اردو
हिन्दी
مارچ 11, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ملک سیکولرزم اور مذہب دونوں کے موقع پرستانہ استحصال کا متحمل نہیں

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
ملک سیکولرزم اور مذہب دونوں کے موقع پرستانہ استحصال کا متحمل نہیں
124
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

عبدالسلام عاصم

سیکولرزم اور اقلیتی ووٹ بینک کے نام پر موقع پرست حکومتوں کے ہاتھوں ہندوستانی مسلمانوں کا ملی رہنماوں کے اشتراک سے جو حشر ہوا ہے، آگے چل کر بڑے بھائی کو بھی دینداری اور اکثریت کے ووٹ بینک کے نام پر جاری موجودہ موقع پرستی کے نتیجے میں وہی تجربہ ہو سکتا ہے۔ ایسے خساروں کو ترتیب دینے میں بہر حال دہائیاں لگتی ہیں۔ہندستان کی سب سے بڑی اقلیت کے موجودہ حالات بھی محض ایک دہائی کی حکومتی تبدیلی کا نتیجہ نہیں۔

فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات تو وقفے وقفے سے رونما ہوتے ہی رہتے ہیں اور اُس میں آبادی کے تناسب سے کم اور زیادہ جانی و مالی نقصان باحیثیت امیروں کا نہیں صرف بے حیثیت غریبوں کا ہوتا ہے ۔ خوشحالوں کی موت تو کسی حادثے یادشمن کے بے چوک منظم منصوبہ بندی سے ہوتی ہے۔ وطن عزیز میں ایسی اموات میںسنجے گاندھی، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، شیاما پرشاد مکرجی، للت نارائن مشرا، پرمود مہاجن، راجیش پائلٹ، وجے راجے سندھیا می اموات نمایاں ہے۔

بہر حال بات ہورہی تھی بھائیوں کی۔ دونوں بھائیوں کی قسمت خراب کرنے میں کسی اور کا نہیں ان کے ہی بظاہردینی اور بباطن دنیا پرست رہنماؤں کا عملاً عمل دخل ہے۔بدقسمتی سے دونوں فرقوں کے یہاں پڑھنے لکھنے کا رواج ’’آبادی کے تناسب سے‘‘ ایک جیسا ہے۔ سو میں دس اُن کے یہاں تعلیمی اور مالی طور پر خوشحال ہیں تو دس میں ایک دو اِدھر بھی موج اور مستی کے ساتھ جی رہے ہیں۔

خسارے میں صرف دیش یعنی مادر وطن ہے، جہاں اکثریت اور اقلیت کے نام سے پہچانے جانے والے دونوں گھرانوں کی غالب مشترکہ اکثریت اپنے اپنے حلقوں میں بھگت یعنی آمنا و صدقنا کی حد تک ہی خواندہ ہے۔ ان بیچاروں یا جہل کے ماروں کو اپنے حلقوں کے اُن خوشحالوں سے کوئی بیر نہیں جو بیر ہی کا کاروبار کرتے ہیں۔ اِن غریبوں کو تو بس باہمی نفرت میں اُلجھا رکھا گیاہے۔ باہمی نفرت کا یہ ا کھیل جو پہلے ٹیسٹ میچ کی طرح کئی کئی دنوں تک جاری رہتا تھا ، اب اِس کے ون ڈے میں بس ایک دھماکے میں کئی لاشیں وکٹ کی طرح گر جاتی ہیں یا ٹی 20 کی طرح ایک دو گھنٹے میں ماپ لنچنگ کے ذریعہ یکطرفہ مقابلہ نمٹا دیا جاتا ہے۔یہ کھیل جب ختم ہوتا ہے تو اِس کا باہمی اشتراک سے اہتمام کرنے والے نفع نقصان کے حساب کا کھیل شروع کر دیتے ہیں، وہ بھی کم دلچسپ نہیں ہوتا۔ اصل میںدونوں طرف کے مٹھی بھرنظریاتی شعبدہ بازوں نے دونوں گھرانوں کی مشترکہ اکثریت کا ایسا برین واش کر رکھا ہے کہ اُن سے سمجھداری کی بات کرنے والے متوفی وحیدالدین خاں اور باحیات موہن بھاگوت جی جیسے لوگوں کو اپنے ہی حلقے میں صلواتیں سننا پڑتی ہیں۔

پچھلے دنوں بھاگوت جی نے ملک کی اکثریت اور اقلیت دونوں کو کچھ کھری کھری کیا سنا دی، دونوں طرف کے ملی تاجرین ناراض ہو گئے۔ کچھ تو اتنے ناراض ہوئے کہ بیمار پڑ گئے۔ جیسے کورونا نے تقریر بن کر انہیں ڈس لیا ہو۔ جواب میں معترضین کی جانب سے جو نامے شائع ہوئے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ناچیز نے ایک بزرگ کو جو ہیں تو میرے ہم عمر لیکن سوچ کی وجہ سے بڑے بھائی لگتے ہیں، بس اتنا لکھ دیا کہ بھاگوت جی کی تقریر کا جو تحریری حصہ اخباری دستاویز کی شکل میں موجود ہے اُس میں اُن کے نام کی جگہ کسی مولانا کا نام، ’’ہندووں‘‘ کی جگہ’’ مسلمانوں‘‘ اور ’’ماب لنچر‘‘ کی جگہ ’’تشدد پسند‘‘ لکھ دیا جائے تو عجب نہیں کہ روئے سخن ہی یکسر بدل جائے۔ موصوف کو یہ بات مبینہ طور پر بہت بُری لگی اتنی بری لگی ۔بزرگ صحیح فرما گئے ہیں کہ غیر منظقی ذہن رکھنے والوں سے منطقی باتیں بالکل نہ کی جائیں کیونکہ وہ معقول جواب کی کمی مغلظات سے پوری کرنے پر اتر آتے ہیں ۔ یہ بھی خطرہ رہتا کہ کہیں وہ اپنے روبوٹوں کو تشدد پرنہ اُکسا دیں۔

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سب انتخابی سیاست کا حصہ ہے۔ ویسے بھی ملک کو اگلے سال ہی یوپی سمیت کئی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا سامنا ہے۔ اترپردیش ملک کی ایک بڑی ریاست ہی نہیں سیاسی طور پر بھی ایک فعال خطہ بھی ہے۔ ماضی میں اسی خطے نے ملک کو خارجی تقسیم سے گزارنے میں سرگرم کردار ادا کیا تھا اور آج بھی قوم کی غیر صحتمند داخلی تقسیم کا کھیل اسی ریاست سے کھیلا جارہا ہے۔خاطی کوئی ایک فرقہ نہیں۔ویسے بھی کسی کے جارحانہ موقف کا غیر عاقلانہ مقابلہ ظلم اور تشدد کے واقعات کو باہمی اشتراک سے مرتب کرتا ہے۔ اسے سمجھنے کیلئے جس جذبے کی ضرورت ہے وہ نظریاتی سوچ رکھنے والوں کے یہاں پیدا نہیں ہو سکتی۔ اُس کے لئے دونوں حلقوں کے صحتمند سوچ رکھنے والوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا اور انتہائی ضبط سے کام لیتے ہوئے دونوں فرقوں کی اکثریت کو نام نہاد دینی رہنماوں کے دام فریب سے نکالنا ہو گا۔بصورت دیگر تشدد کے کسی بھی واقعے میں انصاف سے زیادہ سیاسی نفع نقصان سے کام لینے کا سلسلہ جاری رہے گا جس کی ایک کمان آج کل سوشل میڈیا کے ہاتھ میں ہے۔ بین فرقہ ہم آہنگی کوئی رٹنے یا ورد کرنے کی چیز نہیں۔ اس کا تعلق شعور سے ہے اور شعور کی دولت انسانی وسائل کی بہبود کے رُخ پر حقیقی تعلیم سے ملتی ہے۔ اسی تعلیم نے مسیحیوں اور یہودیوں کو، جو صدیوں نظریاتی طور پر بر سر پیکار رہے، بین انحصار دوست بنا دیا۔ آج وہ دنیا کی ہر بد نگاہی سے محفوظ ہیں اور انسانی وسائل کا بہترین عقلی استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ہم دونوں کو بدستور بلیم گیم سے فرصت نہیں ہے۔

الیکشن پارٹیاں ضرور جیتتی ہیں لیکن انہیں کامیابی از خود نہیں بلکہ انہی ووٹروں سے ملتی ہے جنہیں وہ سماجی، سیاسی اور مذہبی ٹھیکیداروں کے ذریعہ کہیں معلنہ تو کہیں غیر معلنہ طور پر ووٹ بینک کی طرح استعمال کرتی ہیں۔اقلیتی ووٹ بینک اور اکثریت کا ووٹ بینک دونوں اپنے ساتھ ملک کو بھی دیوالیہ کر دیں گے۔ اب تک جتنا خسارہ ہو گیا ہے وہی بہت ہے ہوش کے ناخن لینے کیلئے۔کورونا کے بریک نے سوچنے کی جو فرصت دی ہے اُسے عملاً کام میں لایا جائے۔ دونوں گھرانوں کے باشعور حلقے، ادارے اور صائب الرائے لوگوں کی مجالس پوری طرح فعال ہو جائیں اور گھر گھر جا کر ووٹروں کے اندرحقیقی سیکولرزم کے تئیں احساس ذمہ داری پیدا کریں ۔ انہیں سوشل میڈیا کی شرارتوں سے بھی آگاہ کریں اور بتائیں کہ ہرتشدد والا ویڈیو فرقہ وارانہ نہیں ہوتا، ہمارے سماج میں ناموس کیلئے بھی قتل کئے جاتے ہیں۔

وقت آگیا ہے کہ کانگریس کو سیکولر اور بی جے پی کو مذہبی سیاست کرنے والی پارٹی مان کر ایسی محاذ آرائی کا ما حول تیار نہ کیا جائے جائے جس سے سیاسی دھندے کرنے والے تو فائدہ اٹھا لیں ، دیش کا نقصان ہو جائے۔ محتاط طور پر دیکھا جائے تو موجودہ سیاسی منظر نامے میں بی جے پی نے کانگریس کی اُس آمریت کو اپنے انداز میں اپنا لیا ہے جس کی بنیاد اندرا گاندھی نے رکھی تھی۔محترمہ نے مضبوط اپوزیشن کی غیر موجودگی میں اکثریت کے ووٹوں کے انتشار کی کمی اقلیتی ووٹ بینک سے پوری کرنے کی وقتی چال کی کامیابیوں پر اتنا انحصار کیا کہ درون جماعت جمہوریت پسندوں کو گھٹن نے بیزار کر دیا اور باہر اپوزیشن جماعتیں صف بند ہوگئیں۔نتائج نے سیاسی عدم استحکام کا سفر اتنا لمبا کیا کہ بی جے پی اکثریت کے ووٹ بینک کے رُخ پر ماحول سازی کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

محدود مفادات کا کھیل نہ اکثریت کے لئے فائدہ مند ہے نہ اقلیت کیلئے۔اس تفہیم کیلئے فوری طور پر ایک غیر جذباتی پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔یہ ضرورت کیسے پوری ہوگی اس پر دونوں گھرانوں کے سماجی ذمہ داروں کو غور کرنا ہے۔ پی کی سیاست کا محور آج بھی رنگ اور نسل، ذات اور مذہب کے دم گھٹا کر رکھ دینے والے حصار میں ہے۔ایسے میں یہ ادراک ناگزیر ہے کہ بی جے پی سیکولرزم کی جن کمزوریوںکو کیش کرنے کا سلسلہ دراز سے دراز تر کرتی آئی ہے وہ دراصل سیکولرزم کی خامیاں نہیں بلکہ اس کے موقع پرستانہ استحصال کا نتیجہ ر ہیں۔فرقہ پرستی کے حوالے سے اکثر لوگ گھبراکر یا تنگ آکر کانگریس کا موازنہ بی جے پی سے کرنے لگتے تھے۔یہ معاملہ بالکل تنگ آمد بہ جنگ آمد جیسا ہوتا ہے۔ جذباتی ووٹروں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ماضی میں جرمنی کے کمیونسٹوں نے بھی ایسی ہی غلطی کی تھی اور نازیوں سے لاحق خطرے کو اہمیت نہ دیتے ہوئے سوشل ڈیموکرٹس کو نشانے پر لے رکھا تھا ۔ انجام کیا ہوا یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
Sanjeev Srivastava Kachori Controversy Debate
مضامین

بی بی سی نیوز کے انڈیا ہیڈ رہے سنجیو سریواستو کے کچوری کی دکان کھولنے پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟

24 فروری
Bhagwat Commentary Critical Analysis
مضامین

ملاحظات: بھاگوت بھٹکاؤ کی راہ پر

23 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Uttam Nagar Incident Jamiat News

اتم نگر واقعہ پر جمعیتہ آگے بڑھی، جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات، وزیر داخلہ کو مکتوب

Global Economy War Impact News

عالمی معیشت میں زلزلہ ،نکل گئی ہیکڑی امن کی بات کرنے لگے ٹرمپ، اسرائیل کا بھی دم نکلنے لگا

Maulana Abdullah Saleem FIR News

مولانا عبداللہ سلیم کے خلاف 83 تھانوں میں FIR, کبھی بھی گرفتاری ممکن,یہ ہے معاملہ

Muslim Women Equal Rights News

مسلم خواتین کو مساوی حق پر سپریم کورٹ:”ایک راستہ یونیفارم سول کوڈ بھی ہے”:

Uttam Nagar Incident Jamiat News

اتم نگر واقعہ پر جمعیتہ آگے بڑھی، جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات، وزیر داخلہ کو مکتوب

مارچ 10, 2026
Global Economy War Impact News

عالمی معیشت میں زلزلہ ،نکل گئی ہیکڑی امن کی بات کرنے لگے ٹرمپ، اسرائیل کا بھی دم نکلنے لگا

مارچ 10, 2026
Maulana Abdullah Saleem FIR News

مولانا عبداللہ سلیم کے خلاف 83 تھانوں میں FIR, کبھی بھی گرفتاری ممکن,یہ ہے معاملہ

مارچ 10, 2026
Muslim Women Equal Rights News

مسلم خواتین کو مساوی حق پر سپریم کورٹ:”ایک راستہ یونیفارم سول کوڈ بھی ہے”:

مارچ 10, 2026

حالیہ خبریں

Uttam Nagar Incident Jamiat News

اتم نگر واقعہ پر جمعیتہ آگے بڑھی، جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات، وزیر داخلہ کو مکتوب

مارچ 10, 2026
Global Economy War Impact News

عالمی معیشت میں زلزلہ ،نکل گئی ہیکڑی امن کی بات کرنے لگے ٹرمپ، اسرائیل کا بھی دم نکلنے لگا

مارچ 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN