سپریم کورٹ نے دہلی-این سی آر میں آوارہ کتوں کو لے کر ایک اہم حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے اپنے پہلے کے حکم کو تبدیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی-این سی آر کے علاقے میں پکڑے گئے آوارہ کتوں کو ویکسینیشن اور نس بندی کے بعد واپس اسی جگہ چھوڑنا ہوگا۔ عدالت نے آوارہ کتوں کو سرعام کھلانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ جمعرات کو جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس این وی انجاریا کی تین رکنی بنچ نے سنایا۔
لائیو لا livelaw کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے بہت واضح الفاظ میں کہا ہے کہ کتے کو سرعام کھانا نہیں کھلانا چاہیے۔ ان کے لیے فیڈنگ سینٹر بنانے کا حکم دیا ہے۔ یہاں آوارہ کتوں کو ہی خوراک ملے گی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ جو کتوں کا رویہ جارحانہ ہے یا وہ ریبیز میں مبتلا ہیں انہیں نہیں چھوڑا جائے گا۔اگرچہ عدالت نے کتوں سے متعلق اپنے سابقہ حکم پر روک لگا دی ہے، لیکن اس نے 11 اگست کے فیصلے کا ایک اصول برقرار رکھا ہے – آوارہ کتوں کو اٹھانے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی۔ یعنی اگر میونسپل کارپوریشن یا ایم سی ڈی کا کوئی دستہ آوارہ کتوں کو پکڑنے جاتا ہے اور کوئی اس میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ عدالت کے اس حکم میں دہلی کے علاوہ گڑگاؤں، فرید آباد، نوئیڈا اور غازی آباد کی میونسپل کارپوریشن یا اتھارٹی بھی شامل ہے۔
6سپریم کورٹ نے جانوروں کے حقوق سے متعلق ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ آوارہ کتوں کو پکڑنے کے بعد ان کی مناسب دیکھ بھال کی جائے اور ویکسینیشن اور نس بندی کا عمل مکمل ہونے کے بعد انہیں ان کی اصل جگہ پر چھوڑ دیا جائے۔ یہ قدم آوارہ کتوں کی آبادی پر قابو پانے اور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔








