وائٹ ہاؤس کے سینئر عہدیداروں نے اس ہفتے شام پر اسرائیلی فضائی حملوں کے سلسلے کے بعد خطے میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی "حرکات” پر اپنی بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان حملوں سے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔وائٹ ہاؤس کے ذرائع نے نیتن یاہو کے طرز عمل کو "بے قابو” اور "پاگل پن” قرار دیا اور کہا کہ اس سے صدر ٹرمپ کی علاقائی استحکام کے حصول کی کوششوں کے کمزور ہونے کا خطرہ ہے۔منگل کو اس وقت کشیدگی میں اضافہ ہوا جب اسرائیل نے شامی فوج کے ٹینکوں کے اس قافلے پر بمباری کی جو سویداء شہر کی طرف جا رہا تھا تاکہ دروز ملیشیا اور مسلح بدوی قبائل کے درمیان شدید جھڑپوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ قافلہ جنوبی شام میں غیر فوجی علاقے میں داخل ہو گیا تھا اور شامی فوج دروز اقلیت کے خلاف حملوں میں ملوث تھی۔ اس کی دمشق نے تردید کی ہے۔ اگرچہ امریکی ایلچی تھامس براک نے اپنے اسرائیلی ہم منصبوں سے سفارتی حل کے لیے پیچھے ہٹنے کی درخواست کی اور اسرائیلیوں نے ابتدائی طور پر اس پر عمل کرنے کا عہد کیا لیکن اسرائیل نے بعد میں اپنے حملوں کو تیز کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق بدھ کو اسرائیلی نے شامی فوجی نے ہیڈکوارٹر اور صدارتی محل کے قریب بم گرائے گئے۔
ٹرمپ اور عہدیداروں کا غصہ
ان حملوں نے صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کو حیران کر دیا۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹیلی ویژن پر کسی ایسے ملک میں بم گرتے دیکھنا پسند نہیں کرتے جہاں وہ امن کی تلاش میں ہیں۔ انہوں نے تعمیر نو میں مدد کے لیے ایک اہم اعلان جاری کیا ہے۔ بات اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو نیتن یاہو اور ان کی ٹیم کو بتایا کہ انہیں رک جانا چاہیےدوسری جانب ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے شام پر حملوں کی امریکی تردید پر حیرت کا اظہار کیا۔ عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ نے اپنی مدت کے ابتدائی ہفتوں میں نیتن یاہو کو شام کے کچھ حصوں پر قابو پانے کی ترغیب دی تھی اور پہلے کبھی اسرائیل کی ملک میں مداخلت کے بارے میں کوئی تشویش ظاہر نہیں کی تھی۔ عہدیدار نے زور دیا کہ اسرائیل نے صرف اس وقت مداخلت کی جب اس کی خفیہ معلومات نے شامی حکومت کو دروز پر حملوں میں ملوث ہونے کی نشاندہی کی۔










