ممبئی کی خصوصی عدالت نے 2008 کے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں تمام ساتوں ملزمین کو بری کر دیا ہے۔ ملزمین میں سابق بی جے پی ایم پی سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت، سدھاکر چترویدی، ریٹائرڈ میجر رمیش اپادھیائے شامل ہیں۔ اس دوران فیصلہ سناتے ہوئے خصوصی جج لاہوٹی نے بڑا تبصرہ کیا۔
جسٹس اے کے لاہوٹی نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا کیونکہ کوئی مذہب تشدد کی حمایت نہیں کرتا۔ یہ کہتے ہوئے عدالت نے تمام ملزمان کو بری کر دیا۔ تمام ساتوں ملزمان کو مصدقہ شواہد کی کمی کے باعث بری کر دیا گیا۔
جسٹس لاہوٹی نے کہا کہ محض شک کی بنیاد پر کیس کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ استغاثہ شک و شبہ سے بالاتر الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ معاشرے کے خلاف ایک سنگین واقعہ تھا لیکن صرف اخلاقیات کی بنیاد پر کسی کو مجرم نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔عدالت نے کہا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ کرنل پروہت آر ڈی ایکس لائے تھے یا بم اسمبل کیا تھا۔ اس بات کا بھی کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے کہ جرم میں استعمال کی گئی موٹر سائیکل سادھوی پرگیہ کی تھی۔ واقعے کے بعد پتھراؤ کس نے کیا اور پولیس اہلکار کی بندوق کس نے چھین لی، اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہے۔واضح ہو ستمبر 2008 میں مالیگاؤں کے بھیکو چوک پر ایک دو پہیہ گاڑی پر بم دھماکہ ہوا جس میں 6 افراد ہلاک اور 101 زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں فرحین عرف شگفتہ شیخ لیاقت، شیخ مشتاق یوسف، شیخ رفیق مصطفی، عرفان ضیاء اللہ خان، سید اظہر سید شاہ محمد شاہ اور سید ہارون سید شاہ شامل ہیں۔








