نیویاک : (ایجنسی)
ہفتہ کو نیویارک میں ہونے والی جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم (سارک) ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس منسوخ کر دیا گیا ہے۔ قابل اعتماد ذرائع بتاتے ہیں کہ پاکستان چاہتا تھا کہ طالبان سارک اجلاس میں افغانستان کی نمائندگی کریں۔ بھارت کے ساتھ کچھ دیگر ارکان نے اس تجویز پر اعتراض کیا ، جس کے بعد اجلاس منسوخ کر دیا گیا۔
نیپال اس اجلاس کی صدارت کر رہا تھا۔ یہ اجلاس ہر سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران منعقد ہوتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے سارک اجلاس میں چالیں چلاتے ہوئے اجلاس میں طالبان کو نمائندگی دینے کا مطالبہ اٹھایا، جس کے بعد بھارت اور کئی دوسرے ممالک پاکستان کے اس مطالبے پر ناراض ہوگئے اور سخت اعتراض درج کرایا۔ ایسی صورت حال میں جب کوئی اتفاق رائے نہ ہو سکا تو یہ اجلاس منسوخ کر دیا گیا۔
طالبان کی نئی حکومت کو زیادہ تر ممالک نے تسلیم نہیں کیا۔ نئی طالبان حکومت میں اقوام متحدہ کے نامزد کئی دہشت گرد شامل ہیں۔ امیر خان متقی موجودہ طالبان حکومت میں نگراں وزیر خارجہ ہیں ، لیکن ان کا اقوام متحدہ اور اس سے متعلقہ اجلاسوں میں شرکت کا امکان نہیں ہے۔









