اتر پردیش کے سنت کبیر نگر ضلع میں ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے برطانوی شہری مولانا شمس الہدی خان کے خلاف فراڈ اور فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ یہ کارروائی اتر پردیش انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) کی ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر کی گئی، جس میں مبینہ طور پر مولانا کی سرگرمیاں مشکوک پائی گئیں۔
نیوز پورٹل ‘آج تک’ کی رپورٹ کے مطابق یوپی اے ٹی ایس کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مولانا شمس الہدی خان، جنہوں نے 2013 میں برطانوی شہریت حاصل کی تھی، ہندوستان میں اسلامی انتہا پسندی کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ مولانا پر مدارس کے لیے بیرون ملک سے فنڈز کی "دلالی” کرنے اور فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔اس واقعہ کے بعد اعظم گڑھ اور سنت کبیر نگر میں ان کے دونوں مدارس کا الحاق منسوخ کر دیا گیا۔ ان کی این جی او رضا فاؤنڈیشن کا رجسٹریشن بھی منسوخ کر دیا گیا۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ رپورٹ کے مطابق مولانا شمس الہدیٰ اسلام پھیلانے کے نام پر پاکستان کا باقاعدہ سفر کرتے رہے ہیں اور وہاں کے کئی بنیاد پرست علماء اور مشتبہ افراد سے رابطے میں ہیں۔ مزید برآں، ان کے جموں و کشمیر میں کئی مشتبہ افراد کے نیٹ ورک سے رابطے ہیں۔








