اقوام متحدہ کے 193 ارکان میں سے 151 ارکان فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔ چھ یورپی ممالک جن میں فرانس، بیلجیئم، لکسمبرگ، مالٹا، انڈورا اور موناکو شامل ہیں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ان ملکوں کا حصہ ہیں۔ جنہوں نے پیر کے روز اقوام متحدہ میں سرکاری بیانات میں اس امر کا اعلان کیا ہے۔
اتوار کے روز برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا۔ اب اس لمبی فہرست میں جہاں روس اور عرب ممالک کے علاوہ تمام افریقی و لاطینی امریکہ کے ملک شامل ہیں۔ وہیں ایشیائی ممالک کی بھی غالب اکثریت بشمول بھارت و چین فلسطین کو پہلے سے تسلیم کرچکے ہیں۔ایشیا میں جن ملکوں نے ابھی تک فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا۔ ان میں جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور بھی شامل ہیں۔ جبکہ افریقی ممالک میں کیمرون شامل ہے اور لاطینی امریکہ میں پاناما شامل ہے۔
فرانس میں بین الاقوامی قانون کے پروفیسر رومین لیبیوف کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست بین الاقوامی قانون میں ایک بڑا پیچیدہ معاملہ ہے۔ ریاستوں کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی مرضی کے وقت پر کسی ریاست کو تسلیم کریں اور اس میں مختلف چیزوں میں فرق بھی ہو سکتا ہے جو ان کے اثرات میں بھی جھلک سکتا ہے۔
پروفیسر رومین لیبیوف نے کہا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی ان سب چیزوں پر کنٹرول رکھے جو تسلیم کرنے کی فہرست میں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا بین الاقوامی قانون میں یہ چیز واضح ہے کہ کسی ریاست کو تسلیم کیے جانے کا قطعا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ریاست قائم ہوگئی ہے اور نہ ہی کسی ریاست کو تسلیم نہ کرنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ ریاست وجود ہی نہیں رکھتی۔
اگرچہ کسی ریاست کو تسلیم کرنے کے علامتی طور پر بعض نمایاں اثرات ہوتےہیں، سیاسی اعتبار سے ریاست کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا فلسطین وہ تمام ضروریات پورا کرتا ہے جو ایک ریاست کے لیے ہو سکتی ہیں۔
بین الاقوامی قانون کے ماہر فلپ سینڈز نے اگست 2025 میں نیو یارک ٹائمز میں لکھا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والی اکثر آوازیں علامتیں ہیں۔ تاہم یہ علامتی طور پر بھی تسلیم کیا جانا کسی ‘گیم چینجر’ سے کم نہیں۔ کیونکہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے فلسطینی و اسرائیلی ریاست کو برابر تسلیم کر لیا اور اب بین الاقوامی قانون کے تحت ان دونوں ریاستوں کو ایک ہی طرح سے دیکھا جانا چاہیے۔







