اسلام آباد :(ایجنسی)
قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد مسترد ہونے کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے لیے گئے ازخود نوٹس کا فیصلہ سنادیا۔ فیصلے میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے تحلیل کی گئی اسمبلی کو بحال کردیا۔ سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کو ہفتے کی صبح اسمبلی کا اجلاس بلانے اور تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کا حکم دے دیا ہے۔ چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیے کہ پانچ، صفر سے فیصلہ سنا رہے ہیں، موجودہ معاملات نمٹائے جاتے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈپٹی اسپیکر نے 3 اپریل کو رولنگ دی، مارچ کو تحریک عدم اعتماد پر لیو گرانٹ کی گئی، ڈپٹی اسپیکر کی تین اپریل کی رولنگ آئین کے خلاف ہے۔
سپریم کورٹ نے اسمبلی کی تحلیل کے آرڈر کو غیر آئینی قرار دے دیا اور ریمارکس دیے کہ وزیراعظم صدر کو ایڈوائس نہیں کرسکتے تھے، اب تک کے قانونی اقدامات غیر آئینی تھے۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کو دوبارہ ان کے عہدے پر بحال کردیا۔ عدالت عظمیٰ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیرآئینی اور غیر قانونی قرار دیا، جبکہ سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی بھی کو بحال کردیا۔ سپریم کورٹ نے ہفتے کو صبح 10 بجے اسمبلی اجلاس بلانے کا حکم دیا جبکہ صدر کے نگراں حکومت کے احکامات کالعدم قرار دے دیے گئے۔ عدالت نے قرار دیا کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں نئے وزیراعظم کا انتخاب ہوگا، کسی ممبر کو ووٹ کاسٹ کرنے سے روکا نہیں جائے گا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ موجودہ حکمنامے سے آرٹیکل 63 کی کارروائی متاثر نہیں ہوگی۔
سپریم کورٹ میں تحریکِ عدم اعتماد مسترد ہونے پر لیے گئے ازخود نوٹس کی سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا۔ یہ اس ازخود نوٹس کی آج مسلسل پانچویں سماعت تھی۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
سماعت مکمل ہونے پر چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے کہا تھا کہ آج شام ساڑھے 7 بجے فیصلہ سنائیں گے۔چیف جسٹس پاکستان نے دورانِ سماعت ریمارکس دیے کہ ایک بات تو ہمیں نظر آ رہی ہے کہ رولنگ غلط ہے، اب اگلا قدم کیا ہوگا؟ آج ہی کیس کا فیصلہ کریں گے، قومی مفاد اور عملی ممکنات دیکھ کر ہی آگے چلیں گے۔
صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر آج پھر روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ میں آج 10 منٹ میں دلائل مکمل کرلوں گا۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کے روبرو کہا کہ ایک ڈکٹیٹر نے کہا تھا کہ آئین 10 سے 12 صفحوں کی کتاب ہے، اسے کسی بھی وقت پھاڑ سکتا ہوں۔اس پر چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے انہیں تنبیہ کی کہ تقریر نہ کریں، ہم پنجاب کے مسائل میں نہیں پڑنا چاہتے۔ جسٹس مظہرعالم نے کہا کہ کل ٹی وی پر بھی دکھایا گیا کہ پنجاب اسمبلی میں خاردار تاریں لگا دی گئی ہیں۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جب اسمبلی کو تالے لگا دیے گئےہیں توممبرانِ اسمبلی کہاں جائیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ پنجاب کا معاملہ دیکھے گی، ہم صرف قومی اسمبلی کا معاملہ دیکھ رہے ہیں، خود فریقین آپس میں بیٹھ کر معاملہ حل کریں۔








