ملائیشیا کے اسلام پسند وزیراعظم اعظم انور ابراہیم نے سنسنی خیز الزام لگایا کہ صیہونی طاقتیں ان کی حکومت کا تختہ پلٹنے کی سازش کر رہی ہیں ـ Times lve کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ حکومت گرانے کی مبینہ سازش میں ملوث ایک مشتبہ شخص نے ایک بین الاقوامی تعلقات عامہ کی فرم کو ایک مربوط سازش کو انجام دینے کے لیے شامل کیا ہے جس کا مقصد اگلے انتخابات سے قبل قومی اداروں کو نقصان پہنچانا ہے۔
واضح ہو کہ پولیس نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ پارلیمانی جمہوریت کو کمزور کرنے کے خلاف قوانین کے تحت "قومی استحکام کو سبوتاژ کرنے” کی مبینہ سازش کی تحقیقات کر ر ہی ہے ۔
پی ایم انور ابرہیم کے مطابق، ایک بین الاقوامی فرم سے منسلک دستاویزات میں بیان کردہ حکمت عملیوں میں غیر ملکی میڈیا کو متحرک کرنا اور ملائیشیا کے اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے بیرون ملک نیٹ ورکس کا فائدہ اٹھانا شامل ہے۔
انہوں نے کہا، "ان کی حکمت عملی، جیسا کہ اس میں شامل بین الاقوامی فرم کے ریکارڈ میں بیان کیا گیا ہے، حکومت کی کوششوں کو چیلنج کرنے کی حکمت عملی کے ساتھ تمام غیر ملکی میڈیا سے رابطہ کرنا شامل ہے، خاص طور پر MACC کی”۔
دی اسٹار‘ The Star کی رپورٹ کے مطابق 3 مارچ کو ملیشیائی پارلیمنٹ میں بولتے ہوئے انور ابراہیم نے کہا کہ ’’میری حکومت کو گرانے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ اس سازش میں ایک یہودی گروپ، ایک بین الاقوامی میڈیا اور یہاں کے کچھ اپوزیشن لیڈران ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’میں ایسا ہونے نہیں دوں گا، جلد ہی اس کی جانچ کرا کر قصورواروں کو گرفتار کرواؤں گا۔‘‘
وزیر اعظم انور ابراہیم کا کہنا ہے کہ میں نے غزہ اور ایران پر سخت رخ اختیار کیا۔ اس کی وجہ سے یہودی گروپ مجھے نشانہ بنا رہے ہیں۔ کیا غزہ اور ایران پر بولنا گناہ ہے؟ میں اس پر بولتا رہوں گا۔ جانچ کے بعد سب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ انھوں نے ملیشیا کے اپوزیشن کی بھی تنقید کی ہے۔ انور ابراہیم نے سوال کیا کہ کیا اپوزیشن کو یہودی ہی حکومت گرانے کے لیے ملے ہیں؟ ملیشیا کے عوام ایسے لوگوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ ملیشیا میں 2020 اور 2021 میں بھی حکومت گرانے کی سازشوں کا انکشاف ہوا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ 63.5 فیصد مسلم آبادی والا ملیشیا وہ ملک ہے جس نے خامنہ ای کے قتل کی مذمت کی۔ ملیشیا نے کھل کر ایران کی حمایت میں آواز اٹھائی شاید یہودی لا بی اسی ‘گناہ ‘ کی سزا دینا چاہتی ہے







