اردو
हिन्दी
مارچ 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

رشتے ناطے نبھانا اب قطعاً ضروری نہیں رہا

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
رشتے ناطے نبھانا اب قطعاً ضروری نہیں رہا
249
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

طاہرہ سید

بچپن کے سنہری دن یاد کروں تو دادی کے گھر کی رونق آنکھوں میں چمک اور ہونٹوں پہ مسکان لے آتی ہے. برآمدے میں رکھے تخت پر براجمان دادی اماں اکثروبیشتر کسی نہ کسی مہمان کے ساتھ گفتگو میں مصروف نظر آتیں۔

بھری دوپہر ہو یا شام کا وقت، آنے والے مہمانوں کو کھانا کھلائے بغیر جانے دینے کا کوئی تصور نہ تھا۔ اور اتوار کے دن تو اکثر َرشتہ داروں کا میلہ لگا رہتا تھا. ایک جاتا، دوسرا آتا. کسی کو یہ وضاحت دینے کی ضرورت نہ تھی کہ کیسے آنا ہوا. ملنا ملانا مشرقی روایات کا حصہ رہا ہے جسے آج کے مشینی دور میں ایک بوجھ سمجھا جانے لگا ہے. رشتہ داروں کو ایک دوسرے سے ملنے کے لیے کسی میت یا شادی کے موقعے کا انتظار نہیں کرنا پڑتا تھا. مجھے اشفاق احمد کا بیان کردہ وہ واقعہ اکثر یاد آجاتا ہے کہ جب ایک فوتگی کے موقعے پر انہوں نے کچھ بچوں کو بات کرتے سنا جو کہہ رہے تھے کہ ”جب کوئی فوت ہو جائے تو بڑا مزہ آتا ہے. ہم سب اکھٹے ہوجاتے ہیں اور سارے رشتہ دار ملتے ہیں. دوسرا بچہ یہ اندازہ لگانے لگا کہ اب کون فوت ہو گا. نانا نصیرالدین یا پھوپی زہرہ اور اب ہم کس رشتہ دار کے گھر اکٹھا ہوں گے اور خوب کھیلیں گے۔‘‘ یعنی ملاقاتیں کسی کے فوت ہوجانے کی مرہون منت رہ گئی ہیں. وہ بھی صرف چند گھنٹوں کے لیے ہی بمشکل وقت نکالا جاتا ہے۔

گھر تو آخر اپنا ہے

آج کے دور میں جس قدر سہولیات میسر ہیں اسی قدر ہر شخص وقت کی کمی کا رونا روتا نظر آتا ہے۔ خوشی غمی کے موقع پر قریبی رشتہ داروں کا قیام آج کے مشینی دور میں ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔

عید کے تہوار کے موقع پر ایک دوسرے کو یاد رکھنا اور دور دراز رشتے داروں کو عید کارڈ بھیجنے جیسی خوب صورت روایت بھی اب دم توڑ چکی ہے۔ ای- کارڈز اور برقی پیغامات میں وہ احساسات کی گرمی محسوس نہیں کی جا سکتی جو اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے اور لکھے ہوئے کارڈ کے ذریعے پہنچائی جاتی تھی۔ ٹیکنالوجی نے جب دنیا کو گلوبل ولیج نہیں بنایا تھا تب گھر دور تھے لیکن دل قریب تھے۔

مجھے کراچی کے وہ دن بھی یاد ہیں جب اچانک ہنگامے پھوٹ پڑتے اور پورا محلہ کسی ایک مضبوط عمارت والے محلے دار کے گھر پناہ لے لیتا تھا. اس علاقے کے رہنے والوں کو حالات خراب ہونے کی اطلاع بجلی کے کھمبے بجا کردی جاتی تھی۔ فوری طور پر تمام خواتین اور بچے گھر کی نچلی منزل پر اور مرد حضرات اوپری منزل پر دفاعی پوزیشن سنبھال لیتے تھے. آس پاس کے تمام گھر ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے اور کسی بھی ضرورت پڑنے پر سب ایک دوسرے کی مدد کے لیے موجود ہوتے۔

چترال کی حسین آنکھ کا پھیلتا ہوا کاجل

آج اگر دیکھا جائے تو عجب دور پرُفتن ہے. سوشل میڈیا پر تو آپ کے ہزاروں دوست موجود ہوں گے لیکن حقیقی زندگی میں تنہائی کا زھر ڈس رہا ہے۔ ہر شخص موبائل کی پُر فریب دنیا میں ایسے گم ہے کہ اردگرد کے رشتوں کا احساس بھلا بیٹھا ہے۔ آج کے دور میں تعلقات کی نوعیت یا تو کاروباری ہوتی ہے یا پھر کسی مفاد سے وابستہ ہوتی ہے۔ لہذا اب خوشی اور غمی کے مواقع پر آپ کے اردگرد موجود ہجوم ان موقع پرست لوگوں کا ہوگا جن کے مفاد آپ کی ذات سے وابستہ ہیں۔

آج کے دور میں بزرگوں کے تجربے یا ان کی دور اندیشی سے فیض نہیں اٹھایا جاتا بلکہ مشورہ بھی اُن ہی سے لیا جاتا ہے جن کا اسٹیٹس ہائی ہو۔ ملنا ملانا، تعلقات بنانا، تحائف کے تبادلے اور تقریبات میں شرکت کے معیار اب بالکل تبدیل ہوچکے ہیں۔ عید کے تہوار پر اگر کوئی بھولے بھٹکے کم اسٹیٹس رکھنے والا رشتہ دار کال کرکے ملنے کی خواہش کا اظہار کرے تو فوراً کہا جاتا ہے کہ آج تو ہم گھر پہ نہیں ہیں اور اگر بنا بتائے کوئی آ دھمکے تو ایسے تاثر دیا جائے گا کہ آنے والا خود ہی جانے کے لیے پر تول لے۔

جھانسی کی رانی سے پونم پنڈت تک

عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شہروں میں لوگ ایک دوسرے سے مفاد کا رشتہ رکھتے ہیں۔ لیکن گاؤں کے لوگ اس مادہ پرستانہ سوچ سے بچے ہوئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل اس سوچ کی بھی نفی ہوئی جب طویل عرصے کے بعد اپنے آبائی گاؤں جانا ہوا ۔ جانے سے پہلے آنکھوں میں وہی بچپن کا گاؤں بسا ہوا تھا۔ تصور میں گاؤں کی کچی گلیاں، پانی کے کنویں پر گھومتی چرخی، سوندھی مٹّی سے لیپے ہوئے مکان تھے. ٹانگہ کی سواری کرتے ہوئے گھوڑے کی ٹاپوں اور پہیوں سے آنے والی آواز ہمارے کانوں میں موسیقی کی طرح بج رہی تھی۔ لیکن گاؤں پہنچتے ہی ہمارے تصور کا بت چکنا چور ہوا۔ مٹی کی سوندھی خوشبو لٹاتے مکانوں کی جگہ گارے اور سیمنٹ کے پکے مکان ہمارا منہ چڑا رہے تھے۔ تانگے کی سواری کیجائے ڈاٹسن اور بسیں دھواں اڑاتی بھاگی چلی جا رہی تھیں۔ یہاں تک تو درست ہے کہ گاؤں کی زندگی میں بھی تبدیلیاں آ چکی ہیں اور ترقی کے رنگ نظر آنے لگے ہیں۔ لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہمیں اخلاقی قدروں میں بھی بہت تبدیلی نظر آئی۔ اب وہاں روایات کم اور پیسہ زیادہ اہم نظر آیا۔ بزرگوں کی جو عزت اور مقام ماضی میں تھی وہ اب دولتمندوں اور اثر و رسوخ رکھنے والے خاندانوں کے حصے میں آ چکی ہے۔ فیصلے کا اختیار بھی دولت مند کو ہے تو مشورہ کرنے کا اہل بھی اسی کو سمجھا جاتا ہے۔ شادی بیاہ کے موقع پر بھی ‘وی آئی پی پروٹوکول‘ والے مہمانوں کے لیے الگ سے انتظام کرکے ان کی آؤ بھگت کی جاتی ہے۔ جبکہ غریب رشتے داروں کو بادل ناخواستہ بلا لیا جاتا ہے۔

دوسروں کو نصیحت، خود میاں فضیحت


خواتین کے ایک گروپ میں آپس کی بات چیت کے دوران رشتہ داروں کے سلوک اور تحفے تحائف کے تبادلے پر گروپ اراکین کا اظہار خیال نظر سے گزرا۔ تقریباً 50 سے زائد گروپ ممبران نے اپنے تجربات اور خیالات کا اظہار کیا۔ تقریباً سب ہی اپنے رشتے داروں سے نالاں نظر آئے۔ سب نے ایک ہی شکایت کی کہ جب بھی ہم نے اپنے رشتہ داروں کو تحائف دیے تو بدلے میں ہمیں کمتر تحفہ دیا گیا۔ تمام گروپ ممبران کے خیالات نے مجھے سوچ میں ڈال دیا کہ پھر غلطی کس کی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ایک دوسرے سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر لیتے ہیں۔ تحفہ دیتے ہوئے بھی یہی سوچ ذہن میں رہتی ہے کہ اس سے زیادہ قیمتی تحفہ ہمیں واپس ملنا چاہیے۔ اور جب توقعات ٹوٹتی ہیں تو پھر ہم پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ پھر بہتر یہ لگتا ہے کہ رشتہ داروں سے ملنے ملانے کیبجائےارتغرل دیکھ کر ٹائم پاس کر لیا جائے۔ گزرتے وقت کے ساتھ ہم نے اپنی ترجیحات تبدیل کردی ہیں۔ رشتے ناطے نبھانا قطعی اہم نہیں رہا۔ پیسے اور رتبہ کے زعم میں انسانی تعلقات اور رشتوں کی اہمیت کہیں گم ہو کر رہ گئی ہے۔ دنیا کی سب سے زیادہ نازک اور نا قابل اعتبار شے انسانی رشتے ہیں۔ اگر ان رشتوں میں خلوص اور بے غرضی نہ ہو تو ان سے زیادہ ناپائیدار کوئی دوسری شے نہیں۔ مطلب کے، مفاد کے رشتے ہمیشہ تکلیف ہی پہنچاتے ہیں۔ پیسے اور رتبے سے بنائے گئے رشتوں کی اصلیت تو اس وقت معلوم ہوتی ہے جب یہ دونوں چیزیں نہیں رہتیں۔

کامیاب عورت اور ناکام ازدواجی زندگی

وقت کو یہ الزام اکثر دیا جاتا ہے کہ بدلتا وقت بہت کچھ بدل دیتا ہے۔ لیکن دیکھا جائے تو وقت اور زمانہ تو خواہ مخواہ بد نام ہے. اصل میں تو ہماری خواہشات اور ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ رشتے وہی خوبصورت ہوتے ہیں جو گزرتے وقت کے ساتھ بدلتے نہیں ۔ ہمارے معاشرے میں یہ روش عام ہو چکی ہے کہ جیسے ہی انسان کے پاس دولت اور رتبہ آتا ہے تو وہ رشتہ داروں اور دوستوں سے تعلقات منقطع کر دیتا ہے۔ مختلف وجوہات کی بنا پر ترک تعلق انسان کو تنہا کر دیتا ہے اور یہی آج کل ڈپریشن کی بہت بڑی وجہ ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں ایک دوسرے سے ملتے جلتے رہا کریں۔ اپنوں کا دکھ بانٹیں۔ رتبہ اور دولت کسی کام نہیں آتی۔ خلوص کے رشتے بہت قیمتی ہوتے ہیں ان کی قدر کیجئے۔

( بشکریہ: ڈی ڈبلیو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
Sanjeev Srivastava Kachori Controversy Debate
مضامین

بی بی سی نیوز کے انڈیا ہیڈ رہے سنجیو سریواستو کے کچوری کی دکان کھولنے پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟

24 فروری
Bhagwat Commentary Critical Analysis
مضامین

ملاحظات: بھاگوت بھٹکاؤ کی راہ پر

23 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Malaysia PM Conspiracy Statement

یہودی لا بی کی میری حکومت گرانے کی سازش : ملیشیا کے پی ایم کا انکشاف، کہا ایران، غزہ کی آواز اُٹھانا جرم ہے؟

Mojtaba Khamenei Supreme Leader News

"مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب؟”

Iran Survival War Statement

یہ ایران کی بقا کی جنگ ہے، نشانہ گلف ممالک نہیں وہاں موجود امریکی اڈے ہیں: ڈاکٹر عبد المجید حکیم الہی

Iran Strategy Analysis News

ٹاپ لیڈرشپ ختم پھر بھی ہے دم ، ایران کی اسٹریٹجی سمجھنا ہے تو یہ اسٹوری ضرور پڑھیں

Malaysia PM Conspiracy Statement

یہودی لا بی کی میری حکومت گرانے کی سازش : ملیشیا کے پی ایم کا انکشاف، کہا ایران، غزہ کی آواز اُٹھانا جرم ہے؟

مارچ 4, 2026
Mojtaba Khamenei Supreme Leader News

"مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب؟”

مارچ 4, 2026
Iran Survival War Statement

یہ ایران کی بقا کی جنگ ہے، نشانہ گلف ممالک نہیں وہاں موجود امریکی اڈے ہیں: ڈاکٹر عبد المجید حکیم الہی

مارچ 4, 2026
Iran Strategy Analysis News

ٹاپ لیڈرشپ ختم پھر بھی ہے دم ، ایران کی اسٹریٹجی سمجھنا ہے تو یہ اسٹوری ضرور پڑھیں

مارچ 3, 2026

حالیہ خبریں

Malaysia PM Conspiracy Statement

یہودی لا بی کی میری حکومت گرانے کی سازش : ملیشیا کے پی ایم کا انکشاف، کہا ایران، غزہ کی آواز اُٹھانا جرم ہے؟

مارچ 4, 2026
Mojtaba Khamenei Supreme Leader News

"مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب؟”

مارچ 4, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN