اردو
हिन्दी
جنوری 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

پاک ـ سعودی عرب ڈیل کے ممکنہ اثرات

4 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ اداریے
A A
0
پاک ـ سعودی عرب ڈیل کے ممکنہ اثرات
1
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

دوٹوک: قاسم سید 
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جب ریاض کے لیے پرواز کی تو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ ایسی ڈیل کرنے جارہے ہیں جو دنیا کو چونکا دے گی اور خطہ کی سیاست پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے ـاس نے سب سے زیادہ بھارت کو فکر میں مبتلا کردیا پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض دو ملکوں کے درمیان ایک عسکری تعاون کا کاغذی اعلان نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے بدلتے توازن اور عالمی سیاست کے نئے رجحانات کا اظہار ہے۔ یہ معاہدہ دراصل کئی بڑے سوالات کو جنم دیتا ہے مثلا کیا سعودی عرب اب امریکی گارنٹی پر انحصار ختم کر رہا ہے؟ کیا پاکستان ایک بار پھر مسلم دنیا کا عسکری مرکز بننے جا رہا ہے؟ اور کیا بھارت کو اپنی اس حکمت عملی پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی جس کے تحت وہ پاکستان کو تنہا رکھنے میں کامیاب رہا تھا؟ یہ سوالات محض تجزیاتی نوعیت کے نہیں بلکہ مستقبل کے سفارتی اور دفاعی فیصلوں پر براہِ راست اثر ڈالنے والے ہیں۔


اگر دیکھا جائے تو اس کی اسکرپٹ پہلے ہی لکھی جاچکی تھی مگر مہر لگائی قطر پر اسرائیل کے حملہ نے، جس نے پورے خلیجی خطے میں زلزلہ پیدا کر دیا۔ دوحہ میں امریکی اڈے موجود تھے، لیکن جب اسرائیل نے جارحانہ کارروائی کی تو امریکہ خاموش رہ گیاـ اس واقعے نے عرب دنیا میں یہ تاثر گہرا کر دیا کہ واشنگٹن کی سلامتی کی ضمانت محض کاغذی ہے، اس پر عملی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ خلیجی حکمران طبقے کو احساس ہوا کہ امریکہ جسے دہائیوں سے محافظ سمجھا جا رہا تھا، وہ اپنے قریبی اتحادی کو بھی اسرائیلی جارحیت سے محفوظ نہیں رکھ سکا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے سعودی قیادت کویہ موقع فراہم کیا کیا کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے نئے انتظامات کرے۔مگر کیا پاکستان درست انتخاب ہے؟


دراصل پاکستان سب سے فطری انتخاب تھا۔ ایک طرف وہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے اور دوسری طرف اس کی فوجی صلاحیت، جنگی تجربہ اور تاریخی روابط سعودی عرب کے لیے ہمیشہ کارآمد رہے ہیں۔ اسی لیے 17 ستمبر 2025 کو دونوں ملکوں نے ایک دفاعی معاہدہ طے کیا جس میں کہا گیا کہ کسی ایک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہوگا۔ بظاہر یہ شق ایک سادہ سا جملہ ہے مگر اس کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ اس سے سعودی عرب نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ امریکہ کی بجائے مسلم دنیا کے اندر سے اپنی سکیورٹی کا شراکت دار تلاش کرے گا، اور پاکستان نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ صرف خطے کی نہیں بلکہ وسیع تر مسلم جغرافیے کی سیکورٹی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔


بھارت کے لیے یہ منظرنامہ بہت پیچیدہ ہے۔ اس کی پہلی پریشانی یہ ہے کہ پاکستان کو سعودی پشت پناہی حاصل ہونے کا مطلب ہے کہ وہ اب مکمل طور پر تنہا نہیں رہا۔ نئی دہلی کی پالیسی ہمیشہ یہی رہی ہے کہ اسلام آباد کو عالمی سطح پر الگ تھلگ رکھا جائے،خاص طور سے پہلگام کے بعد لیکن اب سعودی عرب ساتھ کھڑا ہے تو بھارت کی حکمت عملی کمزور ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب خلیجی ممالک بھارت کے سب سے بڑے توانائی فراہم کنندہ اور لاکھوں بھارتی مزدوروں کے میزبان ہیں، کروڑوں کے زرمبادلہ کا وسیلہ ہیں بھارت سعودی عرب کو ناراض کرنے کارسک نہیں کے سکتا
دوسری اور زیادہ حساس تشویش جوہری پہلو سے جڑی ہے۔ اگرچہ معاہدے میں صراحتاً جوہری ہتھیاروں کا ذکر نہیں ہے، لیکن عالمی سطح پر یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب ممکن ہے مستقبل میں پاکستان کے جوہری اثاثوں سے اپنی سلامتی کے لیے کسی نہ کسی شکل میں فائدہ اٹھانا چاہے۔ بھارت کے لیے یہ خدشہ ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں، کیونکہ اس کا پورا اسٹریٹجک توازن اسی بنیاد پر قائم ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام صرف برصغیر تک محدود ہے۔ اگر یہ خدشہ حقیقت بنتا ہے تو نئی دہلی کو اپنے دفاعی منصوبوں پر ازسرِنو غور کرنا پڑے گا۔اس معاہدے کا ایک اور اہم اثر سفارت کاری پر ہے۔ بھارت نے پچھلے برسوں میں سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کو گہرا کیا، لیکن اب ریاض نے اس کے سب سے بڑے حریف کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر لیا ہے۔ نئی دہلی کی تشویش یہ ہے کہ کہیں خلیج میں اس کا سیاسی اثر و رسوخ کم نہ ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزارتِ خارجہ نے فوری بیان دیا کہ اسے امید ہے سعودی عرب بھارت کی حساسیتوں کا خیال رکھے گا۔ یہ بیان سفارت کاری کی زبان میں ایک طرح کی بے بسی کا اظہار تھا۔وہیں یہ خبر بھی گردش میں ہے کہ دو اور خلیجی ممالک پاکستان سے ایسا ہی معاہدہ کرنے پر غور کررہے ہیں
یہ سب کچھ محض سعودی-پاکستانی تعلقات کی کہانی نہیں ہے بلکہ بڑی تصویر میں امریکہ کے زوال پذیر اعتماد کا بھی مظہر ہے۔ اگر واشنگٹن واقعی اپنے اتحادیوں کا دفاع کرنے کی پوزیشن میں ہوتا تو سعودی عرب کو کبھی یہ قدم اٹھانے کی ضرورت نہ پیش آتی۔ اسرائیل کے قطر پر حملے نے ثابت کر دیا کہ امریکہ اسرائیلی مہم جوئی کو روکنے کی سیاسی قوت نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ ریاض نے واشنگٹن نہیں اسلام آباد کا انتخاب کیا۔

،ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا سعودی عرب واقعی کسی پاک-بھارت جنگ میں براہِ راست ملوث ہوگا؟ غالب امکان یہی ہے کہ نہیں، کیونکہ سعودی پالیسی ہمیشہ احتیاط اور براہِ راست مداخلت سے گریز پر مبنی رہی ہے۔ لیکن پھر بھی اس معاہدے نے پاکستان کو وہ سیاسی وزن دے دیا ہے جس سے بھارت کے لیے اس کع نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ اب اگر برصغیر میں کشیدگی بڑھے تو نئی دہلی کو یہ سوچنا پڑے گا کہ کہیں یہ کشیدگی خلیج تک نہ پھیل جائے اور کہیں سعودی عرب سیاسی یا معاشی سطح پر اسلام آباد کے حق میں کھڑا نہ ہو جائےـ معاہدہ بیک وقت کئی پیغامات رکھتا ہے: مسلم دنیا کے لیے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے اندرونی قوتوں پر بھروسہ کرے؛ واشنگٹن کے لیے کہ اس کا پرانا اعتماد ختم ہو رہا ہے؛ اور بھارت کے لیے کہ وہ اب پاکستان کو صرف سرحدی حریف نہ سمجھے بلکہ ایک ایسا ملک سمجھے جسے بڑے عرب ملک کی پشت پناہی حاصل ہے۔ فی الوقت یہ معاہدہ زیادہ تر علامتی ہے، لیکن اس کی علامتی اہمیت ہی اتنی بڑی ہے کہ اس نے خطے کے طاقت کے توازن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ بھارت کی بڑھتی سفارتی تنہائی کے لیے یہ بہت بڑا امتحان ہے ـ

ٹیگ: GeopoliticsImpact on IndiaPakistan EconomyPakistan Saudi Dealqasim syedSaudi Investmentبھارت پر اثراتپاک سعودی معاہدہپاکستان معیشتجیوپولیٹکسسعودی عرب سرمایہ کاری

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

editoreal qasim syed on iran
اداریے

ایران میں ‘شورش’جڑ میں کون، اصلی کھیل کیا ہے؟

11 جنوری
ایماندارانہ احتساب 2025
اداریے

2025 :ثقافتی جارحیت اورمزید آزمائشوں کا سال

04 جنوری
دہلی فساد 2020 عدالتی فیصلہ
اداریے

مولانا محمود مدنی کا بیانیہ استقامت کا پل صراط پار کر جائے گا؟

02 دسمبر
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Evening News Brief

ایوننگ نیوز: اختصار کے ساتھ

دسمبر 28, 2025
Trump Iran Non-Military Targets

ٹرمپ کا ایران میں غیر فوجی اہداف نشانہ بنانے پر غور: امریکی میڈیا کا دعویٰ

جنوری 11, 2026
پرواز رحمانی تحریکی صحافت

پرواز رحمانی: تحریکی صحافت کے علمبردار

جنوری 10, 2026
طالبان افغان سفارت خانہ دہلی

طالبان سفارت کار نئی دہلی میں افغان سفارت خانے کا چارج سنبھالیں گے، کیا ہیں اشارے ؟

جنوری 10, 2026
سپریم کورٹ ٹیرر فنڈنگ سماعت

خزانہ کھولیں، اسپیشل کورٹ قائم کریں…’ سپریم کورٹ نے ٹیرر فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران حکومت سے یہ کیوں کہا؟

سناتن دھرم ہیٹ اسپیچ فیصلہ

سناتن دھرم پر تبصرہ ہیٹ اسپیچ ہے: مدراس ہائی کورٹ، اور دیگر زہریلے بیان؟

Supreme Court Hate Speech Case

سپریم کورٹ نے ہیٹ اسپیچ کے مقدمات کا فیصلہ محفوظ کر لیا، بیشتر درخواستیں بند کر دیں۔پوری بحث پڑھیں

India Bangladesh Minority Advice

بھارت اپنی اقلیتوں کا خیال رکھے،بنگلہ دیش کا ‘مشورہ’ جماعت اسلامی کا بی جے پی سے موازنہ کیا،

سپریم کورٹ ٹیرر فنڈنگ سماعت

خزانہ کھولیں، اسپیشل کورٹ قائم کریں…’ سپریم کورٹ نے ٹیرر فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران حکومت سے یہ کیوں کہا؟

جنوری 21, 2026
سناتن دھرم ہیٹ اسپیچ فیصلہ

سناتن دھرم پر تبصرہ ہیٹ اسپیچ ہے: مدراس ہائی کورٹ، اور دیگر زہریلے بیان؟

جنوری 21, 2026
Supreme Court Hate Speech Case

سپریم کورٹ نے ہیٹ اسپیچ کے مقدمات کا فیصلہ محفوظ کر لیا، بیشتر درخواستیں بند کر دیں۔پوری بحث پڑھیں

جنوری 21, 2026
India Bangladesh Minority Advice

بھارت اپنی اقلیتوں کا خیال رکھے،بنگلہ دیش کا ‘مشورہ’ جماعت اسلامی کا بی جے پی سے موازنہ کیا،

جنوری 21, 2026

حالیہ خبریں

سپریم کورٹ ٹیرر فنڈنگ سماعت

خزانہ کھولیں، اسپیشل کورٹ قائم کریں…’ سپریم کورٹ نے ٹیرر فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران حکومت سے یہ کیوں کہا؟

جنوری 21, 2026
سناتن دھرم ہیٹ اسپیچ فیصلہ

سناتن دھرم پر تبصرہ ہیٹ اسپیچ ہے: مدراس ہائی کورٹ، اور دیگر زہریلے بیان؟

جنوری 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN