نئی دہلی (ایجنسی)
سی جے آئی این وی رمن نے کہا کہ جسٹس الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس جگ موہن لال سنہا کے 1975 کے فیصلے میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو انتخابی بدعنوانی کےالزام نااہل قرار دینے کا فیصلہ ’ بڑی جرأت مندانہ‘ ایک فیصلہ تھا جس نے ملک کو ’ہلا‘ دیا، جس کےبعد ایمرجنسی نافذ کی گئی۔
چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) نے صدر رام ناتھ کووند کے ساتھ اترپردیش نیشنل لاء یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب اور الہ آباد ہائی کورٹ کے نئے بلڈنگ کمپلیکس سمیت تقریبات میں شرکت کی۔ اس دوران انہوں نے ملک کی قدیم ترین ہائی کورٹس میں سے ایک کی شراکت اور بھرپور روایات کو یاد کیا۔
جسٹس رمن نے کہا کہ1975 میں الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس جگ موہن لال سنہا نے وہ فیصلہ دیا جس نے مسز اندرا گاندھی کو نااہل قرار دیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی تاریخ 150 سال سے زیادہ ہے اور اس کے بار اور بنچوں نے ملک کے سب سے بڑے قانونی رہنما پیدا کیے ہیں۔
12 جون 1975 کو الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس جگ موہن لال سنہا کے فیصلے نے اس وقت کے وزیر اعظم کو انتخابی بدانتظامی کا مجرم قرار دیا تھا اور انہیں عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت کسی بھی منتخب عہدے پر فائز ہونے سے روک دیا تھا۔
مانا جاتا ہے کہ اس فیصلے کی وجہ سے 25 جون 1975 کو ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی۔ دراصل اندرا گاندھی نے 1971 کے لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش کی رائے بریلی سیٹ سے اپنے حریف راج نارائن کو شکست دے کر جیتی تھیں۔ شکست خوردہ لیڈر نے انتخابی بددیانتی کا الزام لگاتے ہوئے اپنے انتخاب کو چیلنج کیا تھا اور کہا تھا کہ گاندھی کے انتخابی ایجنٹ یش پال کپور ایک سرکاری ملازم تھے اور انہوں نے سرکاری افسران کو ذاتی انتخاب سے متعلقہ کاموں کے لیے استعمال کیا تھا۔










