نئی دہلی؍ ماسکو:(ایجنسی)
ہندوستان میں روس کے سفارت خانے نے یوکرین کے معاملے پر ہندوستانی میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے ایک طویل بیان جاری کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی میڈیا نے اپنی رپورٹس میں یوکرین کی صورتحال کو غلط طریقے سے پیش کیا ہے۔ بیان میں کسی مخصوص میڈیا تنظیم کا نام نہیں لیا گیا، جس سے یہ واضح نہیں ہوا کہ روس نے کن رپورٹوں پر ناراضگی کا اظہار کیا۔
مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ روس یوکرین میں جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ یوکرین پہلے سوویت یونین کا حصہ تھا۔ یوکرین اور روس دونوں نے سرحد پر فوجیوں کی تعیناتی میں اضافہ کر دیا ہے۔ تاہم روس نے ان تمام باتوں کو مسترد کر دیا ہے۔
اپنے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے بیان شیئر کرتے ہوئے روسی سفارت خانہ نے لکھا، ‘یہ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہاہے کہ کچھ ہندوستانی میڈیا اداروں نے ایک بار پھر یوکرین کے بحران پر صورتحال کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔ اس رپورٹ میں یوکرین حکام کی طرف سے دیے گئے تضحیک آمیز بیانات بھی شائع کیا گیا ہے ۔
رپورٹ کے ذریعے یوکرین کے معاملے پر روس کے بارے میں غلط نظریہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان متعصب رپورٹوں کا حکومت ہند کے سرکاری موقف سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ رپورٹیں معروف ماہرین کی رائے سے میل نہیں کھاتیں۔ اس کے ساتھ ہم اس موضوع کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں۔
ہم کسی کو دھمکی نہیں دیتے
روسی سفارت خانہ نے اس تناظر میں جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ روس کسی کو دھمکی نہیں دیتا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح طور پر سمجھنا چاہیے کہ روس کسی کو دھمکی نہیں دیتا۔ ہم زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور یقیناً ہمارا یوکرین کے لوگوں کے ساتھ لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ہم اس مسئلے کا فوجی حل بھی نہیں چاہتے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بار بار ان باتوں پر زور دے رہے ہیں۔
روسی سفارت خانہ کی جانب سے جاری بیان میں یوکرین کی قیادت اور حکومت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں لکھا گیا، ’ہندوستانی قارئین سمیت بین الاقوامی برادری کو سمجھانے کی کوشش کرنےکے برعکس یوکرین کی حکومت محض الزام لگا رہی ہے ۔ حکومت متوازن، جامع ملکی اور خارجہ پالیسی استعمال کرنے سے قاصر ہے اور اس لیے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کریمیا کوئی مسئلہ نہیں ہے
روس کا کہنا ہے کہ اس تنازع میں کریمیا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کریمیا پہلے یوکرین کا حصہ تھا۔ 2014 میں یوکرین میں انقلاب کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ اس دوران روس نے کریمیا میں اپنی فوج بھیج کر اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ روس نے کہا تھا کہ کریمیا میں روسی نژاد لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بگڑتی ہوئی صورتحال میں ان کی حفاظت روس کی ذمہ داری ہے۔
روسی سفارت خانہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کریمیا ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن یوکرین اپنے لوگوں کے خلاف حالت جنگ کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کی فوج آٹھ سال سے اپنے ہی لوگوں کے ساتھ جنگ میں ہے۔ 2021 میں، انہوں نے 1,923 بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے، جس میں 4,000 سے زیادہ بارودی سرنگوں اور مختلف کیلیبرز کے توپ خانے کے گولوں کا استعمال کرتے ہوئے بے گناہ لوگوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ اس میں کئی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، عمارتوں اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔
روسی سفارت خانہ نے اپنے بیان میں یہ بھی بتایا کہ کریمیا کن حالات میں روس کا حصہ بنا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’روسی بولنے والے شہریوں کو ان کے سماجی اور سیاسی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔‘ اس میں اسکولوں اور روزمرہ کی زندگی میں روسی زبان کے استعمال کا حق چھیننا بھی شامل ہے۔
اسی طرح کے رویے نے کریمیا کے لوگوں کو یوکرین کی موجودہ حکومت سے الگ کر دیا تھا، جسے 2014 میں ایک بغاوت کے بعد اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔ کریمیا کے شہریوں سے ان کی شناخت چھیننے کی کوشش کی جا رہی تھی جب انہوں نے اپنا حق خود ارادیت استعمال کیا اور روس میں شامل ہونے کے لیے ریفرنڈم کرایا۔ تب سے، ہم نے مسلسل کہا ہے کہ کریمیا کا اس تنازع میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
امریکہ اور نیٹو ممالک کو نشانہ بنایا
روسی سفارت خانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کی فوج کو امریکہ اور نیٹو ممالک کی کھلی حمایت حاصل ہے اور وہ فوج کو ہتھیار فراہم کرتی ہے۔ 2014 سے لے کر اب تک امریکہ یوکرین کی فوج پر 2.5 بلین ڈالر سے زیادہ خرچ کر چکا ہے۔ نیٹو ممالک بھی یوکرین کی فوج کو روس کے خلاف مضبوط کر رہے ہیں۔
بیان میں مزید لکھا گیا کہ ‘اس طرح کے حالات کے پیش نظر یہ الزام سننا مکمل طور پر مضحکہ خیز ہے کہ روس مبینہ طور پر اپنی سرحدوں کے قریب مسلح افواج کو متحرک کر رہا ہے اور کسی بھی قسم کی جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ سچ یہ ہے کہ کسی بھی خودمختار ملک کو اپنی سرزمین میں اپنی فوج کو آزادانہ طور پر تعینات کرنے کا حق حاصل ہے۔
یوکرین اور روس کے معاملے پر ہندوستان کا موقف
گزشتہ سال مارچ میں بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں یوکرین اور کریمیا کے معاملے پر روس کی حمایت کا اشارہ دیا تھا۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے نائب ڈپٹی مستقل نمائندہ آر رویندرا نے کہا تھا، ’ہندوستان ایسے سیاسی اور سفارتی حل کی وکالت کرتا ہے جو خطے کے تمام ممالک کے جائز مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور یورپ میں طویل مدتی امن و استحکام کو یقینی بناتے ہیں۔‘ آگے بڑھنے کا راستہ پرامن مذاکرات سے ہی ممکن ہے تاکہ تمام ممالک کے لیے قابل قبول مستقل حل تلاش کیا جا سکے۔








