لکھنؤ : (ایجنسی)
اترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے ہی سیاسی سرگرمی تیز ہوگئی ہے۔ بی ایس پی سپریمو مایاوتی کے ذریعہ مختار انصاری کو ٹکٹ دینے سے انکار کرنے کے بعد اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے باہوبلی ایم ایل اے کو کھلا آفر دےدیا ہے ۔ اویسی نے کہا ہے کہ مختار انصاری اترپردیش کی جس سیٹ سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں ، وہاں کاٹکٹ وہ ان کی پارٹی سے لے سکتے ہیں۔ اویسی مشن یوپی میں مصروف ہوگئے ہیں۔ وہ اس مہینے کی 22,25,26اور 30 تاریخ کو یوپی دورے پر رہیں گے ۔ 22 ستمبر کو وہ سنبھل ، 25 کو پریاگ راج ، 26 کو کانپور اور 30 اکتوبر بہرائچ کا دورہ کریں گے ۔
اس سے پہلے بی ایس پی نے جمعہ کو یوپی اسمبلی انتخابات سے متعلق ایک بڑا اعلان کیا۔ مایاوتی نے کہاکہ آئندہ یوپی اسمبلی انتخاب میں بی ایس پی کی کوشش ہوگی کہ کسی بھی باہوبلی و مافیا وغیرہ کو پارٹی سے انتخاب نہ لڑایا جائے۔ اس کے مدنظر ہی اعظم گڑھ کی مئو اسمبلی سیٹ سے اب محتار انصاری کو نہیں، بلکہ یوپی کے بی ایس پی پردیش صدر بھیم راج بھر کو ٹکٹ دیا گیا ہے ۔
مایاوتی کے اعلان کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ مختار انصاری ایس پی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس سے قبل مختار انصاری کے بڑے بھائی صبغت اللہ نے بھی ایس پی کا دامن تھاما تھا۔ صبغت اللہ انصاری 2007 میں ایس پی اور 2012 میں قومی ایکتا دل سے غازی پور کے محمد آباد اسمبلی سیٹ سے ایم ایل اے رہے ہیں۔ اس کےبعد 2017 میں بی ایس پی سے میدان میں اترے، لیکن انہیں ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ اب صبغت اللہ ایس پی میں شامل ہوگئے ہیں۔
30جون 1963کو اترپردیش کے غازی پور ضلع کے محمد آباد گاؤں میں مختار انصاری کی پیدائش ہوئی۔ باہوبلی مختار انصاری کےپریوار کی تاریخ کافی اچھی رہی ہے ۔ انصاری کے دادا ڈاکٹرمختار احمد انصاری تحریک آزادی کے دوران 1926-27میں انڈین نیشنل کانگریس کے صدر تھے ۔ وہیں ان کے نانا مہاویر چکر فاتح بریگیڈیئر عثمان مختار تھے ۔
مختار انصاری کے والد سبحان اللہ انصاری کمیونسٹ لیڈر تھے۔ مئو اسمبلی سیٹ سے پانچویں بار ایم ایل اے مختار انصاری پہلی بار 1996 میں بی ایس پی کے ٹکٹ پر جیت کر اسمبلی پہنچے تھے۔ 2002,2007,2012اور پھر 2017 میں بھی مئو سے جیت حاصل کی۔ ان میں سے آخری تین انتخابات انہوں نے ملک کی الگ الگ جیلوں میں بند رہتے ہوئے لڑے۔ انصاری بردار ان نے 2012 میں اپنی سیاسی پارٹی قومی ایکتا دل بنائی تھی،حالانکہ بعدمیں ایس پی میں اس کاانضمام ہوگیا۔









