تحریر: منی شنکر ایئر
وہ بنگلہ دیش کی آزادی کے 50 سال مکمل ہونے پر 7 دن ڈھاکہ میں رہنے کے بعد واپس آئے ہیں۔ انہوں نے نیویارک ٹائمز کے سڈنی شین برگ سے ان کی ملاقات اور ایک پرانی یادداشت کے بارے میں بھی لکھا ہے۔ تب مہاجرین کے لیے امدادی سامان کی فراہمی کی ذمہ داری دیکھ رہے تھے۔
تب شین برگ مغرب کے قارئین کے لیے سچائی کی پیش کررہےتھے۔ تب سڈنی شین برگ کی کہی گئی ایک بات نے ایئر کو چونکادیاتھا،’’ تم لوگوں نےاسےکھودیا ہے۔‘‘ اس نے بتایا تا تھا ،’’ تمہارے فوجی دعویٰ کررہے ہیںکہ جنگ بھارتیہ سینا نے جیتا ہے، مکتی باہنی کےتعاون کوکوئی کریڈٹ نہیں دیاجا رہاہے جس نے جیت کی راہ ہموار کی۔‘‘
شین برگ کا خدشہ خود سپردگی تقریب کے دوران بھی محسوس کیا گیا جب مکتی باہنی کے سربراہ ایم اے جی عثمانی کو اس فوٹوگراف میں سب سے کنارے جگہ ملی تھی۔ 50 سال بعد بھی وہ مایوسی برقرار ہے۔
آج بھی بنگلہ دیش میں سوالات پوچھے جاتے ہیں کہ بھارت نے پاکستان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد تمام ہتھیار کیوں لے گیا؟ وہ سوال کرتے ہیں کہ 195 پاکستانی فوجیوں کو جنگی مجرم قرار دیے بغیر 93 ہزار جنگی قیدیوں کو یکطرفہ طور پر کیوں حوالے کیا گیا؟ کیوںآپ نے 26 مارچ 1971 کو مداخلت نہیں کی اور 9 ماہ تک انتظار کیا جس دوران لاکھوں بنگلہ دیشیوں کی جانیں گئیں ؟
بنگلہ دیشی کرنل سجاد علی ظہیر کا موقف قدرے مختلف تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم ان بھارتی فوجیوں کو کیسے بھول سکتے ہیں جنہوں نے ہماری آزادی کے لیے اپنی جانیں دیں۔ ان کا خون پدما، تیستا، جمنا اور میگھنا میں گھلے ہیں ۔‘‘
بھارت کے لیے قدامت پسند سوچ کہتی ہے کہ تم پاکستان کو تقسیم کرنا چاہتے تھے، ہم آزادی چاہتے تھے۔ دونوں کے مقاصد پورے ہو گئے۔ یہ محض ایک اتفاق تھا۔ سرکاری طور پر، بنگلہ دیش کی حسینہ حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ جب لاکھوں لوگوں کو ریلیف اور بحالی کی ضرورت تھی، ہندوستان نے اسے یقینی بنایا۔ وہ اٹل بہاری واجپئی کی بھی تعریف کرتے ہیں جنہوں نے اندرا گاندھی کو ‘’ماں درگا‘ کہہ کر مخاطب کیا تھا۔
(بشکریہ: دی ٹیلی گراف)









