اردو
हिन्दी
مارچ 11, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ٹاڈا قانون اور انصاف کا انتظار

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
ٹاڈا قانون اور انصاف کا انتظار
70
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ایڈووکیٹ ابوبکر سباق سبحانی

سپریم کورٹ آف انڈیا نے ٹاڈا کے ایک مقدمے میں راجستھان حکومت سے دو ہفتے کے اندر جواب طلب کرکے ٹاڈا قانون اور اس کے ابھی تک ختم نا ہونے والے غلط استعمال کی بحث کو ایک بار پھر نئی زندگی دے دی ہے، دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے 1985 میں ہماری پارلیمنٹ نے ٹاڈا قانون پاس کیا تھا جس کو 23 مئی 1985 میں صدرجمہوریہ کے دستخط کے بعد آفیشیل گزٹ آف انڈیا میں شائع کرکے قانون کا درجہ دیا گیا، ابتدا میں تو یہ قانون 2 سال کے لئے بنایا گیا تھا اور دو سال مکمل ہوتے ہی 23 مئی 1987 کو راجیو گاندھی مرکزی حکومت نے اسپیشل آرڈیننس کے ذریعے ٹاڈا قانون کو پھر سے نافذ کردیا جس پر 3 ستمبر 1987 کو صدر جمہوریہ نے دستخط کئے۔

ٹاڈا قانون کا بنیادی مقصد پنجاب میں زور پکڑتی علیحدگی پسند تحریک “خالصتان” کو قانون اور سرکاری طاقت کے ذریعے ختم کرنا، سب سے زیادہ پنجاب میں اس کا استعمال شروع ہوا لیکن جلد ہی مہاراشٹر و دیگر صوبوں میں بھی اس قانون کا استعمال بہت کثرت سے ہوا، بالآخر ٹاڈا قانون کی دستوری حیثیت کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں “کرتار سنگھ بنام اسٹیٹ آف پنجاب” کے مقدمے میں چیلنج کیا گیا، سپریم کورٹ نے ٹاڈا قانون کو تو ختم نہیں کیا لیکن تفتیشی و پولیس ایجنسیوں کے ذریعے اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے رہنما اصول تیار کئے، پولیس حراست میں لئے گئے اقبالیہ بیانات پر بھی روشنی ڈالی کہ یہ بیانات عین انصاف کے معیار پر ہونے ضروری ہیں، سب سے اہم اسکریننگ و ریویو کمیٹیوں کے بنانے پر زور دیا گیا تاکہ قانون کے غلط استعمال کو روکا جاسکے، لیکن آزاد ہندوستان کا یہ پہلا قانون تھا جس میں پولیس افسران کو لامتناہی اختیارات عطا کئے گئے تھے، جب کہ تمام ہی ماہرین قوانین نے پولیس کو کرمنل مقدمات میں ایک پارٹی تسلیم کیا ہے، پارٹی کے اپنے مفاد وابستہ ہوتے ہیں، لیکن ٹاڈا قانون کی دفعہ 15 میں پولیس کو دیے گئے بیان کو قانونی حیثیت دے دی گئی، نیز ریویو کمیٹی میں بھی پولیس افسران کو اختیارات دے دیے گئے۔

ٹاڈا قانون کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال کے اعداد و شمار اور متعدد کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں 1995 میں ٹاڈا قانون کو ختم کردیا گیا، لیکن جو مقدمات ٹاڈا کی دفعات کے تحت زیرالتوا تھے ان کو ختم نہیں کیا گیا، یہی وجہ ہے کہ آج بھی ملک کی مختلف عدالتوں میں ٹاڈا کے تحت گرفتار ملزمین جیل میں اپنی زندگی گزارنے کے لئے مجبور ہیں، لیکن ٹاڈا قانون، تفتیشی ایجنسی اور ٹاڈا کی اسپیشل عدالتیں آج تک ان مقدمات کا فیصلہ کرنے میں ناکام ہیں جو مقدمات 1995 سے پہلے درج کئے گئے تھے، لیکن جمہوری نظام میں عوام کے ٹیکس سے چلنے والے ادارے نا تو عوام کے سامنے جوابدہ ہیں اور نا ہی پارلیمنٹ کے سامنے کوئی احتساب۔

حالیہ معاملہ ٹاڈا قانون کی دفعات کے تحت اجمیر جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے حمیرالدین عرف حامد کا تھا، حمیرالدین کو2 دسمبر1993 کے دن ہونے والے سلسلہ وار ٹرین بم دھماکوں کے الزام میں 2 فروری 2010 کو ایس ٹی ایف و اترپردیش پولیس نے لکھنو سےگرفتار کیا تھا، سی بی آئی نےحمیرالدین کے خلاف 1994 میں ہی چارج شیٹ داخل کردی تھی لیکن گزشتہ 12 سال سے زائد عرصہ جیل میں گزرجانے کے بعد بھی راجستھان کی اسپیشل ٹاڈا عدالت حمیرالدین کے خلاف چارج فریم (الزامات عائد) کرنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔ تقریبا آٹھ ہزار صفحات پر منحصر چارج شیٹ عدالت میں داخل ہوئی تھی جس میں ملزم حمیرالدین کے خلاف خاطر خواہ ثبوت موجود نا ہونے کی وجہ سے بھی اس کیس میں استغاثہ یعنی سی بی آئی مقدمہ کی سماعت کو ہر کوشش کے ذریعے موخر کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔

اس مقدمے میں سپریم کورٹ کے معروف وکیل فرخ رشید نے 27 مارچ 2019 کو سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کرکے کہا تھا کہ اگر 12 سال سے زیادہ عرصہ اسپیشل ٹاڈا عدالت کو الزامات عائد کرنے میں لگے گا تو آخر 169 گواہوں کے بیانات مکمل ہونے میں کتنا عرصہ لگے گا، کیا ملزم کو صرف الزام کی بنیاد پر سالہا سال تک جیل کی کال کوٹھری میں قید کیا جانا انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف نہیں ہے؟ سپریم کورٹ نے مقدمہ کے تیز رفتار سماعت کوسیپریم کورٹ آف انڈیا نے اپنے متعدد تاریخی فیصلوں میں بنیادی حق کا درجہ دیا ہے، تیز رفتار سماعت کے حق کو حالیہ برسوں میں بہت اہمیت دی گئی ہے تاہم اس کے باوجود ہماری عدالتوں میں مقدمات کی اس قدرسست رفتار حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہے، اس پٹیشن پر جواب طلب کرنے میں بھی سپریم کورٹ کو دو سال کا عرصہ لگ گیا، تیز رفتار سماعت کوشہریوں کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ آف انڈیا نے اپنے تاریخی فیصلے “حسین آرا بنام اسٹیٹ آف بہار” میں آج سے 40 سال پہلے 1980 میں کہا تھا کہ بلاتاخیر مقدمات کی سنوائی کو دستورہند  کے آرٹیکل 21 کا اہم ترین جزقرار دیا ہے جس کے مطابق جیل میں قید ہر ملزم کو یہ  بنیادی حق حاصل ہے کہ وہ انسانی اقدار کے ساتھ زندگی گزارے اور انصاف کے متعدد مراحل میں اس کو کسی تاخیر یا ٹارچر کا شکار نا بنایا جائے، کسی بھی مقدمے میں انصاف کا دستوری اصول ہے کہ متاثر شخص کے ساتھ ساتھ ملزم کو بھی بلاتاخیر انصاف ملے، اگر ملزم سنوائی کے بغیر لمبے عرصے تک جیل میں قید رہتا ہے تو یہ بھی اس کے حق میں ناانصافی ہی تسلیم کی جائے گی کیونکہ جیل میں وہ بہت سے شہری  حقوق سے محروم کردیا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ نے 1994 میں  “کرتار سنگھ بنام اسٹیٹ آف پنجاب” کے فیصلے میں دوبارہ مزید تاکید سے کہا تھا کہ “تیزرفتار سماعت کا حق شہریوں کے دستوری حق برائے زندگی و آزادی کا بنیادی حصہ ہے، اس کے علاوہ 1988 میں بھی سپریم کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے “عبدالرحمان انتولے بنام آر ایس نائک” کے مقدمے  میں اسپیڈی ٹرائل یعنی مقدمات کی تیز رفتار سماعت کو بنیادی حق تسلیم کرتے ہوئے رہنما اصول تیار کئے تھے۔

حمیرالدین کے مقدمے میں تفتیش ملک کی اہم جانچ ایجنسی سی بی آئی نے کی، عدالت بھی سی بی آئی کی اسپیشل عدالت ہے، اسی مقدمے میں 23 سال جیل میں رہنے کے بعد جلیس انصاری و دیگر کے مقدمے میں چار ملزمین کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے 11 مئی 2016 کو کوئی ثبوت موجود نا ہونے کی بنیاد پر بے گناہ قرار دیا تھا، ٹاڈا قانون کے تحت پولیس حراست میں پولیس کے ذریعے ملزم کا لیا گیا اقبالیہ بیان بھی  بیان دینے والے ملزم کے ساتھ ساتھ دوسرے ملزمین کے خلاف بھی ایک ٹھوس ثبوت تسلیم کیا جاتا ہے، یعنی پولیس کو ٹارچر کرکے ثبوت تیار کرنے کا لائسنس ٹاڈا قانون کے ذریعے فراہم کر دیا گیا تھا، ستم بالائے ستم اپنی بے گناہی بھی ملزم کو ہی ثابت کرنی ہوتی ہے اگر الزام بم دھماکوں یا ملک مخالف سرگرمیوں کا عائد ہوتا ہے۔ جلیس انصاری کے مقدمے میں گلبرگہ کرناٹک کے ظہیرالدین اور نثارالدین دو بھائی بھی دیگر ملزمین کے ساتھ 23 سال کے بعد ٹاڈا مقدمہ کے الزام سے باعزت بری ہوئے تھے، جس کے بعد ٹاڈا اور اس کے غلط استعمال پر کچھ بحثیں ہوئیں لیکن کسی بھی نتائج یا مقدمات میں کسی بھی اصلاحی یا احتسابی مہم کی کوشش کئے بغیر نئے موضوعات نے پرانی بحثوں کو خاموش کردیا۔

ٹاڈا قانون ہمارے دستور کے بنیادی اصولوں کے خلاف تھا، شہری و انسانی حقوق کی مکمل خلاف ورزی پر مشتمل تھا، اس قانون کا استعمال اقلیتی طبقات کے اوپر بغیر کسی ڈر و خوف کے ہوا، شک کی بنیاد پر پکڑے گئے افراد کے خلاف بھی جھوٹے بیانات تیار کرکے سالہاسال تک جیل میں بند رکھا گیا، ان تمام غیرقانونی استعمال اور حقوق انسانی کے تحفظ کے لئے ٹاڈا قانون کو غیر قانونی قرار دیا گیا لیکن تمام غیرقانونی استعمال کے اقرار کے بعد بھی آج تک ٹاڈا میں غلط طریقے سے پھنسائے گئے معصوم انصاف کے انتظار میں کال کوٹھریوں میں دن رات گزارنے پر مجبور ہیں۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
Sanjeev Srivastava Kachori Controversy Debate
مضامین

بی بی سی نیوز کے انڈیا ہیڈ رہے سنجیو سریواستو کے کچوری کی دکان کھولنے پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟

24 فروری
Bhagwat Commentary Critical Analysis
مضامین

ملاحظات: بھاگوت بھٹکاؤ کی راہ پر

23 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Iran War Secret Briefing

ایران جنگ پر امریکی کانگریس کی ‘خفیہ بریفنگ نے دنیا کی نیند اڑادی٫ جانیں ایسا کیا ہے رپورٹ میں؟

Iran Israel Strikes Damage

اسرائیل کو کھنڈر بنارہا ہے ایران،بن گورین ایئرپورٹ ،فوج کا کمیونکیشن سسٹم تباہ، بینک، مالیاتی ادارے نشانے پر

تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

Uttam Nagar Incident Jamiat News

اتم نگر واقعہ پر جمعیتہ آگے بڑھی، جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات، وزیر داخلہ کو مکتوب

Iran War Secret Briefing

ایران جنگ پر امریکی کانگریس کی ‘خفیہ بریفنگ نے دنیا کی نیند اڑادی٫ جانیں ایسا کیا ہے رپورٹ میں؟

مارچ 11, 2026
Iran Israel Strikes Damage

اسرائیل کو کھنڈر بنارہا ہے ایران،بن گورین ایئرپورٹ ،فوج کا کمیونکیشن سسٹم تباہ، بینک، مالیاتی ادارے نشانے پر

مارچ 11, 2026
تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

مارچ 11, 2026
Uttam Nagar Incident Jamiat News

اتم نگر واقعہ پر جمعیتہ آگے بڑھی، جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات، وزیر داخلہ کو مکتوب

مارچ 10, 2026

حالیہ خبریں

Iran War Secret Briefing

ایران جنگ پر امریکی کانگریس کی ‘خفیہ بریفنگ نے دنیا کی نیند اڑادی٫ جانیں ایسا کیا ہے رپورٹ میں؟

مارچ 11, 2026
Iran Israel Strikes Damage

اسرائیل کو کھنڈر بنارہا ہے ایران،بن گورین ایئرپورٹ ،فوج کا کمیونکیشن سسٹم تباہ، بینک، مالیاتی ادارے نشانے پر

مارچ 11, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN