دوٹوک: قاسم سید
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جب ریاض کے لیے پرواز کی تو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ ایسی ڈیل کرنے جارہے ہیں جو دنیا کو چونکا دے گی اور خطہ کی سیاست پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے ـاس نے سب سے زیادہ بھارت کو فکر میں مبتلا کردیا پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض دو ملکوں کے درمیان ایک عسکری تعاون کا کاغذی اعلان نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے بدلتے توازن اور عالمی سیاست کے نئے رجحانات کا اظہار ہے۔ یہ معاہدہ دراصل کئی بڑے سوالات کو جنم دیتا ہے مثلا کیا سعودی عرب اب امریکی گارنٹی پر انحصار ختم کر رہا ہے؟ کیا پاکستان ایک بار پھر مسلم دنیا کا عسکری مرکز بننے جا رہا ہے؟ اور کیا بھارت کو اپنی اس حکمت عملی پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی جس کے تحت وہ پاکستان کو تنہا رکھنے میں کامیاب رہا تھا؟ یہ سوالات محض تجزیاتی نوعیت کے نہیں بلکہ مستقبل کے سفارتی اور دفاعی فیصلوں پر براہِ راست اثر ڈالنے والے ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو اس کی اسکرپٹ پہلے ہی لکھی جاچکی تھی مگر مہر لگائی قطر پر اسرائیل کے حملہ نے، جس نے پورے خلیجی خطے میں زلزلہ پیدا کر دیا۔ دوحہ میں امریکی اڈے موجود تھے، لیکن جب اسرائیل نے جارحانہ کارروائی کی تو امریکہ خاموش رہ گیاـ اس واقعے نے عرب دنیا میں یہ تاثر گہرا کر دیا کہ واشنگٹن کی سلامتی کی ضمانت محض کاغذی ہے، اس پر عملی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ خلیجی حکمران طبقے کو احساس ہوا کہ امریکہ جسے دہائیوں سے محافظ سمجھا جا رہا تھا، وہ اپنے قریبی اتحادی کو بھی اسرائیلی جارحیت سے محفوظ نہیں رکھ سکا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے سعودی قیادت کویہ موقع فراہم کیا کیا کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے نئے انتظامات کرے۔مگر کیا پاکستان درست انتخاب ہے؟
دراصل پاکستان سب سے فطری انتخاب تھا۔ ایک طرف وہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے اور دوسری طرف اس کی فوجی صلاحیت، جنگی تجربہ اور تاریخی روابط سعودی عرب کے لیے ہمیشہ کارآمد رہے ہیں۔ اسی لیے 17 ستمبر 2025 کو دونوں ملکوں نے ایک دفاعی معاہدہ طے کیا جس میں کہا گیا کہ کسی ایک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہوگا۔ بظاہر یہ شق ایک سادہ سا جملہ ہے مگر اس کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ اس سے سعودی عرب نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ امریکہ کی بجائے مسلم دنیا کے اندر سے اپنی سکیورٹی کا شراکت دار تلاش کرے گا، اور پاکستان نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ صرف خطے کی نہیں بلکہ وسیع تر مسلم جغرافیے کی سیکورٹی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
بھارت کے لیے یہ منظرنامہ بہت پیچیدہ ہے۔ اس کی پہلی پریشانی یہ ہے کہ پاکستان کو سعودی پشت پناہی حاصل ہونے کا مطلب ہے کہ وہ اب مکمل طور پر تنہا نہیں رہا۔ نئی دہلی کی پالیسی ہمیشہ یہی رہی ہے کہ اسلام آباد کو عالمی سطح پر الگ تھلگ رکھا جائے،خاص طور سے پہلگام کے بعد لیکن اب سعودی عرب ساتھ کھڑا ہے تو بھارت کی حکمت عملی کمزور ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب خلیجی ممالک بھارت کے سب سے بڑے توانائی فراہم کنندہ اور لاکھوں بھارتی مزدوروں کے میزبان ہیں، کروڑوں کے زرمبادلہ کا وسیلہ ہیں بھارت سعودی عرب کو ناراض کرنے کارسک نہیں کے سکتا
دوسری اور زیادہ حساس تشویش جوہری پہلو سے جڑی ہے۔ اگرچہ معاہدے میں صراحتاً جوہری ہتھیاروں کا ذکر نہیں ہے، لیکن عالمی سطح پر یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب ممکن ہے مستقبل میں پاکستان کے جوہری اثاثوں سے اپنی سلامتی کے لیے کسی نہ کسی شکل میں فائدہ اٹھانا چاہے۔ بھارت کے لیے یہ خدشہ ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں، کیونکہ اس کا پورا اسٹریٹجک توازن اسی بنیاد پر قائم ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام صرف برصغیر تک محدود ہے۔ اگر یہ خدشہ حقیقت بنتا ہے تو نئی دہلی کو اپنے دفاعی منصوبوں پر ازسرِنو غور کرنا پڑے گا۔اس معاہدے کا ایک اور اہم اثر سفارت کاری پر ہے۔ بھارت نے پچھلے برسوں میں سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کو گہرا کیا، لیکن اب ریاض نے اس کے سب سے بڑے حریف کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر لیا ہے۔ نئی دہلی کی تشویش یہ ہے کہ کہیں خلیج میں اس کا سیاسی اثر و رسوخ کم نہ ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزارتِ خارجہ نے فوری بیان دیا کہ اسے امید ہے سعودی عرب بھارت کی حساسیتوں کا خیال رکھے گا۔ یہ بیان سفارت کاری کی زبان میں ایک طرح کی بے بسی کا اظہار تھا۔وہیں یہ خبر بھی گردش میں ہے کہ دو اور خلیجی ممالک پاکستان سے ایسا ہی معاہدہ کرنے پر غور کررہے ہیں
یہ سب کچھ محض سعودی-پاکستانی تعلقات کی کہانی نہیں ہے بلکہ بڑی تصویر میں امریکہ کے زوال پذیر اعتماد کا بھی مظہر ہے۔ اگر واشنگٹن واقعی اپنے اتحادیوں کا دفاع کرنے کی پوزیشن میں ہوتا تو سعودی عرب کو کبھی یہ قدم اٹھانے کی ضرورت نہ پیش آتی۔ اسرائیل کے قطر پر حملے نے ثابت کر دیا کہ امریکہ اسرائیلی مہم جوئی کو روکنے کی سیاسی قوت نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ ریاض نے واشنگٹن نہیں اسلام آباد کا انتخاب کیا۔
،ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا سعودی عرب واقعی کسی پاک-بھارت جنگ میں براہِ راست ملوث ہوگا؟ غالب امکان یہی ہے کہ نہیں، کیونکہ سعودی پالیسی ہمیشہ احتیاط اور براہِ راست مداخلت سے گریز پر مبنی رہی ہے۔ لیکن پھر بھی اس معاہدے نے پاکستان کو وہ سیاسی وزن دے دیا ہے جس سے بھارت کے لیے اس کع نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ اب اگر برصغیر میں کشیدگی بڑھے تو نئی دہلی کو یہ سوچنا پڑے گا کہ کہیں یہ کشیدگی خلیج تک نہ پھیل جائے اور کہیں سعودی عرب سیاسی یا معاشی سطح پر اسلام آباد کے حق میں کھڑا نہ ہو جائےـ معاہدہ بیک وقت کئی پیغامات رکھتا ہے: مسلم دنیا کے لیے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے اندرونی قوتوں پر بھروسہ کرے؛ واشنگٹن کے لیے کہ اس کا پرانا اعتماد ختم ہو رہا ہے؛ اور بھارت کے لیے کہ وہ اب پاکستان کو صرف سرحدی حریف نہ سمجھے بلکہ ایک ایسا ملک سمجھے جسے بڑے عرب ملک کی پشت پناہی حاصل ہے۔ فی الوقت یہ معاہدہ زیادہ تر علامتی ہے، لیکن اس کی علامتی اہمیت ہی اتنی بڑی ہے کہ اس نے خطے کے طاقت کے توازن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ بھارت کی بڑھتی سفارتی تنہائی کے لیے یہ بہت بڑا امتحان ہے ـ











