نئی دہلی(پریس ریلیز)
عالمی یومِ اردو آرگنائزنگ کمیٹی کی ایک اہم میٹنگ دریاگنج، نئی دہلی میں منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں 9 نومبر ’عالمی یومِ اردو‘ کی مناسبت سے منعقد ہونے والی تقریب کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ میٹنگ کی صدارت ڈاکٹر لال بہادر نے کی۔ انہوںنے تمام اردو داں عوام سے 9 نومبر کو ’اردو ڈے‘ منانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ گنگا جمنی تہذیب کی علمبردار بھارتیہ زبان اردو کے فروغ کی ذمہ داری ہم سبھی پر عائد ہوتی ہے، اس لیے ہر کوئی حسب استطاعت اپنے حصے کا حق ادا کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ وہ ادارے جو حکومت کے تعاون سے چل رہے ہیں، خاص طور سے ریاستوں کی اردو اکیڈمیز، جس میں دہلی، بہار اور اترپردیش سرفہرست ہےں، ان کی اردو کے تئیں سردمہری غیرمتوقع اور حیرت ناک ہے۔
اس موقع پر عالمی یومِ اردو آرگنائزنگ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے بتایا کہ مذکورہ تقریب کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا، رفیع مارگ، نئی دہلی میں حسب روایت 9 نومبر کو دوپہر ڈھائی بجے زیرصدارت پروفیسر عبدالحق منعقد ہوگی، جس میں ملک کی نامور شخصیات ’فروغ اردو کے لیے تحریکی لائحہ عمل‘ عنوان پر اظہار خیال کریں گی۔ خاص طور سے جسٹس محمد سہیل اعجاز صدیقی، پروفیسر اخترالواسع، پروفیسر شہزاد انجم، ڈاکٹر شیخ عقیل احمد، پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین، پروفیسر محمد شاہد حسین، پروفیسر محمد سلیم قدوائی، حاجی تاج محمد، ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد، مولانا محمد رحمانی، خواجہ شاہد، م۔افضل، چندربھان خیال، ڈاکٹر سیّد فاروق، معصوم مرادآبادی، سہیل انجم، ڈاکٹر لال بہادر اور خیال انصاری وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ اس موقع پر تقسیم ایوارڈ اور ’عالمی یوم اردو‘ یادگارمجلہ کا اجرا بھی عمل میں آئے گا۔









