نئی دہلی: انڈین مسلمس فار سول رائٹس کے چئرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے یوپی، دہلی اور جموں و کشمیر کی پولیس اور ایجنسیوں کی غیر آئینی کارروائیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی دھماکے کے بعد فریدآباد میں واقع الفلاح میڈیکل کالج اور دیگر اداروں کے طلبہ کو بلاجواز نشانہ بنایا جانا غیر آئینی عمل ہے، برسوں سے پڑھنے والے نوجوانوں کو مشکوک نظروں سے دیکھا جانا انتہائی نا مناسب بات ہے۔
محمد ادیب نے کہا کہ اگر واقعی کسی ادارے یا فرد کے بارے میں تحفظات تھے، تو انتظامیہ کو بہت پہلے کارروائی کرنی چاہیے تھی، نہ کہ اچانک پوری کمیونٹی پر شک کی تہمت لگا کر انہیں پریشان اور ہراساں کیا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حساس مواقع پر حکام کارروائی سے گریز کرتے ہیں لیکن بعد میں انہی واقعات کو بہانہ بنا کر مسلم محلوں میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا جاتا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا: “آخر کب تک مسلمانوں کو یوں ذلیل کیا جاتا رہے گا؟”آئی ایم سی آر چیئرمین نے واضح کیا کہ وہ اور ان کی تنظیم ہر قسم کی دہشت گردی، بشمول حالیہ دہلی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی حکومت کے ان اقدامات کی بھی ہم سخت مذمت کرتے ہیں جو وہ بم دھماکوں کے بعد غیرقانونی، امتیازی اور اجتماعی سزا کے طور پر انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجرمین کے گھروں کو توڑنا اور خاندانوں کو سزا دینا وہی طریقہ ہے جو کچھ دیگر ریاستوں میں بھی اس سے قبل ہوتے ہوئے دیکھا گیا ہے، اور یہ کسی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہے۔
محمد ادیب نے کہا کہ“اگر کوئی ملزم بھاگ گیا ہے یا جرم میں ملوث ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے نہ کہ اس کے گھر کو تباہ و برباد کر پورے خاندان کو سزا دی جائے”۔انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو عدالتوں سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا اور مطالبہ کیا کہ دہلی، ہریانہ اور دیگر ریاستوں کی حکومتیں خود قانون ہاتھ میں لینے کا سلسلہ فوری طورپر بند کریں۔انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا:“جس طرح کوئی دہشت گرد قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتا، اسی طرح حکومتیں بھی قانون سے اوپر نہیں ہوسکتیں۔ ایسے اقدامات صرف خوف اور ناانصافی کو بڑھاتے ہیں۔”
آئی۔ ایم۔ سی۔ آر کے چیئرمین محمد ادیب نے مزید الزام لگایا کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں بروقت کارروائی میں ناکام رہتی ہیں اور بعد میں “ڈھول بجا کر” مسلم نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دیتی ہیں، جس سے نہ صرف خاندان متاثر ہوتے ہیں بلکہ پورے معاشرے میں عدم تحفظ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایجینسیاں اپنی ان حرکتوں سے باز نہیں آتی ہیں تو ہم اس کے خلاف عدالت رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ۔پریس ریلیز








