونی بنگلہ دیشی شہریوں اور بنیاد پرستوں کے حق میں اور قوم کے خلاف کام کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے،”
یونین نے اس سے قبل دہلی میں مقیم ایک کارکن اور پلاننگ کمیشن کی سابق رکن سیدہ حمید کو یہ کہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ بنگلہ دیشی شہریوں کو آسام میں رہنے کا حق ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی آسام حکومت کو شناخت شدہ غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنا چاہیے اور بے دخلی کے نام پر حقیقی شہریوں کو ہراساں نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے منگل (2 ستمبر 2025) کو گوہاٹی میں ہریس کانفرنس کے دوران الزام لگایا کہ آسام میں سرکاری زمینوں کو تجاوزات سے آزاد کرانے کے لیے جاری مہم میں ایک کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس نے لوگوں کو مذہبی بنیاد پر پر تقسیم کرکے اقتدار برقرار رکھنے کے لیے ایک ڈیزائن ہر عمل کیا ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کے ایک طبقے کو ’میا‘، ’نامعلوم‘ اور ’مشکوک‘ کہا جا رہا ہے۔ ان کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کیے جا رہے ہیں۔ یہ اس وحشیانہ انداز سے زیادہ تکلیف دہ ہے جس میں بے دخلی کی جا رہی ہے،” ان کا کہنا تھا کہ "جو مشکوک شہری کہلاتے ہیں ان کے بارے میں شکوک و شبہات کو دور کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ ہم غیر ملکیوں کی ملک بدری کی مخالفت نہیں کر رہے ہیں۔ ہم غیر ملکیوں کا یہاں رہنا برداشت نہیں کر سکتے۔”
جمعیۃ کے صدر کے دوروں اور ان بیانوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے جمعیت کے سربراہ کو دھمکی دی کہ اگر وہ حد سے تجاوز کرتے ہیں تو انہیں گرفتار کر لیا جائے گا source: The Hindu








