اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

سیاست کا بھٹکاؤ اور بھٹکاؤ کی سیاست

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
سیاست کا بھٹکاؤ اور بھٹکاؤ کی سیاست
58
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

مولانا عبد الحمید نعمانی

2002ءکے بعد سے نمایاں ہو کر ملک و معاشرہ کا جو منظر نامہ سامنے آیا ہے ، اس کے کئی سارے اسباب ہیں ، کسی بڑے نصب العین اور ثمر آور مقاصد کو مدنظر رکھے بغیر جس طرح کے حالات پیدا ہو سکتے ہیں ، وہ اس سے زیادہ مختلف نہیں ہوسکتے تھے ۔ جس شکل میں ہمارے سامنے ہیں ، بھارت کے تناظر میں ہمیں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ برہمن وادی ہندوتو کا سماج اونچ نیچ پر قائم، دیگر کی تحقیر و نفر ت سے زندہ ہے ۔ جب اپنے دائرے میں شامل مختلف طبقات سے تحقیر و تذلیل میں اپنا تفوق اور زندگی تصور کرتا ہے تو کئی لحاظ سے مختلف اور اپنے دائرے کے باہر کے طبقات و روایات سے زیادہ ہمدردی و انصاف کی توقع ، بے جا امید کے زمرے میں شمار ہوگی ۔

آزادی سے پہلے ہی فرقہ وارانہ خطوط پر ہندستانی سماج کی تقسیم کا آغاز بڑی تیزی سے ہو گیا تھا۔ تاہم ملک کی آبادی کے نہج سے ایک طرح کا توازن قائم تھا۔ لیکن تقسیم وطن کے بعد یہ توازن پوری طرح ختم ہوگیا اور آبادی کی ہیت پوری طرح بدل کر رہ گئی جو لیڈر اقلیتوں خصوصاً مسلم اقلیت کے متعلق کسی قدر ہمدردی و مراعات کا جذبہ رکھتے تھے۔ گاندھی جی جیسے رہ نما اقلیت کو اکثریت میں کمزور ،بے انصافی کی شکار سمجھ کر حمایت کرنے کو انصاف و انسانیت کا تقاضا سمجھتے تھے ۔ تقسیم وطن کے ساتھ ، تیزی سے گزرتے وقت میں صورتحال بڑی حد تک بدل گئی ، گاندھی جی ایک جارح فرقہ پرست ہندو وادی ناتھو رام گوڈسے کی گولیوں کا شکار ہوگئے تو دوسری طرف فرقہ پرست ہندوتو عناصر اور پارٹیوں کا سیکولرازم اور فرقہ وارانہ اتحاد میں یقین و اظہار کرنے والے لیڈروں اور پارٹیوں پر دباؤ و اثر بڑھتا چلا گیا، حالاں کہ آزادی سے پہلے یہ فرقہ پرست ہندو وادی لیڈروں نے مسلم لیگ کے ساتھ سرکار بنانے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کی تھی اور جناح اور مسلم لیگ کے لیے یہ ماحول فراہم کیا تھا کہ ہندو مسلم ایک ساتھ برابری اور امن وانصاف کے ساتھ نہیں رہ سکتے ہیں اور انگریزوں کے بھارت سے جانے کے بعد مسلم اقلیت کو غلام بناکر رکھیں گے اور اونچ نیچ پر مبنی چار طبقاتی نظام کے حامل ہندوتو وادی،مسلمانوں کو شودروں کی حالت میں پہنچادیں گے۔ کیوں کہ برہمن وادی کسی نہ کسی کے ساتھ نفرت و تحقیر کا سلوک روا رکھے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے ہیں ، واقعہ یہ ہے کہ علیحدگی و تذلیل پسندی کی ذہنیت و روایت نے گزرتے دنوں کے ساتھ علیحدہ وطن کے لیے ماحول بنانے میں ہندو وادی فرقہ پرست عناصر کا بڑا رول تھااور تقسیم کے بعد پیدا شدہ حالت سے آج تک وہ جناح کو صحیح ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں ، بر صغیرمیں جس طور سے ہندو مسلم اور مختلف فرقوں کی آبادیاں ہیں ، ان کا سوفی صد فرقہ وارانہ خطوط پر تبادلہ عملاً ممکن تھا، ایسی حالت میں فرقہ وارانہ مسائل کے حل کے لیے تقسیم کوئی پائیدار راستہ نہیں تھا۔

یہ حقیقت جمعیة علماءہند اور مومن کانفرنس وغیرہ کے بابصیرت و بصارت اکابر کے پیش نظر تھی ۔ لیگ اور اس کے حامی عناصر نے اس پر سرے سے کوئی توجہ نہیں دی کہ مسائل و مشکلات کا سامنے اقلیت والے علاقوں میں ہوتا ہے نہ کی اکثریتی علاقے میں ، 1940ءکے لاہور قرار داد کے ساتھ ہی ان کی طرف سے تقسیم اور علیحدہ وطن کی حمایت کا کوئی مطلب اور عقلمندی نہیں تھی جوملک کے اقلیتی خطے سے تعلق رکھتے تھے ۔ ہاں ان کے لیے علیحدہ وطن ایک معنی رکھتا تھا جو ہندو اکثریت سے آزاد ، ایک مسلم غلبے والے وطن میں اپنے نظریے کے مطابق زندگی کے خواہاں تھے ، بھارت میں رہ جانے والے اپنی اپنی جگہوں پر رہائش پذیر ، چھاگلہ جیسے لیگی اور جناح کے قریبی لوگوں کے لیے بھارت والے حصے میں رہنے کا مطلب ،منافقت اور دہری زندگی کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا ہے ۔ ایسے لوگ خوشامدی ، شاہ سے زیادہ شاہ پرست اور مخالف عناصر کی نظر وں میں مقبول بننے کی کوششوں میں اس کمیونٹی کے کاز کے خلاف سرگرم عمل ہوجاتے ہیں جس کا وہ بہ ظاہر نمائندہ سمجھے اور نظر آتے ہیں ، یہی کچھ کردار چھاگلہ نے ادا کیا، تاکہ ہندوتوادیوںکے منظور نظر بن جائیں احساس کمتری و جرم میں مبتلا ہونے کے سبب مظلوموں و اقلیتوں کے ساتھ مضبوطی سے وہ کھڑے نہیں رہ سکے، چھاگلہ، لیگی اور جناح کے ساتھ تھے۔ راجا محمود آباد اور مولانا آزادسبحانی بھی مسلم لیگ کے ساتھ تھے لیکن تقسیم وطن کے بعد بھارت میں ہی رہ گئے ۔

اس قسم کے لوگ ہندو تو عناصر کانگریس وغیرہ کے بھی دباؤ میں رہتے ہوئے ہندو فرقہ پرستی کا مقابلہ کرنے کے بجائے مسلمانوں کے حقوق و اختیارات کے لیے جدو جہد ترک کرکے خود کو ضرورت سے زیادہ سیکولر سٹ دکھانے میں زیاہ دلچسپی رکھتے تھے ۔ اس کی ایک نمایاں مثال چھاگلہ ہیں ، وہ کانگریس کی وزارت میں شامل ہو کر وزیر تعلیم بن گئے تھے ۔ لیگ سے دوری اور خود کو غیر فرقہ پرست دکھانے کے چکر میں انھوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے اقلیتی کردار کو نشانہ بنایا۔ اور کانگریس نے بھی ہندوتو کی شبیہ ابھارنے اور مسلمانوں کی منہ بھرائی کے الزام سے بچنے کے لیے ہر ایسے کام کو کیا جس سے لگے کہ وہ سب کے ساتھ ہے ، چھاگلہ کا تعلق، جناح اور لیگ سے ہونے کے باوجود کانگریسی وزارت میں رہتے ہوئے بھی سنگھ میں نیچے سے اوپر تک بڑے مقبول و معتبر رہے ہیں ، سنگھ کے لٹریچر میں ان کا نام بہت عزت سے لکھا بولا جاتا رہا ہے ، اس کی وجہ بہت صاف ہے ۔ اس سیاسی بھٹکاؤ اور ہندوتو فرقہ پرستی کے اثرات کے تحت ہندو تو وادیوں نے جی بھر کے فائدہ اٹھایا۔ دیگر پارٹیاں بھی ، جو کمیونزم ،دلت تحریک اور سماج واد وغیرہ کے حوالے سے سامنے رہی ہیں ، وہ ہندوتو وادی پارٹیوں اور تحریکوں کا موثر طور سے مقابلہ نہیں کر سکیں اور گزرتے دنوں کے ساتھ وہ جن سنگھ ، سے بنی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے جگہیں خالی کرتی چلی گئیں ۔ جس کا نتیجہ اب سب کے سامنے ہے ۔

کانگریس سمیت مختلف پارٹیاں ،الگ الگ نعروں اور سیاسی تحریکوں اور سرگرمیوں کے ساتھ سامنے آئیں لیکن برہمن وادی ہندو تو کی تحریکات کی پارٹیوں /تنظیموں کی طرح تسلسل اور مضبوط نظر یاتی مقاصد کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکیں ۔ اور زیادہ دور رس اور دور تک رسائی میں ناکام رہیں ، ڈاکٹر امبیڈکر ،پیری یار کی تحریک ، فرقہ پرست ہندو تو وادیوں کے خلاف ایک ملک گیر تحریک تھی ، تاہم وہ تاریخ کے مختلف ادوار کی طرح ، آزادی کے بعد ملک کی بڑی اکثریت کو جارحانہ ہندو تو کے ساتھ جانے سے روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ۔ پیری یار کی دراوڑی تحریک کا اثر ملک کے دیگر حصوں میں بھی کچھ نہ کچھ ہے لیکن عملی طور سے جنوبی ہند کے کچھ محدود دائرے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ یہی کچھ حال کمیونسٹ پارٹیوں کا رہا ہے، انھوں نے ایک سطح پر ہندو تو وادی فرقہ پرستی کا نظریاتی لحاظ سے مقابلہ کیا اور سیاسی لحاظ سے بھی 1952ء1967، ء 2004 کے انتخابات میں ان کی نمائندگی و موجودگی کو محسوس کیا گیا تھا۔ لیکن گزرتے دنوں کے ساتھ کمیونسٹ پارٹیاں بھی ہندوتو کی حامل پارٹیوں کے سامنے بونی ہوتی چلی گئیں 2004ءکی 64 نشستوں کے مقابلے آج لوک سبھا میں صرف 5کی تعداد رہ رہ گئی ہے ۔ مغربی بنگال میں مسلسل سات بار حکومتیں بنانے والی کمیونسٹ پارٹیاں وہاں بھی اب پوری طرح ان کا صفایا ہو گیا ہے ۔ وہ بھارت اور اس کے عوام کے رجحانات و ضروریات پر کھری اترنے میں ناکام رہیں ۔ دلت اور سماج واد کی تحریکات کی حامل پارٹیاں ، بھی ہندو تو وادی عناصر اور پارٹیوں کے سامنے ایک طرح سے ڈھیر ہو گئی ہیں ، جے پر کاش نارائن ، رام منوہر لوہیا، اچاریہ نریندر دیو، جیوتی با پھولے ، امبیڈکر ، کر پوری ٹھاکر ، کانشی رام ، وغیرہم کے نام ، کام بھی کام نہیں آرہے ہیں ۔ بلکہ ان کے ناموں کا استعمال ہندو تو وادی تنظیموں اور پارٹیوں نے زبردست طریقے سے کیا۔ مایاوتی ، رام بلاس پاسوان ، ادت راج ، رام اٹھاولے توایک طرح سے ان کے پالکی بردار ہو کر رہ گئے ، یہ سارا کچھ نظریاتی جڑوں سے دور اور عوام تک مطلوبہ سطح پر رسائی میں ناکامی سے ہوا ۔ مذکورہ قسم کے تمام اشخاص اور پارٹیاں سیاسی بھٹکاؤ ا ور ہر حال میں اقتدار میں بنے رہنے کی خواہشوں کے نتیجے میں ہوا ہے اور جب تک سیاست میں یہ بھٹکاؤ اور بھٹکاؤ کی سیاست جاری رہے گی تب تک موجودہ صورت حال میں کسی بنیادی تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے ۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN