اردو
हिन्दी
مارچ 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

سیاست کا بھٹکاؤ اور بھٹکاؤ کی سیاست

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
سیاست کا بھٹکاؤ اور بھٹکاؤ کی سیاست
58
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

مولانا عبد الحمید نعمانی

2002ءکے بعد سے نمایاں ہو کر ملک و معاشرہ کا جو منظر نامہ سامنے آیا ہے ، اس کے کئی سارے اسباب ہیں ، کسی بڑے نصب العین اور ثمر آور مقاصد کو مدنظر رکھے بغیر جس طرح کے حالات پیدا ہو سکتے ہیں ، وہ اس سے زیادہ مختلف نہیں ہوسکتے تھے ۔ جس شکل میں ہمارے سامنے ہیں ، بھارت کے تناظر میں ہمیں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ برہمن وادی ہندوتو کا سماج اونچ نیچ پر قائم، دیگر کی تحقیر و نفر ت سے زندہ ہے ۔ جب اپنے دائرے میں شامل مختلف طبقات سے تحقیر و تذلیل میں اپنا تفوق اور زندگی تصور کرتا ہے تو کئی لحاظ سے مختلف اور اپنے دائرے کے باہر کے طبقات و روایات سے زیادہ ہمدردی و انصاف کی توقع ، بے جا امید کے زمرے میں شمار ہوگی ۔

آزادی سے پہلے ہی فرقہ وارانہ خطوط پر ہندستانی سماج کی تقسیم کا آغاز بڑی تیزی سے ہو گیا تھا۔ تاہم ملک کی آبادی کے نہج سے ایک طرح کا توازن قائم تھا۔ لیکن تقسیم وطن کے بعد یہ توازن پوری طرح ختم ہوگیا اور آبادی کی ہیت پوری طرح بدل کر رہ گئی جو لیڈر اقلیتوں خصوصاً مسلم اقلیت کے متعلق کسی قدر ہمدردی و مراعات کا جذبہ رکھتے تھے۔ گاندھی جی جیسے رہ نما اقلیت کو اکثریت میں کمزور ،بے انصافی کی شکار سمجھ کر حمایت کرنے کو انصاف و انسانیت کا تقاضا سمجھتے تھے ۔ تقسیم وطن کے ساتھ ، تیزی سے گزرتے وقت میں صورتحال بڑی حد تک بدل گئی ، گاندھی جی ایک جارح فرقہ پرست ہندو وادی ناتھو رام گوڈسے کی گولیوں کا شکار ہوگئے تو دوسری طرف فرقہ پرست ہندوتو عناصر اور پارٹیوں کا سیکولرازم اور فرقہ وارانہ اتحاد میں یقین و اظہار کرنے والے لیڈروں اور پارٹیوں پر دباؤ و اثر بڑھتا چلا گیا، حالاں کہ آزادی سے پہلے یہ فرقہ پرست ہندو وادی لیڈروں نے مسلم لیگ کے ساتھ سرکار بنانے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کی تھی اور جناح اور مسلم لیگ کے لیے یہ ماحول فراہم کیا تھا کہ ہندو مسلم ایک ساتھ برابری اور امن وانصاف کے ساتھ نہیں رہ سکتے ہیں اور انگریزوں کے بھارت سے جانے کے بعد مسلم اقلیت کو غلام بناکر رکھیں گے اور اونچ نیچ پر مبنی چار طبقاتی نظام کے حامل ہندوتو وادی،مسلمانوں کو شودروں کی حالت میں پہنچادیں گے۔ کیوں کہ برہمن وادی کسی نہ کسی کے ساتھ نفرت و تحقیر کا سلوک روا رکھے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے ہیں ، واقعہ یہ ہے کہ علیحدگی و تذلیل پسندی کی ذہنیت و روایت نے گزرتے دنوں کے ساتھ علیحدہ وطن کے لیے ماحول بنانے میں ہندو وادی فرقہ پرست عناصر کا بڑا رول تھااور تقسیم کے بعد پیدا شدہ حالت سے آج تک وہ جناح کو صحیح ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں ، بر صغیرمیں جس طور سے ہندو مسلم اور مختلف فرقوں کی آبادیاں ہیں ، ان کا سوفی صد فرقہ وارانہ خطوط پر تبادلہ عملاً ممکن تھا، ایسی حالت میں فرقہ وارانہ مسائل کے حل کے لیے تقسیم کوئی پائیدار راستہ نہیں تھا۔

یہ حقیقت جمعیة علماءہند اور مومن کانفرنس وغیرہ کے بابصیرت و بصارت اکابر کے پیش نظر تھی ۔ لیگ اور اس کے حامی عناصر نے اس پر سرے سے کوئی توجہ نہیں دی کہ مسائل و مشکلات کا سامنے اقلیت والے علاقوں میں ہوتا ہے نہ کی اکثریتی علاقے میں ، 1940ءکے لاہور قرار داد کے ساتھ ہی ان کی طرف سے تقسیم اور علیحدہ وطن کی حمایت کا کوئی مطلب اور عقلمندی نہیں تھی جوملک کے اقلیتی خطے سے تعلق رکھتے تھے ۔ ہاں ان کے لیے علیحدہ وطن ایک معنی رکھتا تھا جو ہندو اکثریت سے آزاد ، ایک مسلم غلبے والے وطن میں اپنے نظریے کے مطابق زندگی کے خواہاں تھے ، بھارت میں رہ جانے والے اپنی اپنی جگہوں پر رہائش پذیر ، چھاگلہ جیسے لیگی اور جناح کے قریبی لوگوں کے لیے بھارت والے حصے میں رہنے کا مطلب ،منافقت اور دہری زندگی کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا ہے ۔ ایسے لوگ خوشامدی ، شاہ سے زیادہ شاہ پرست اور مخالف عناصر کی نظر وں میں مقبول بننے کی کوششوں میں اس کمیونٹی کے کاز کے خلاف سرگرم عمل ہوجاتے ہیں جس کا وہ بہ ظاہر نمائندہ سمجھے اور نظر آتے ہیں ، یہی کچھ کردار چھاگلہ نے ادا کیا، تاکہ ہندوتوادیوںکے منظور نظر بن جائیں احساس کمتری و جرم میں مبتلا ہونے کے سبب مظلوموں و اقلیتوں کے ساتھ مضبوطی سے وہ کھڑے نہیں رہ سکے، چھاگلہ، لیگی اور جناح کے ساتھ تھے۔ راجا محمود آباد اور مولانا آزادسبحانی بھی مسلم لیگ کے ساتھ تھے لیکن تقسیم وطن کے بعد بھارت میں ہی رہ گئے ۔

اس قسم کے لوگ ہندو تو عناصر کانگریس وغیرہ کے بھی دباؤ میں رہتے ہوئے ہندو فرقہ پرستی کا مقابلہ کرنے کے بجائے مسلمانوں کے حقوق و اختیارات کے لیے جدو جہد ترک کرکے خود کو ضرورت سے زیادہ سیکولر سٹ دکھانے میں زیاہ دلچسپی رکھتے تھے ۔ اس کی ایک نمایاں مثال چھاگلہ ہیں ، وہ کانگریس کی وزارت میں شامل ہو کر وزیر تعلیم بن گئے تھے ۔ لیگ سے دوری اور خود کو غیر فرقہ پرست دکھانے کے چکر میں انھوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے اقلیتی کردار کو نشانہ بنایا۔ اور کانگریس نے بھی ہندوتو کی شبیہ ابھارنے اور مسلمانوں کی منہ بھرائی کے الزام سے بچنے کے لیے ہر ایسے کام کو کیا جس سے لگے کہ وہ سب کے ساتھ ہے ، چھاگلہ کا تعلق، جناح اور لیگ سے ہونے کے باوجود کانگریسی وزارت میں رہتے ہوئے بھی سنگھ میں نیچے سے اوپر تک بڑے مقبول و معتبر رہے ہیں ، سنگھ کے لٹریچر میں ان کا نام بہت عزت سے لکھا بولا جاتا رہا ہے ، اس کی وجہ بہت صاف ہے ۔ اس سیاسی بھٹکاؤ اور ہندوتو فرقہ پرستی کے اثرات کے تحت ہندو تو وادیوں نے جی بھر کے فائدہ اٹھایا۔ دیگر پارٹیاں بھی ، جو کمیونزم ،دلت تحریک اور سماج واد وغیرہ کے حوالے سے سامنے رہی ہیں ، وہ ہندوتو وادی پارٹیوں اور تحریکوں کا موثر طور سے مقابلہ نہیں کر سکیں اور گزرتے دنوں کے ساتھ وہ جن سنگھ ، سے بنی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے جگہیں خالی کرتی چلی گئیں ۔ جس کا نتیجہ اب سب کے سامنے ہے ۔

کانگریس سمیت مختلف پارٹیاں ،الگ الگ نعروں اور سیاسی تحریکوں اور سرگرمیوں کے ساتھ سامنے آئیں لیکن برہمن وادی ہندو تو کی تحریکات کی پارٹیوں /تنظیموں کی طرح تسلسل اور مضبوط نظر یاتی مقاصد کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکیں ۔ اور زیادہ دور رس اور دور تک رسائی میں ناکام رہیں ، ڈاکٹر امبیڈکر ،پیری یار کی تحریک ، فرقہ پرست ہندو تو وادیوں کے خلاف ایک ملک گیر تحریک تھی ، تاہم وہ تاریخ کے مختلف ادوار کی طرح ، آزادی کے بعد ملک کی بڑی اکثریت کو جارحانہ ہندو تو کے ساتھ جانے سے روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ۔ پیری یار کی دراوڑی تحریک کا اثر ملک کے دیگر حصوں میں بھی کچھ نہ کچھ ہے لیکن عملی طور سے جنوبی ہند کے کچھ محدود دائرے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ یہی کچھ حال کمیونسٹ پارٹیوں کا رہا ہے، انھوں نے ایک سطح پر ہندو تو وادی فرقہ پرستی کا نظریاتی لحاظ سے مقابلہ کیا اور سیاسی لحاظ سے بھی 1952ء1967، ء 2004 کے انتخابات میں ان کی نمائندگی و موجودگی کو محسوس کیا گیا تھا۔ لیکن گزرتے دنوں کے ساتھ کمیونسٹ پارٹیاں بھی ہندوتو کی حامل پارٹیوں کے سامنے بونی ہوتی چلی گئیں 2004ءکی 64 نشستوں کے مقابلے آج لوک سبھا میں صرف 5کی تعداد رہ رہ گئی ہے ۔ مغربی بنگال میں مسلسل سات بار حکومتیں بنانے والی کمیونسٹ پارٹیاں وہاں بھی اب پوری طرح ان کا صفایا ہو گیا ہے ۔ وہ بھارت اور اس کے عوام کے رجحانات و ضروریات پر کھری اترنے میں ناکام رہیں ۔ دلت اور سماج واد کی تحریکات کی حامل پارٹیاں ، بھی ہندو تو وادی عناصر اور پارٹیوں کے سامنے ایک طرح سے ڈھیر ہو گئی ہیں ، جے پر کاش نارائن ، رام منوہر لوہیا، اچاریہ نریندر دیو، جیوتی با پھولے ، امبیڈکر ، کر پوری ٹھاکر ، کانشی رام ، وغیرہم کے نام ، کام بھی کام نہیں آرہے ہیں ۔ بلکہ ان کے ناموں کا استعمال ہندو تو وادی تنظیموں اور پارٹیوں نے زبردست طریقے سے کیا۔ مایاوتی ، رام بلاس پاسوان ، ادت راج ، رام اٹھاولے توایک طرح سے ان کے پالکی بردار ہو کر رہ گئے ، یہ سارا کچھ نظریاتی جڑوں سے دور اور عوام تک مطلوبہ سطح پر رسائی میں ناکامی سے ہوا ۔ مذکورہ قسم کے تمام اشخاص اور پارٹیاں سیاسی بھٹکاؤ ا ور ہر حال میں اقتدار میں بنے رہنے کی خواہشوں کے نتیجے میں ہوا ہے اور جب تک سیاست میں یہ بھٹکاؤ اور بھٹکاؤ کی سیاست جاری رہے گی تب تک موجودہ صورت حال میں کسی بنیادی تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے ۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
Sanjeev Srivastava Kachori Controversy Debate
مضامین

بی بی سی نیوز کے انڈیا ہیڈ رہے سنجیو سریواستو کے کچوری کی دکان کھولنے پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟

24 فروری
Bhagwat Commentary Critical Analysis
مضامین

ملاحظات: بھاگوت بھٹکاؤ کی راہ پر

23 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Iran Drone Attack Claim News

ایران کیلیفورنیا پر کسی بھی لمحہ ڈرون حملہ کر سکتا ہے۔ اعلیٰ امریکی ڈرون ایکسپرٹ کا دعوی

Uttam Nagar Jamiat Delegation News

مفتی عبد الرازق کی قیادت میں اتم نگر کے مسئلہ پر جمعیۃ کے وفد کی ڈی سی پی سے ملاقات

Iran War Secret Briefing

ایران جنگ پر امریکی کانگریس کی ‘خفیہ بریفنگ نے دنیا کی نیند اڑادی٫ جانیں ایسا کیا ہے رپورٹ میں؟

Iran Israel Strikes Damage

اسرائیل کو کھنڈر بنارہا ہے ایران،بن گورین ایئرپورٹ ،فوج کا کمیونکیشن سسٹم تباہ، بینک، مالیاتی ادارے نشانے پر

Iran Drone Attack Claim News

ایران کیلیفورنیا پر کسی بھی لمحہ ڈرون حملہ کر سکتا ہے۔ اعلیٰ امریکی ڈرون ایکسپرٹ کا دعوی

مارچ 12, 2026
Uttam Nagar Jamiat Delegation News

مفتی عبد الرازق کی قیادت میں اتم نگر کے مسئلہ پر جمعیۃ کے وفد کی ڈی سی پی سے ملاقات

مارچ 12, 2026
Iran War Secret Briefing

ایران جنگ پر امریکی کانگریس کی ‘خفیہ بریفنگ نے دنیا کی نیند اڑادی٫ جانیں ایسا کیا ہے رپورٹ میں؟

مارچ 11, 2026
Iran Israel Strikes Damage

اسرائیل کو کھنڈر بنارہا ہے ایران،بن گورین ایئرپورٹ ،فوج کا کمیونکیشن سسٹم تباہ، بینک، مالیاتی ادارے نشانے پر

مارچ 11, 2026

حالیہ خبریں

Iran Drone Attack Claim News

ایران کیلیفورنیا پر کسی بھی لمحہ ڈرون حملہ کر سکتا ہے۔ اعلیٰ امریکی ڈرون ایکسپرٹ کا دعوی

مارچ 12, 2026
Uttam Nagar Jamiat Delegation News

مفتی عبد الرازق کی قیادت میں اتم نگر کے مسئلہ پر جمعیۃ کے وفد کی ڈی سی پی سے ملاقات

مارچ 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN