اردو
हिन्दी
اپریل 30, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

پاک ـ سعودی عرب ڈیل کے ممکنہ اثرات

7 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ اداریے
A A
0
پاک ـ سعودی عرب ڈیل کے ممکنہ اثرات
1
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

دوٹوک: قاسم سید 
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جب ریاض کے لیے پرواز کی تو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ ایسی ڈیل کرنے جارہے ہیں جو دنیا کو چونکا دے گی اور خطہ کی سیاست پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے ـاس نے سب سے زیادہ بھارت کو فکر میں مبتلا کردیا پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض دو ملکوں کے درمیان ایک عسکری تعاون کا کاغذی اعلان نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے بدلتے توازن اور عالمی سیاست کے نئے رجحانات کا اظہار ہے۔ یہ معاہدہ دراصل کئی بڑے سوالات کو جنم دیتا ہے مثلا کیا سعودی عرب اب امریکی گارنٹی پر انحصار ختم کر رہا ہے؟ کیا پاکستان ایک بار پھر مسلم دنیا کا عسکری مرکز بننے جا رہا ہے؟ اور کیا بھارت کو اپنی اس حکمت عملی پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی جس کے تحت وہ پاکستان کو تنہا رکھنے میں کامیاب رہا تھا؟ یہ سوالات محض تجزیاتی نوعیت کے نہیں بلکہ مستقبل کے سفارتی اور دفاعی فیصلوں پر براہِ راست اثر ڈالنے والے ہیں۔


اگر دیکھا جائے تو اس کی اسکرپٹ پہلے ہی لکھی جاچکی تھی مگر مہر لگائی قطر پر اسرائیل کے حملہ نے، جس نے پورے خلیجی خطے میں زلزلہ پیدا کر دیا۔ دوحہ میں امریکی اڈے موجود تھے، لیکن جب اسرائیل نے جارحانہ کارروائی کی تو امریکہ خاموش رہ گیاـ اس واقعے نے عرب دنیا میں یہ تاثر گہرا کر دیا کہ واشنگٹن کی سلامتی کی ضمانت محض کاغذی ہے، اس پر عملی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ خلیجی حکمران طبقے کو احساس ہوا کہ امریکہ جسے دہائیوں سے محافظ سمجھا جا رہا تھا، وہ اپنے قریبی اتحادی کو بھی اسرائیلی جارحیت سے محفوظ نہیں رکھ سکا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے سعودی قیادت کویہ موقع فراہم کیا کیا کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے نئے انتظامات کرے۔مگر کیا پاکستان درست انتخاب ہے؟


دراصل پاکستان سب سے فطری انتخاب تھا۔ ایک طرف وہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے اور دوسری طرف اس کی فوجی صلاحیت، جنگی تجربہ اور تاریخی روابط سعودی عرب کے لیے ہمیشہ کارآمد رہے ہیں۔ اسی لیے 17 ستمبر 2025 کو دونوں ملکوں نے ایک دفاعی معاہدہ طے کیا جس میں کہا گیا کہ کسی ایک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہوگا۔ بظاہر یہ شق ایک سادہ سا جملہ ہے مگر اس کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ اس سے سعودی عرب نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ امریکہ کی بجائے مسلم دنیا کے اندر سے اپنی سکیورٹی کا شراکت دار تلاش کرے گا، اور پاکستان نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ صرف خطے کی نہیں بلکہ وسیع تر مسلم جغرافیے کی سیکورٹی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔


بھارت کے لیے یہ منظرنامہ بہت پیچیدہ ہے۔ اس کی پہلی پریشانی یہ ہے کہ پاکستان کو سعودی پشت پناہی حاصل ہونے کا مطلب ہے کہ وہ اب مکمل طور پر تنہا نہیں رہا۔ نئی دہلی کی پالیسی ہمیشہ یہی رہی ہے کہ اسلام آباد کو عالمی سطح پر الگ تھلگ رکھا جائے،خاص طور سے پہلگام کے بعد لیکن اب سعودی عرب ساتھ کھڑا ہے تو بھارت کی حکمت عملی کمزور ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب خلیجی ممالک بھارت کے سب سے بڑے توانائی فراہم کنندہ اور لاکھوں بھارتی مزدوروں کے میزبان ہیں، کروڑوں کے زرمبادلہ کا وسیلہ ہیں بھارت سعودی عرب کو ناراض کرنے کارسک نہیں کے سکتا
دوسری اور زیادہ حساس تشویش جوہری پہلو سے جڑی ہے۔ اگرچہ معاہدے میں صراحتاً جوہری ہتھیاروں کا ذکر نہیں ہے، لیکن عالمی سطح پر یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب ممکن ہے مستقبل میں پاکستان کے جوہری اثاثوں سے اپنی سلامتی کے لیے کسی نہ کسی شکل میں فائدہ اٹھانا چاہے۔ بھارت کے لیے یہ خدشہ ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں، کیونکہ اس کا پورا اسٹریٹجک توازن اسی بنیاد پر قائم ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام صرف برصغیر تک محدود ہے۔ اگر یہ خدشہ حقیقت بنتا ہے تو نئی دہلی کو اپنے دفاعی منصوبوں پر ازسرِنو غور کرنا پڑے گا۔اس معاہدے کا ایک اور اہم اثر سفارت کاری پر ہے۔ بھارت نے پچھلے برسوں میں سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کو گہرا کیا، لیکن اب ریاض نے اس کے سب سے بڑے حریف کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر لیا ہے۔ نئی دہلی کی تشویش یہ ہے کہ کہیں خلیج میں اس کا سیاسی اثر و رسوخ کم نہ ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزارتِ خارجہ نے فوری بیان دیا کہ اسے امید ہے سعودی عرب بھارت کی حساسیتوں کا خیال رکھے گا۔ یہ بیان سفارت کاری کی زبان میں ایک طرح کی بے بسی کا اظہار تھا۔وہیں یہ خبر بھی گردش میں ہے کہ دو اور خلیجی ممالک پاکستان سے ایسا ہی معاہدہ کرنے پر غور کررہے ہیں
یہ سب کچھ محض سعودی-پاکستانی تعلقات کی کہانی نہیں ہے بلکہ بڑی تصویر میں امریکہ کے زوال پذیر اعتماد کا بھی مظہر ہے۔ اگر واشنگٹن واقعی اپنے اتحادیوں کا دفاع کرنے کی پوزیشن میں ہوتا تو سعودی عرب کو کبھی یہ قدم اٹھانے کی ضرورت نہ پیش آتی۔ اسرائیل کے قطر پر حملے نے ثابت کر دیا کہ امریکہ اسرائیلی مہم جوئی کو روکنے کی سیاسی قوت نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ ریاض نے واشنگٹن نہیں اسلام آباد کا انتخاب کیا۔

،ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا سعودی عرب واقعی کسی پاک-بھارت جنگ میں براہِ راست ملوث ہوگا؟ غالب امکان یہی ہے کہ نہیں، کیونکہ سعودی پالیسی ہمیشہ احتیاط اور براہِ راست مداخلت سے گریز پر مبنی رہی ہے۔ لیکن پھر بھی اس معاہدے نے پاکستان کو وہ سیاسی وزن دے دیا ہے جس سے بھارت کے لیے اس کع نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ اب اگر برصغیر میں کشیدگی بڑھے تو نئی دہلی کو یہ سوچنا پڑے گا کہ کہیں یہ کشیدگی خلیج تک نہ پھیل جائے اور کہیں سعودی عرب سیاسی یا معاشی سطح پر اسلام آباد کے حق میں کھڑا نہ ہو جائےـ معاہدہ بیک وقت کئی پیغامات رکھتا ہے: مسلم دنیا کے لیے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے اندرونی قوتوں پر بھروسہ کرے؛ واشنگٹن کے لیے کہ اس کا پرانا اعتماد ختم ہو رہا ہے؛ اور بھارت کے لیے کہ وہ اب پاکستان کو صرف سرحدی حریف نہ سمجھے بلکہ ایک ایسا ملک سمجھے جسے بڑے عرب ملک کی پشت پناہی حاصل ہے۔ فی الوقت یہ معاہدہ زیادہ تر علامتی ہے، لیکن اس کی علامتی اہمیت ہی اتنی بڑی ہے کہ اس نے خطے کے طاقت کے توازن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ بھارت کی بڑھتی سفارتی تنہائی کے لیے یہ بہت بڑا امتحان ہے ـ

ٹیگ: GeopoliticsImpact on IndiaPakistan EconomyPakistan Saudi Dealqasim syedSaudi Investmentبھارت پر اثراتپاک سعودی معاہدہپاکستان معیشتجیوپولیٹکسسعودی عرب سرمایہ کاری

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Waqf Board Questions
اداریے

اوقاف: کیا بورڈ کی سرپرستی میں ہم ایک اور جنگ ہارگئے؟

08 فروری
Badruddin Ajmal Statement Controversy
اداریے

‘سب چنگاسی’ کیا مجبوری ہے بدرالدین اجمل کی

06 فروری
Hate Official Language Debate
اداریے

کیا نفرت سرکاری زبان بن گئی ہے؟

04 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN