اسرائیل نے غزہ شہر پر مکمل قبضے کے منصوبے پر عمل درآمد کے تحت کئی محلے صفحہ ہستی سے مٹا دیے ،بچے ملبہ میں دبے ہیں ـ اضافی فوجیوں کی طلبی کے احکامات پر عمل شروع کر دیا ہے۔ اس کا مقصد محصور اور تباہ حال شمالی غزہ میں غزہ شہر پر قبضہ کرنے کی تیاری مکمل کرنا ہے جہاں اسرائیل کی حماس کے ساتھ تقریباً دو سال سے جنگ جاری ہے۔
ادھر غزہ میں شہری دفاع نے بتایا ہے کہ منگل کی صبح سے اب تک مختلف علاقوں میں کم از کم 45 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اسرائیل نے کئی روز سے غزہ شہر پر بم باری اور جارحانہ کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں، یہ غزہ کی پٹی کا سب سے بڑا شہر ہے۔غزہ میں شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل نے کہا "ایک نیا قتل عام ‘الدرج بنی عامر’ کے محلے میں دیکھا گیا جب اسرائیل نے تین منزلہ مکان کو نشانہ بنایا۔ اس حملے کے نتیجے میں ملبے تلے سے 11 لاشیں نکالی گئیں، جن میں تین بچے اور دو خواتین شامل ہیں۔”انھوں نے مزید کہا کہ سات بچے ابھی بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جن میں ایک ڈیڑھ سال کا شیرخوار بھی ہے۔ شہری دفاع کی ٹیمیں ان تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
**الشجاعیہ اور التفاح 85 فی صد تباہ
شہر کے کئی محلوں پر بم باری جاری ہے، خصوصاً الشجاعیہ اور التفاح میں جہاں تباہی کا تناسب 85 فی صد تک پہنچ گیا ہے۔اسرائیل نے اس منصوبہ بندی پر عمل جاری رکھا ہوا ہے جس کے تحت غزہ شہر پر کنٹرول حاصل کرنا ہے، اگرچہ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک دباؤ بڑھ رہا ہے کہ جنگ ختم کی جائے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخای ادرعی نے آج ایک بیان میں کہا کہ فوج "لڑائی کے دائرے کو وسعت دینے کی تیاری کر رہی ہے اور اس کے لیے لوجسٹک اور آپریشنل اقدامات کے ساتھ بڑے پیمانے پر ریزرو فوجیوں کو طلب کر رہی ہے۔”اسرائیلی فوجی ذرائع نے بتایا کہ کئی ہزار اضافی فوجی اہل کاروں کو بتدریج طلب کیا جا رہا ہے اور نومبر میں طلبی کی دوسری لہر متوقع ہے۔ یہ بات اسرائیلی چینل 12 نے بتائی۔











