اردو
हिन्दी
مارچ 11, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

نربھیا،آصفہ،گڑیا،رابعہ نام الگ الگ ہیں کہانی ایک ہے

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
نربھیا،آصفہ،گڑیا،رابعہ نام الگ الگ ہیں کہانی ایک ہے
80
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

کلیم الحفیظ۔دہلی

تاریخ کے مختصر دور کو چھوڑ کر عورت ہمیشہ مظلوم رہی ہے۔مذہب کے نام پر بھی عورت کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے ۔دین اسلام نے جو حقوق عورت کو عطا کیے تھے اور رحمۃ العٰلمین نے جس مقام بلند پر عورت کو فائز کیا تھا ،مسلمانوں نے بھی ان تعلیمات پر کما حقہٗ عمل نہ کرکے خود کی بھی رسوا ئی کا سامان کیااور دین اسلام کی رسوائی کا سبب بھی بنے ۔ آسمانی دین کے نام پر بقیہ مذاہب جو آج موجود ہیں ان میں تو عورت کو انسانی درجے سے بھی گراد یا گیا ہے۔عورت پر ظلم و ستم مذاہب کی تحریف شدہ اور غیر انسانی تعلیمات کا نتیجہ بھی ہے۔لیکن موجودہ جمہوری معاشرے میں جہاں گرام پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک اور ایک چپراسی سے لے کر اعلیٰ مناصب تک عورت کی رسائی ہوچکی ہو۔جس نظام کا دعویٰ ہو کہ اس نے عورت کو مساوات کاحق دے کر مرد وں کے برابر لاکر کھڑا کردیا ہے۔اس نظام میں اگر عورت کے ساتھ ظلم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ غیر انسانی سلوک اختیار کیا جاتا ہے تو تعجب ہوتا ہے۔زمانہ جس قدر ترقی کررہا ہے اسی رفتار سے جرائم میں اضافہ نظر آرہا ہے۔ہمارا ملک بھارت اس سلسلے میں کچھ زیادہ ہی ترقی یافتہ ہے۔’’بیٹی بچائو اور بیٹی پڑھائو‘‘ اور ’’میرا ایمان ناری سمان‘‘ کے نعروں کے بعد خواتین کی عصمت دری اور ان پر ظلم و ستم میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔خواتین کے ساتھ اغوا ،زنا بالجبر اور پھر دردناک قتل،یہ سارے مراحل آپ کو ہر کیس میں نظر آجائیں گے ۔آپ یہ بھی پائیں گے کہ متاثرہ خاتون کا تعلق دلت،بالمیکی یا مسلمان طبقے سے ہوگا۔ظالم اعلیٰ ذات کا ہوگا اور حکمراں جماعت سے اس کے رشتے ہوں گے۔

خواتین پر ظلم و ستم کے کئی اسباب ہیں ۔جن پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔سب سے پہلا سبب میرے نزدیک جیسا کہ میں نے اپنے دوسرے جملے میں ہی اشارہ کیا کہ مذہب کے نام پر عورتوں سے متعلق جو نظریات سماج میں پائے جاتے ہیں وہ قابل توجہ ہیں ۔جس دھرم میں عورت کا شمار جانوروں کے بعد آتا ہو،جسے خریدا اور بیچا جا سکتا ہو،یا جسے وراثت میں تقسیم کیا جاسکتا ہو،جہاں اسے گناہوں کی دیوی اور پاپ کی جننی کہا جاتا ہو،جہاں اس کی شکل دیکھ لینے سے نیکیاں اکارت ہوجاتی ہوں،جہاں عورت پر جنت سے مکلوانے کا الزام ہو۔ اس مذہب اور کلچرکے ماننے والے مردوں سے عورت کے احترام کی امید رکھنا فضول ہے۔اس پر مزید یہ کہ اگر اس عورت کا تعلق مسلم، دلت اور شودر طبقے سے ہو تب تو اعلیٰ ذات کے مردوں کے لیے وہ ہر طرح حلال ہے۔عصمت دری کی شکار خواتین کی 90فیصد تعداد اسی طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔بھارت جیسے دھرم پردھان دیش میں کسی دھرم کی یہ تعلیمات کہیں نہ کہیں اپنا اثر ضرور دکھاتی ہیں۔مسلم بچیوں کے ساتھ یہ درندگی بیشتر مقامات پر اکثریتی فرقے کی طرف سے ہی ہوتی ہے ،بہت کم معاملات ایسے ہیں جہاں درندوں کا تعلق مسلمانوں سے ہے ۔لیکن مسلمانوں کے تعلق سے یہ بات لائق اطمینان ہے کہ عورت کے ساتھ زیادتی کی حمایت ان کا دین نہیں کرتا۔

دوسرا بڑا سبب ملک میں قانون نافذ کرنے والے اور فیصلہ کرنے والے اداروں کا کرپشن ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ بھارتی پولس کرپشن میں دنیا میں نمبر ایک ہے۔یہاں بڑے سے بڑا مجرم پیسے دے کر چھوٹ جاتا ہے۔یہاں ذرا سے لالچ میں بے گناہوں کو پابند سلاسل کردیا جاتا ہے،یہاں حکمراں جماعت کے نیتائوں کے دبائومیں پولس اپنے فرائض سے منھ موڑ لیتی ہے۔جب کسی ملک میں قانون کے محافظ ہی راہزن بن جائیں تو اس ملک میں اس طرح کے واقعات کو کیسے روکا جاسکتا ہے۔آپ جس کیس کو چاہیں اٹھا کر دیکھ لیں ،اس میں پولس FIRہی لکھنے پر تیار نہیں ہوگی،لکھے گی تو مجرم کو بچنے کا راستا دے گی،متاثرین کو بھی مقدمات میں پھانس لے گی،انھیں ڈرائے اور دھمکائے گی۔کسی طرح معاملہ عدالت تک پہنچ بھی گیا تو گواہ نہیںملیں گے ۔عدالتی نظام کی پیچیدگیاں ،مقدمات کے بروقت فیصلے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں ،انصاف میں تاخیر مجرموں کے حوصلے بڑھاتی ہے۔ہر کسی کا مقدر نربھیا جیسا نہیں ہوتا کہ سارا ملک اس کے ساتھ کھڑا ہوجائے اور پھر عدالت کو انصاف پر مجبور ہونا پڑے۔بدقسمتی یہ ہے کہ نربھیا کے زمانے میں جو لوگ اس کو انصاف دلانے کے لیے سڑکوں پر احتجاج کررہے تھے وہی لوگ آج حکومت میں ہیں اور ان کے دور اقتدار میں ہرروز ایک نربھیا ہوس کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔

ایک سبب ہمارا تعلیمی نصاب اور تعلیمی نظام بھی ہے ۔پورے نصاب تعلیم میں انسان دوستی،جنس مقابل کا احترام،عزت و عصمت کی حفاظت کے عنوان پر کوئی کتاب نہیں ہے ،ہے بھی تو پڑھائی نہیں جاتی۔اس کے بجائے جنسی خواہشات میں اضافہ کرنے والے اسباب فراہم ہیں،مثال کے طور پر مخلوط نظام تعلیم،یونیفارم کے نام پر عریانیت،کلچرل پرگرام کے نام ڈانس،بیشتر اسکولوں میں مرد اساتذہ کے خواتین اساتذہ کے معاشقے وغیرہ۔نہ وہ اساتذہ ہیں جو اپنے طلبہ کو اخلاقی اقدار سکھاتے تھے،نہ وہ والدین ہیں جو اپنے بچوں پر نظر رکھتے تھے ۔نظام تعلیم کی اس خرابی نے انسانیت کو حیوانیت کے مقام پر لاکر کھڑا کردیا ہے۔

دھرم ،ذات اورپارٹیوں کی عصبیت نے بھی مجرموں کے حوصلے بلند کیے ہیں ۔ جب انصاف اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دھرم اور ذات دیکھ کر کارروائی کرتے ہوں ،جہاں حکمراں جماعت اور حزب اختلاف کے درمیان عدل کے پیمانے بدل جاتے ہوں ،وہاں سب سے پہلے جو چیز غیر محفوظ ہوتی ہے وہ انسان کی جان ہے ،انسانوں میں چونکہ عورت کمزور ہوتی ہے اس لیے سب سے زیادہ مظلوم بھی وہی ہوتی ہے۔مجرم اگر حکمراں جماعت سے تعلق رکھتا ہے تو اس پر مقدمات قائم ہی نہیں کیے جاتے ،کسی دبائو میں آکر پولس FIRلکھنے پر مجبور بھی ہوتی ہے تو دفعات ہلکی کردی جاتی ہیں۔اس اندھیر نگری میں کبھی کبھی تو گناہ گار کے بدلے بے گناہ جیل بھیج دیے جاتے ہیں۔

جرائم میں اضافہ خاص طور پر خواتین کے ساتھ جرائم میں اضافہ کا ایک سبب میڈیا بھی ہے ۔میڈیا بھی دو حصوں میں منقسم ہے ایک وہ گروہ ہے جسے حکومت کی سرپرستی حاصل ہے،یہ گروہ بڑا بھی ہے اور مضبوط بھی،یہ وہی کچھ دکھاتا اور لکھتا ہے جو حکومت چاہتی ہے۔دوسرا گروہ جو حکومت کی سرپرستی سے محروم ہے ۔وہ بہت چھوٹا ہے ۔اس کی آواز دب جاتی ہے۔یا دبا دی جاتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ملک کے سارے ستون میڈیا،انتظامیہ،عدلیہ مجرم کی حوصلہ افزائی کرنے میں مصروف ہوںتب آپ کی بہو بیٹیاں کیسے محفوظ رہ سکتی ہیں؟

سوال یہ ہے کہ ان حالات میں ہماری کیا ذمہ داری ہے۔کیا آئین میں درج کردینے سے خواتین کو تحفظ اور برابری کے حقوق حاصل ہوسکتے ہیں؟کیا سڑکوں ،بسوں ،اور آٹو رکشہ پر نعرے لکھ دینے سے عورت کی عزت و عظمت کو باقی رکھا جاسکتا ہے؟کیا مہیلا دیوس منالینے سے عورت محفوظ ہوجاتی ہے؟یا اس کے لیے ہمیں اپنے ذہن ،دل اور دماغ کی تربیت کرنا ہوگی۔جہاں عورت کے بارے میں برے اور گندے خیالات پرورش پاتے ہیں۔کیا ہمیں اپنے نصاب تعلیم میں خواتین کی حرمت و تقدس پر مبنی اسباق کو شامل نہیں کرنا چاہئے؟کیا ہمیں اپنے مخلوط نظام تعلیم اور دفاتر میں مخلوط سوسائٹی پر غور نہیں کرنا چاہیے؟خواتین کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کے پاس ان کی جان سے زیادہ ان کی عزت ہے۔خواتین کو ان مرددانشوروںسے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے جوان کی آزادی کی تحریک اپنے دل و نگاہ کی تسکین کے لیے چلاتے ہیں۔انھیں خواتین سے کوئی ہمدردی نہیں ہوتی۔جب ایک ایسی لڑکی جو خود دوسروں کی حفاظت کی ٹریننگ لے چکی ہو ،اس کو ایک ایسے ظالم کا شکار ہوسکتی ہے جو خود قانون کا محافظ ہو تو باقی عام لڑکیوں کی حفاظت کا سوال بے معنیٰ ہے ۔جب انسانیت کے محافظ ہی عزت لوٹنے اور جان لینے پر اتر آئیں تو راہ چلتے آوارہ لڑکوں سے کسی قسم کی اخلاقیات کی امید کیسے کی جاسکتی ہے؟ضروری ہے کہ اہل اقتدار ان پالیسیوں پر از سر نو غور کریں جن کی وجہ سے ملک میں فحاشی اوربے حیائی میں اضافہ ہورہا ہے۔قانون کے محافظ اور عدل و انصاف کے علم بردار بھی جائزہ لیں کہ آخر مجرموں کے حوصلے کیوں بلند ہورہے ہیں؟اہل حکومت یہ نہ سوچیں کہ ان کی بچیاں محفوظ ہیں ۔جب بھیڑیوں کے منھ کو انسانی خون لگ جاتا ہے تو وہ اپنی بھوک مٹانے کے لیے مالک پر بھی حملہ کردیتا ہے۔

(یہ مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
Sanjeev Srivastava Kachori Controversy Debate
مضامین

بی بی سی نیوز کے انڈیا ہیڈ رہے سنجیو سریواستو کے کچوری کی دکان کھولنے پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟

24 فروری
Bhagwat Commentary Critical Analysis
مضامین

ملاحظات: بھاگوت بھٹکاؤ کی راہ پر

23 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Iran War Secret Briefing

ایران جنگ پر امریکی کانگریس کی ‘خفیہ بریفنگ نے دنیا کی نیند اڑادی٫ جانیں ایسا کیا ہے رپورٹ میں؟

Iran Israel Strikes Damage

اسرائیل کو کھنڈر بنارہا ہے ایران،بن گورین ایئرپورٹ ،فوج کا کمیونکیشن سسٹم تباہ، بینک، مالیاتی ادارے نشانے پر

تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

Uttam Nagar Incident Jamiat News

اتم نگر واقعہ پر جمعیتہ آگے بڑھی، جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات، وزیر داخلہ کو مکتوب

Iran War Secret Briefing

ایران جنگ پر امریکی کانگریس کی ‘خفیہ بریفنگ نے دنیا کی نیند اڑادی٫ جانیں ایسا کیا ہے رپورٹ میں؟

مارچ 11, 2026
Iran Israel Strikes Damage

اسرائیل کو کھنڈر بنارہا ہے ایران،بن گورین ایئرپورٹ ،فوج کا کمیونکیشن سسٹم تباہ، بینک، مالیاتی ادارے نشانے پر

مارچ 11, 2026
تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

مارچ 11, 2026
Uttam Nagar Incident Jamiat News

اتم نگر واقعہ پر جمعیتہ آگے بڑھی، جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات، وزیر داخلہ کو مکتوب

مارچ 10, 2026

حالیہ خبریں

Iran War Secret Briefing

ایران جنگ پر امریکی کانگریس کی ‘خفیہ بریفنگ نے دنیا کی نیند اڑادی٫ جانیں ایسا کیا ہے رپورٹ میں؟

مارچ 11, 2026
Iran Israel Strikes Damage

اسرائیل کو کھنڈر بنارہا ہے ایران،بن گورین ایئرپورٹ ،فوج کا کمیونکیشن سسٹم تباہ، بینک، مالیاتی ادارے نشانے پر

مارچ 11, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN