نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات کی سازش کیس میں عمر خالد، شرجیل امام اور دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر اپنا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجریا کی بنچ نے عمر خالد اور شرجیل امام کی درخواست ضمانت مسترد کر دی جبکہ پانچ دیگر ملزمان کو عدالت نے ضمانت دے دی ہے
عمر خالد اور شرجیل امام کے کردار کا دیگر ملزمان کے کردار سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کردار دوسرے ملزمان سے مختلف ہے۔ان ہر یو اے پی کے تحت کیس چلتا رہے گا
دہلی فسادات کے ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر سپریم کورٹ نے پیر (5 جنوری 2026) کو کہا کہ آئین کا آرٹیکل 21 (زندگی کا حق) اہم ہے اور اس کا حوالہ دیا گیا ہے، لیکن یہ حق قانونی دفعات سے باہر نہیں ہے۔عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاءالرحمن ، شاداب احمد، اور محمد سلیم 2020 کے دہلی فسادات کو بھڑکانے کی سازش کے الزام میں پانچ سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں۔ عدالت نے 10 دسمبر 2025 کو دلائل سننے کے بعد ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔متھا
دہلی ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ نے انہیں ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا ۔ 2 ستمبر کو دہلی ہائی کورٹ نے ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد ملزمان نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا
(خبر آپ ڈیٹ کی جارہی ہے تفصیلات کا انتظار کریں)








