ادے پور۔ موہن لال سکھاڈیہ یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر سنیتا مشرا اورنگزیب کے حوالے سے اپنے متنازعہ بیان کی وجہ سے مستعفی ہونے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ دو ماہ کی چھٹی کے بعد آخرکار گورنر ہری بھاؤ باگڈے نے ان کا استعفیٰ قبول کر لیا۔ مشرا کے خلاف الزامات کی تحقیقات ڈویژنل کمشنر کی سربراہی میں ایک کمیٹی کر رہی تھی۔ ڈاکٹر بی پی سرسوت اس وقت یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا اضافی چارج سنبھالے ہوئے ہیں۔
راجستھان کے ہندی دینک ‘پتریکا’ کی خبر کے مطابق پروفیسر سنیتا مشرا نے حال ہی میں یونیورسٹی کے ایک پروگرام میں مغل شہنشاہ اورنگزیب کی تعریف کی اور انہیں ایک قابل منتظم قرار دیا۔ اس بیان نے پوری یونیورسٹی اور ادے پور شہر میں ایک گرما گرم تنازعہ کو جنم دیا۔ طلبہ تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور سماج کے مختلف طبقات نے ان کے بیان کی شدید مذمت کی۔ سوشل میڈیا پر بھی مشرا کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، اور انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔
اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) اور نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (NSUI) سمیت کئی طلبہ تنظیمیں اس معاملے میں سرگرم ہوگئیں اور یونیورسٹی کیمپس میں احتجاج کیا۔ عوامی نمائندوں نے بھی مشرا کے بیان کو قابل اعتراض قرار دیتے ہوئے تنقید کی اور یونیورسٹی انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ دباؤ کے تحت، مشرا کو چھٹی پر رکھا گیا، اور ان پر استعفیٰ دینے کا دباؤ جاری رہا۔استعفی کی خبر آنے کے بعد اے بی وی پی نے فتح کا جشن منایا








