کابل:(ایجنسی)
طالبان نے کابل میں پاکستان مخالف ریلی پر فائرنگ کی گئی ہے۔ اطلاع کے مطابق پاکستانی سفارتخانہ کے باہر 70 کے قریب خواتین اور مرد احتجاج کررہے تھے۔ ہاتھوں میں تختیاں لئے ہوئے یہ لوگ نعرے لگا رہے تھے۔ ان کا الزام ہے کہ پاکستان افغانستان کے معاملے میں دخل اندازی کررہاہے ، حالانکہ پاکستان مخالف احتجاج کے دوران کسی مظاہرین کی موت یا زخمی ہونے کی ابھی کوئی خبر نہیں آئی ہے ۔ دراصل پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے چیف فیض حمید نے گزشتہ دنوں کابل کا دورہ کیا تھا۔
اطلاع کے مطابق طالبان لیڈروں کے درمیان نئی سرکار کو لے کر پیدا ہوئے اختلافات درمیان فیض حمید کایہ دورہ ہوا تھا۔ مانا جا رہاہے کہ پاکستان کے اشارے پر طالبان میں کسی کمتر لیڈر کو کمان سونپی جاسکتی ہے ۔ انہی قیاس آرائیوں کے درمیان فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ۔
اےایف پی کے اسٹاف کا بھی کہنا ہے کہ طالبان جنگجوؤں کو ہوا میں فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا گیا ۔ کچھ دنوں پہلےے مزار شریف میں خواتین نے اپنے حقوق کو لے کر احتجاج کیا تھا۔ ہیرات میں بھی اسی طرح خواتین کا ہجوم ایک جگہ جمع ہوا تھا اور انہوں نے سرکارمیں اپنی حصہ داری مانگی تھی۔
دوسری طرف طالبان کے اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان اقتدار کی تقسیم پر اختلافات کی اکثر اطلاعات ہیں۔ طالبان کے شریک بانی ملا عبدالغنی برادر ، اخون زادہ اور حقانی گروپ کے اعلیٰ کمانڈر کے اعلیٰ عہدوں پر کوئی اتفاق نہیں ہے، جبکہ امریکی افواج کو کابل چھوڑے ہوئے ایک ہفتہ ہو گیا ہے۔ یہ بھی اطلاعات تھیں کہ اقتدار کی تقسیم پر لڑائی ہوئی ، جس میں ملا عبدالغنی برادر بھی زخمی ہوئے۔









