اسلام آباد:پاکستان کے عام انتخابات کے نتائج کے رجحانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئے کے حمایت یافتہ امیدواروں کو بڑے پیمانے پرجیت حاصل ہورہی ہے ۔فوج اور نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن کی کوششوں کے باوجود ان کے “لاڈلے” نوازشریف اینڈ کمپنی کو عوام نے مسترد کردیا ۔اب نتائج بدلے جارہے ہیں جیتے امیدواروں کو ہرایا جا رہا ہے اور نون لیگ کے ہارے لوگوں کے جیتنے کا اعلان ہورہا ہے ۔پی ٹی آئی کو جتاکر عوام نے تو اپنا فیصلہ سنا دیا کہ وہ فوج کہ برتری ماننے کو تیار نہیں ۔ہر طرح کی پابندیوں کے باوجود عمران خان ہی ان کی پہلی پسند ہیں اب اگر کوئی فیصلہ تھوپنے کی کوشش ہوئے تو پاکستان کے حالات بہت خراب ہو جائیں گے -اس کا اشارہ بھی مل رہا ہے خبر ہے کہ ایک جگہ پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں میں جھڑپ ہوئی اور تین شہری مارے گئے
خبر کے مطابق خیبر پختونخواہ میں پولیس سے تصادم میں پتھراؤ اور فائرنگ کی وجہ سے پی ٹی آئی کے دو کارکن ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔شانگلہ میں الپوری تھانے کے اہلکار نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا الزام لگا رہے تھے۔ ’بڑی تعداد میں مظاہرین پولیس تھانے کے قریب آگئے جہاں انھوں نے تھانے پر پتھراؤ کیا ہے اور گاڑی کو نقصان پہنچایا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس دوران فائرنگ بھی ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی۔ اس کے بقول اب تک مظاہرین میں دو افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں تاہم ریسکیو حکام ہلاکتوں کی تعداد تین بتا رہے
مقامی لوگوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 11 شانگلہ میں کل رات تک پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کامیاب ہو رہے تھے لیکن صبح پھر پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما امیر مقام کو فاتح قرار دے دیا گیا ہے جس پر لوگوں میں غصہ پایا جاتا ہے۔
دوسری طرف الیکشن کمیشن پاکستان کے ابتدائی غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدواروں کی ایک بڑی تعداد نے 2024 کے عام انتخابات میں فتح حاصل کی ہے۔ ان میں سے اکثر کو عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی حمایت حاصل تھی۔اب تک قریب 50 آزاد امیدواروں نے قومی اسمبلی کی نشستیں جیت لی ہیں جن میں تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سینیئر نائب صدر لطیف کھوسہ، سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور پارٹی رکن علی امین گنڈاپور شامل ہیں۔
دوسری طرف خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو بڑی اکثریت ملی ہے جبکہ پنجاب اسمبلی میں انھوں نے مسلم لیگ ن کو اچھا مقابلہ دیتے ہوئے اب تک پچاس سے زیادہ سیٹوں پر فتح حاصل کی ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تحریک انصاف اس وقت مخصوص نشستوں سے محروم ہوگئی تھی جب الیکشن کمیشن نے اس کے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دے کر اس سے بلے کا نشان واپس لے لیا تھا۔ اس فیصلے کو سپریم کورٹ کی جانب سے برقرار رکھا گیا تھا۔








