*مسلمانوں پرڈیموگرافی بدلنے کے الزامات بے بنیاد*
*مجلسِ عاملہ نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ غیر مصدقہ اور فرقہ وارانہ بیانات سے گریز کرے
*وقف ایکٹ ۲۰۲۵ اوقاف کی مذہبی شناخت کے لیے سنگین خطرہ ، جمعیۃ قانونی اور جمہوری سطح پر بھرپور مخالفت جاری رکھے گی ۔ فلسطین میں امن کا قیام آزاد فلسطین ریاست پر منحصر*
نئی دہلی ۲۹؍ اکتوبر: جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس آج مولانا محمود اسعد مدنی، صدر جمعیۃ علماء ہند کے زیر صدارت نئی دہلی میں منعقدہوا، جس میں وقف ترمیمی ایکٹ ۲۰۲۵ ، غیر قانونی دراندازی کا مسلمانوں پر الزام لگانے ، فلسطین امن معاہدہ اور ملک کے موجودہ حالات میں مسلم اقلیت کے عرصہ حیات تنگ کرنے جیسے دور حاضر کے سلگتے ہوئے مسائل پر تفصیل سے تبادلۂ خیال ہوا۔ساتھ ہی نئے ٹرم کے لیے جمعیۃ علماء ہند کی مرکزی صدارت کا اعلان کیا گیا۔اجلاس مجلس عاملہ میں ملک بھر سے جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کے ارکان و مدعوئین خصوصی شریک ہوئے اور متعدد رپورٹیں پیش ہوئیں ۔ ابتدا میں ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے سابقہ کارروائی کی خواندگی کی ۔
اجلاس میں دستور جمعیۃ کی دفعہ ۵۲ کی رو سے نئے ٹرم کی صدارت کے لیے مولانا محمود اسعد مدنی کے نام کا متفقہ طور سے اعلان کیا گیا۔تمام صوبوں کی مجالس عاملہ نے اگلے ٹرم کی صدارت کے لیے ان کے نام کی سفارش کی تھی ۔اس لیے اب اس کا اعلان کیا جاتا ہے کہ مولانا موصوف برائے ٹرم ۲۰۲۴۔۲۷ءجمعیۃ علماءہند کے صدرمنتخب ہوگئے ہیں ۔صدارت کے انتخاب کے بعد اسی اجلاس میں مولانا مدنی نے دستور کے مطابق چارج بھی لیا اور اس طرح نئے ٹرم کا باضابطہ آغاز عمل میں آیا ۔
مجلس عاملہ میں صوبہ دہلی ، تلنگانہ اور آسام میں مقررہ مدت میں صوبائی انتخابات مکمل نہ ہونے پر بھی غور ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ ان ریاستوں کے انتخابی بورڈس کو ہدایت دی جاتی ہے حسب صواب دید تین ماہ کی مدت میں انتخاب مکمل کرالیں ۔
مولانا مدنی نے جدید ٹرم کے تین سالہ دور (چھتیس ماہ) کا لائحہ عمل اور کاموں کا نقشہ پیش کرتے ہوئے ملک کے موجودہ حالات، اقلیتوں کی حیات تنگ کرنے، ان کے مذہبی شعائر اور دینی اصطلاحات کی توہین و تحقیر، بلڈوزر کارروائیوں، مذہبی آزادی پر قدغن، اور حلال کے خلاف مہم وغیرہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور میڈیا آئینی حقوق کی پامالی میں شریک ہیں؛ ان کی کوششوں کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان اس ملک میں غلام بن جائیں اور وہ دوسرے درجےکا شہری بن جائیں جو فرقہ پرستوں کی ایک طویل المدتی پالیسی ہے۔دوسری طرف یہ امید افزا بات بھی ہے کہ مظلوم طبقات زیادہ جہدِ مسلسل اور محنت سے کام کر رہے ہیں، اور جمعیۃ علماء ہند ایسی جہدِ مسلسل کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی امید افزا ہے کہ براداران وطن کا ایک بڑا طبقہ ہے جو ہمارے دکھ و غم میں برابر کا شریک ہے۔
مجلس عاملہ میں حکومت ہند بالخصوص وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی طرف سے مسلمانوں پر ڈیموگرافی بدلنے اور دراندازی کے الزام لگائے جانے پر تفصیل سے تبادلۂ خیال ہوا، ایسے بیانات کو قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی اور آئینی مساوات کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ۔ مجلس عاملہ نے اپنی تجویز میں مزید کہا کہ مرکزی حکومت نے متعدد بار سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ میں تحریری طور پر کہا ہے کہ اس کے پاس غیر قانونی دراندازوں کی کوئی مستند تعداد موجود نہیں، لہٰذا یہ الزامات دروغ گوئی پر مبنی ہیں۔جمعیۃ علماء اس اشتعال انگیز اور تفرقہ انگیز بیانیے کو سختی سے مسترد کرتی ہے ۔ ایسے الزامات کے ذریعے پورے ملک کے مسلمانوں کو مشکوک اور مشتبہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ہندوستانی مسلمانوں کی قربانیاں اور خدمات قومی تاریخ کے روشن ابواب میں اس طرح درج ہیں کہ انہیں بار بار ملک کے تئیں اپنی وفادارای کے اظہار کی قطعاًضرورت نہیں ہے۔جمعیۃ علماء ہند وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور سیاسی رہنماؤں کو متنبہ کرتی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اور فرقہ وارانہ بیانات سے گریز کریں۔ حکومتِ ہند شفاف اعداد و شمار عوام کے سامنے پیش کرے۔جمعیۃ علماء ہند روز اول سے ملک میں غیر قانونی در اندازی کی سخت مخالف رہی ہے اور اس کا یہ احساس ہے کہ اگر بالفرض دراندازی ہورہی ہے تو اس کی پوری ذمہ داری حکومت اور وزارت داخلہ کی ہے ۔ اس مفروضہ دراندازی کی آڑ میں مسلمانوں کو مورد الزام قراردینا بالکل بے بنیاد ہے ۔
مجلس عاملہ نے وقف ایکٹ ۲۰۲۵ء اور امید پورٹل سے متعلق تجویز میں کہا کہ یہ ایکٹ وقف کے مذہبی تشخص کے لیے سنگین خطرہ ہے، اس لیے جمعیۃ علماء ہند اس کی آئینی، قانونی اور جمہوری سطح پر بھرپور مخالفت جاری رکھے گی۔’ چونکہ سپریم کورٹ نے اس پر پابندی عائد نہیں کی، اس لیے تمام متولیانِ اوقاف، اوقافی اداروں اور ذمہ داران سے پُرزور اپیل ہے کہ وہ اپنی وقف املاک کا اندراج اُمید پورٹل پر بروقت مکمل کریں تاکہ کسی قانونی یا انتظامی نقصان سے بچا جا سکے۔ یہ اجلاس حکومتِ ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ رجسٹریشن کی آخری تاریخ میں کم از کم دو سال کی توسیع کی جائے، تاکہ متولیان اس عمل کو اطمینان کے ساتھ مکمل کر سکیں۔
مجلسِ عاملہ نے فلسطین امن معاہدہ سے متعلق تجویز میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک خودمختارآزاد فلسطینی ریاست قائم نہ ہو، جس کا دارالحکومت القدس (یروشلم) ہو اور مسجدِ الاقصیٰ سمیت تمام مقدس مقامات کی مذہبی حیثیت اور سلامتی کی ضمانت فراہم نہ کی جائے۔یہ اجلاس فلسطینی عوام کی قربانیوں، ثابت قدمی اور آزادی کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے اور اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کی منظم نسل کشی اور غزہ کے تباہ کن محاصرے کی شدید مذمت کرتا ہے، جو حالیہ امن معاہدہ کی روح کے منافی ہے۔جمعیۃ علماءہند عالمی برادری، بالخصوص اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور امن دوست ممالک سے مطالبہ کرتی ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام اور مقدس مقامات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔غیر قانونی یہودی بستیوں، قبضوں اور جبری انخلا کے خلاف مؤثر اقدام کریں۔تباہ حال فلسطینیوں کو انسانی امداد، علاج، تعلیم اور بازآبادکاری میں فوری مدد فراہم کریں۔مجلسِ عاملہ حکومتِ ہند سے بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنی روایتی خارجہ پالیسی کے مطابق فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی مکمل حمایت جاری رکھے اور ہر بین الاقوامی فورم پر ان کے منصفانہ و پائیدار حل کے لیے آواز بلند کرے۔
اجلاس مجلس عاملہ میں بہار کے بعد مزید گیارہ ریاستوں میں ہونے والی ووٹرایس آئی آر کےطور طریقوں کو غیر اطمینان بخش قرار دیا اورکہا کہ حکومت کا رویہ غریب اور کمزور طبقات کی شہریت کو نقصان پہنچا ئے گا ۔مجلس عاملہ نے یہ فیصلہ کیا کہ نومبر کے اخیر ہفتہ میں مرکزی مجلس منتظمہ کا اجلاس منعقدکیا جائے ۔








